قیصر عباس صابرکالملکھاری

حسینؑ دیکھ رہے تھے ذرا بجھا کے چراغ : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

10محرم الحرام 61ہجری کو رونما ہونے والا تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کا واقعہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ تھا جو صبر اور جبر کے درمیان دائمی لکیر کھینچ گیا۔جنگ کربلا کےلئے محرم الحرام کے مہینے اور شہادتوں کےلئے 10تاریخ کا انتخاب کوئی انسانی فیصلہ نہ تھا بلکہ یہ تسلسل حضرت آدم ؑ سے حضرت امام حسینؑ تک پہنچا۔ حضرت آدمؑ سے پہلے آسمانوں ، زمین ، پہاڑوں اور سمندروں کو بھی عاشور کے روز تخلیق کیا گیا۔ لوح و قلم بھی اسی روز بنائے گئے ۔ حضرت آدمؑ یو م عاشورکو پیدا ہوئے اور اسی روز جنت میں داخل کیے گئے۔ حضرت ابراہیم ؑ بھی دس محرم الحرام کو پیدا ہوئے اور اسی تاریخ کو فرعون کو دریائے نیل میں غرق کیا گیا ۔ حضرت ایوب ؑ کی تکلیف کا خاتمہ ، حضرت داﺅدؑ کی شفایابی، حضرت آدمؑ کی توبہ اور حضرت عیسیؑ کی پیدائش کےلئے دس محرم کا ہی انتخاب کیا گیا۔
دس محرم الحرام کے روز ہونے والے واقعات حضرت ادریس ؑ کو بلند مرتبے پر فائز کرنا، حضرت ابراہیمؑ پر آگ کا گلزار ہونا ، حضرت نوحؑ کو کشتی سے اتارنا، حضرت موسیؑ پر تورات کا نزول ، حضرت یوسفؑ کی قید سے رہائی اور حضرت یونسؑ کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا تاریخی تسلسل کے بعد یہ دن حضرت امام حسینؑ کے نام سے منسوب ہوگیا۔ بقول علامہ اقبال:۔
غریب وسادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین ؑابتدا ہے اسماعیل ؑ


حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے وقت نبی زادے کا بچ جانا اور ان کی جگہ دنبے کا ذبح ہوجانا واقعہ کربلا کی ابتدا بناکہ وہی قربانی حضرت محمد کے نواسے امام حسینؑ کی شکل میں لی گئی۔ یوم عاشور جبر اور بربریت کے خلاف احتجاج کا دن ہے۔ لاکھوں کی فوج کے سامنے ڈٹ جانے والے حسین ابن علی نے اپنے خلاف ریاستی فضا کو محسوس کرتے ہوئے حج کو عمرے میں تبدیل کرکے ، باندھے ہوئے احرام کھول کر اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو لیے اپنے نانا حضرت محمد کے اس شہر کو چھوڑ دیاجو ان کا اپنا شہر تھا اور اس شہر کی گلیوں اور لوگوں نے انہیں اپنے نانا حضرت محمد کی مہر نبوت پر بیٹھ کر زلفوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اما م Cاس شہر کو چھوڑ رہے تھے جہاں ان کے لئے کپڑے جنت سے حضرت جبرائیل لے کر آئے تھے اور دروازہ بتول پر اپنا تعارف حسنین کے درزی کے طور پر کروایا تھامگر اب وہ اپنے نانا کے مقدس شہر کو خون آلود نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اپنے ساتھ عورتوں اور بچوں کو لیے صحراﺅں کی طرف روانہ ہوئے۔


عراق کے ریتلے ٹیلوں میں خیمے نصب کیے تو یزید کی فوج کا جرنیل حر امام حسین سے آن ملا اور معافی طلب کی اور پھر ایسی معافی ملی کہ جنگ کربلا کے پہلے شہید کا اعزاز پایا۔ چھ ماہ کی عمر کے بچوں پر پانی بند کردیا گیا ۔ شہنشاہِ وفا حضرت عباس علمدار کو دریائے فرات سے پانی لانے کے جرم میں بازوﺅں سے محروم کردیا گیا اور حضرت عباس کے بازوﺅں کے کٹ جانے کے ساتھ ہی حضرت بی بی سکینہ اور حضرت علی اصغر کی پانی پینے کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ چھ ماہ کے پیاسے شیر خوار حضرت علی اصغر نے صبر اور استقامت کے امتحان میں امام حسین ؑ کا دس محرم کی سہ پہر تک ساتھ دیا اور حرمل کے وزنی تیر کے جواب میں مسکرا کر جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کربلا کی جنگ کو سیاسی جنگ ثابت کرنے والے مورخ صرف علی اصغر کی پیاسی شہادت کے سامنے لاجواب ہوئے کہ عرب کی روایات میں جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا مگرحضرت علی اصغر کو پانی کے جواب میں ایسا تیر مارا گیا جس کا وزن ان کے وزن سے کئی گنا زیادہ تھا اور یہی تیر یزیدی مورخین کے متعصب قلم کے سامنے تاحشر رکاوٹ رہے گا۔
امام حسین ؑ نے شب عاشور دوستوں ، ساتھیوں اور رشتے داروں کو جمع کیا اور حضرت عباس کو چراغ بجھانے کا حکم دیا اور چراغ بجھتے ہی فرمایا کہ میں فرزندِ فاطمہ ؑ اور نواسہ رسول ہوں اور میں تمہاری جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ کل صبح کے ساتھ ہم سب نے شہید ہوجانا ہے اگر کوئی یہاں سے جانا چاہے تو جاسکتاہے۔ مگر امام حسین کا کوئی ساتھی بھی کربلا کے میدان سے انہیں چھوڑ کر نہیں گیا۔
حسین ؑدیکھ رہے تھے ذرا بجھا کے چراغ
کہیں بجھے تو نہیں دشت میں وفا کے چراغ


جنگ کے دوران بھی امام حسین یزیدی فوج کے سالاروں کو یاد دلاتے رہے کہ یاد کرو کہ تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺمجھے مہر نبوت پر بٹھا کر کھلاتے تھے ،میں وہی حسین ہوں جس کی گردن اور لبوں پر رسول اللہ ﷺ بوسے دیتے تھے مگر جواب ملتا کہ حسین اس وقت کو بھول جاﺅ اب زمانہ بدل چکا ہے۔”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں“ کی حدیث کے گواہ بھی تیر اور تلواریں اٹھائے نواسہ رسول کے قتل پر تلے تھے۔ حضرت علی اکبر اورحضرت علی اصغر جیسے فرزندان کی شہادتوں کے بعد تیروں سے چھلنی امام حسین ؑ جب گھوڑے سے گرے تو زینب بنت علی نے خیمے سے یہ منظر دیکھتے ہی آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے کاندھوں پر آنے والی ذمہ داری کو قبول فرمایا ۔خاندان رسول اور ان کے احباب کی شہادتوں کے بعد جب حضرت سکینہ اپنے بابا امام حسین کی لاش کے قریب آئیں تو کس بربریت سے معصومہ کے منہ پر طمانچے مارے گئے۔ خیموں کو آگ لگا کر خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا ۔ نیزے پر امام حسین کے سر کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا تو جبر اور قہر خود اپنی موت مار ا گیاکہ ریاستی باغی کا نام دے کر کربلا کے میدان میں حسین ابن علی کو قتل کرنے والے اس معجزے کے سامنے بے بس نظر آئے ۔ دربار یزید میں حضرت زینب بنت علی کی حاضری اور خطبات تاریخ کا وہ حصہ ہیں جس نے حسین کو باغی سے نمازی ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
کسی سے اب کوئی بیعت طلب نہیں کرتا
کہ اہل تخت کے ذہنوں میں ڈر حسین کا ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker