قمر بخاریلکھاریمزاح

مقبول دیانت دار اور ماہ رمضان ۔۔ قمر بخاری

مقبول دیانتدار ہمارے محلے کا ایک ایسا کردار ہے جو تمام تر شخصی خامیوں کے باوجود دیانتداری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ میں اسے بچپن سے جانتا ہوں، وہ شروع سے ہی دیانتداری میں بھرپور شہرت رکھتا تھا۔ جب اسے سکول میں داخل کرایا گیا تو اساتذہ نے اس کی دیانتداری کو دیکھتے ہوئے اسے مقبول احمد کی بجائے مقبول دیانتدار کا لقب دے دیا۔ محلے کے بڑے بوڑھے اسے اسی نام سے مخاطب کرنے لگے۔ مقبول کا کہنا تھا کہ انسان خطا کا پتلا ہے لہٰذا اسے پتلے پتلے انداز میں ہلکی پھلکی خطا کرتے رہنا چاہیے تاکہ گاہے بگاہے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور توبہ کرنے کا جواز موجود رہے(کئی بار تو لوگ اس کی حرکتوں کو دیکھ کر توبہ توبہ کر اٹھتے تھے)۔ مقبول دیانتدار جب تعلیمی مراحل طے کر رہا تھا تو پوزیشن حاصل کرنے کے لئے نقل کا سہارا لینے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کسی بڑے مقصد کے لئے چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ چونکہ دیانتدار تھا لہٰذا پوری دیانتداری کے ساتھ نقل کرنے کا اہتمام کر لیا کرتا تھا لیکن مجال ہے کہ اپنی کلاس کے کسی اور نوجوان کو بوٹی لگانے یا چیٹنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ میں آنے دے۔ ادھر کسی نے بوٹی لگانے کی کوشش کی ادھر مقبول دیانتدار کے اندر کی دیانتداری انگڑائی لے کر جاگ اٹھتی تھی اور فوراً اساتذہ کو اس کی شکایت کرنے میں کسی قسم کی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیتا تھا۔ وہ چونکہ دیانتدار تھا اس لئے اساتذہ اس کے نقل شدہ پرچوں کو اصل پرچے کے طور پر دیکھتے تھے اور اسے بھرپور سخاوت سے نمبر دے دیا کرتے تھے۔ مقبول دیانتدار تعلیمی میدان میں اپنی انہی خوبیوں کے باعث ہمیشہ نمایاں رہا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو بھرپور پذیرائی ملا کرتی تھی اور دیانتدار ہونے کی وجہ سے اسے لوگوں کے گھروں میں مکمل رسائی حاصل تھی۔ مقبول دیانتدار اسی رسائی کے بہانے اپنی نوجوانی کے عرصے کو بھرپور انداز سے گزارتا رہا لیکن اس کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی کے گھر سے ایک پائی کی بھی بددیانتی کا مرتکب نہیں ہوا۔ تاہم اخلاقی بددیانتی کو وہ زیادہ معیوب نہیں سمجھتا تھا اس لئے جب کبھی اور جہاں کہیں اسے موقع ملتا وہ اسے غنیمت جان کر اس سے بھرپور فائدہ اٹھا لیا کرتا تھا۔ مقبول دیانتدار جب کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اس کے دل میں غریبوں کی مدد کا جذبہ جاگ اٹھا لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مدد کرنے کے مشن کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار رہا۔ اس کا حل اس نے یہ تلاش کیا کہ کرکٹ میچوں پر جواءکھیلنا شروع کر دیا۔ وہ چونکہ دیانتدار تھا لہٰذا جواریوں میں اس کی دیانت کے چرچے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ اسے جوئے کے دا ؤ پیچ پر عبور حاصل ہو گیا اور ایک کامیاب جواری کے طور پر اس کی ایک الگ پہچان بن گئی۔ مقبول دیانتدار نے یہ مقام حاصل کرنے کے باوجود دیانتداری کی روش ترک نہ کی اور جوئے میں کمائی ہوئی تمام رقم مستحق غریبوں میں تقسیم کرنے کا مشن جاری رکھا۔ مقبول دیانتدار کو بڑی اچھی ملازمت ملی، وہ اپنی دیانتداری کی وجہ سے بہت تیزی سے ترقی کرتا چلا گیا لیکن وہ اپنے محسن افسران کو تحفے تحائف دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتاتھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ ایکسیئن کے عہدے پر فائز تھا تو رمضان کے مہینے میں حسب معمول اعتکاف کے لئے ایک مسجد میں گوشہ نشین ہو گیا۔ انسانی خدمت کا جذبہ اس کے اندر اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ مسجد کے دروازے سائلین کے لئے کھلے رکھتا تھا اور رات گئے تک لوگوں کے ناجائز کنکشنز سے لے کر میٹر ریورس کرنے کی سہولیات کی فراہمی کے لئے اپنی عبادت میں سے قیمتی وقت نکال لینے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ اس علاقے کے لوگ اسے اپنا مسیحا سمجھتے تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ ان کی آسانیوں کے لئے پوری دیانتداری کے ساتھ ان سے تعاون کیا کرتا تھا البتہ وہ سائلین سے اس ماہ مقدس میں نذرانہ لینا حرام سمجھتا تھا لیکن لوگ اس سے آنکھ بچا کر اس کے سامنے بچھی ہوئی چٹائی کے نیچے مطلوبہ نذرنیاز رکھ کر چلے جاتے تھے اور مقبول دیانتدار نے اس عرصہ کے دوران کبھی نذرانے میں ملنے والی رقم کو ہاتھ لگانا بھی مناسب نہ سمجھا لہٰذا دفتر کا نائب قاصد جو کہ ان کی طرح دیانتدار تھا ساری رقم اٹھا کر ایک تھیلے میں بند کرتا اور پوری دیانتداری کے ساتھ اپنا حصہ نکال کر ان کے گھر پہنچا دیا کرتا تھا۔ مقبول دیانتدار انتظامی لحاظ سے کافی کمزور واقع ہوا تھا۔ اس کی ماتحت ٹیم رشوت خوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی لہٰذا اس سرکل میں ریونیو جمع ہونا کم ہوتا چلا گیا، لائن لاسز تمام سرکلز سے کئی گنا بڑھ گئے لیکن مقبول دیانتدار کی دیانتداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ وہ اکثر غیراخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتا تھا۔ لوگوں سے بدتمیزی کے ساتھ پیش آتا، گالم گلوچ کرتا، گریبان پکڑ کر تھپڑ مارتا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی اس کا رویہ انتہائی بدتمیزی پر مبنی تھا، کئی دفعہ بیوی کو گھر سے نکال دیا کرتا تھا لیکن تھا بہت دیانتدار اور مقبول دیانتدار کی دیانتداری کی ہر شخص گواہی دیتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ دیانتداری آپ کے تمام عیب چھپا لیا کرتی ہے لہٰذا بندے کو سب کچھ ہونا چاہیے مگر مالی طور پر کرپٹ نہیں ہونا چاہیے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker