ملتان : رشید ارشد سلیمی اور شریف ظفر نے نہ صرف یہ کہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیادپر اپنے اپنے شعبوں میںاپنا ایک مقام بنایا بلکہ ایمانداری ،محنت اور لگن کی روایات بھی قائم کیں۔
رشید ارشد سلیمی ملتان کی صحافت کا انتہائی معتبر حوالہ ہیں جبکہ شریف ظفرنے پولیس کے محکمے میں رہتے ہوئے اپنے اور اپنے ادارے کے لیے نیک نامی کمائی۔ ان خیالات کااظہار ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں سخن ور فورم کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ان کی سالگرہ کی تقریب میں کیاگیا۔تقریب کی صدارت ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے کی۔ صدر محفل نے کہاکہ رشید ارشد سلیمی نے ملتان میں اصول پسندی اور روشن خیال کو رائج کیا۔شریف ظفر نے کہاکہ مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے سلیمی صاحب کی بہت سی محبتیں حاصل کیں۔ انہوں نے کہاکہ قلم کے ساتھ اپنی وابستگی پرمجھے فخر ہے۔ رشید ارشد سلیمی نے کہاکہ زندگی کے اس سفر میں مجھے جو محبتیں حاصل ہوئیں وہی میرا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ملتان سے کم ازکم سات کھلاڑیوں کو قومی کرکٹ ٹیم میں متعارف کروایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ رشید ارشد سلیمی کو ملتان کی تاریخ محفوظ کرنی چاہیے۔ جبار مفتی نے کہاکہ ان دونوں ہستیوں کے دامن پر کوئی دھبہ نہیں۔ ڈاکٹر مختارظفر،مسیح اللہ جام پوری نے کہاکہ لوگوں کو ان کی زندگی میں پذیرائی دینا بہت اچھی بات ہے۔ علی سخن ور نے کہا یہ دونوں ہستیاں ملتان کا اثاثہ ہیں ۔ندیم شاہ اور ظفرآہیر نے کہاکہ رشید ارشد سلیمی ہمارے استادوں میں سے ہیں۔ رﺅف مان نے کہاکہ میں نے سلیمی صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔قمررضا شہزاد اور اکبر ہاشمی نے کہاکہ ادبی بیٹھک نے ملتان میں خوبصورت روایات قائم کیں۔جہانگیر ترین نے کہاکہ شریف ظفر نے ملتان میں ٹریفک کے نظام کوبہتربنایا۔زاہد حسین گردیزی نے کہاکہ سلیمی صاحب کامیرے والد قسور گردیزی کے ساتھ جومحبت بھرا تعلق تھا وہ میرے لیے اعزاز ہے۔ آج بھی وہ کئی مقامات پر میری رہنمائی کرتے ہیں۔ ناصرمحمودشیخ نے کہاکہ رشید ارشد سلیمی نے ملتان سے انضمام الحق کوقومی ٹیم میں متعارف کروایا۔شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی نے کہاکہ سلیمی صاحب ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔
تقریب میںشکیل الرحمٰن حر ، اکمل وینس ، مہر عزیز ، رفیق قریشی ، سمیت معروف صحافیوں اور دانش وروں نے شرکت کی ۔ اس موقع پرسالگرہ کے کیک کاٹے گئے اور دونوں کو گلدستے پیش کیے گئے ۔
فیس بک کمینٹ

