اختصارئےجہان نسواں / فنون لطیفہ

تجدید و تسہیلِ خطاطی میں خطاط راشد سیال کا حصہ : محمد حسن کا اختصاریہ

ملتان کے معروف خطاط راشد سیال صاحب نے خطاطی پر دو کتب بنام ”خوش خط“ اور”خطِ راشد“ لکھی ہیں۔اپنی تصنیف خوش خط، انہوں نے خطِ نستعلیق کی تفہیم اور ابلاغ کے لئے لکھی ہے جس میں مفردات کا اجمالی ذکر اور قط کے مطابق پیمائش وغیرہ کا بیان ہے۔البتہ تسہیل کے لئے مفردات و مرکبات کی پٹیاں جس میزان میں لکھی گئی ہیں وہ اوپر سے نیچے تین دو ایک کا میزان ہے۔
(نوٹ: بعض خطاط تین اڑھائی اڑھائی اور بعض تین دو تین کے میزان میں بھی لکھتے ہیں.)
آپ کی دوسری تصنیف خطِ راشد دو نئے خطوط ”خطِ راشد“ اور ”خطِ راشد القلم“ پر مشتمل ہے۔۔ان دونوں خطوط کے موجد راشد سیال ہی ہیں ۔۔آپ نے نہ صرف پٹیاں لکھی ہیں بلکہ قواعد کے مطابق میزان مقرر کرکے ان پر قط کے حساب سے حروف کی پیمائش بھی کردی ہے۔
( نوٹ:خطوط کی ایجاد کے حوالے سے نستعلیق نویسوں میں ایسے جزئیات زیرِ بحث رہتی ہیں کہ بیچارا قاری پریشان ہوجاتا ہے کہ آیا کسی نے خط ایجاد کیا بھی ہے یا نہیں…
۔۔!!؟!؟؟ مثال یہ ہے کہ بعض احباب تو موجدِ طرزِ جدید جناب پرویں رقم کو نستعلیق لاہوری (پاکستانی) کا موجد کہنے اور ماننے میں تأمل سے کام لیتے ہیں..لیکن اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہئیے۔ کیونکہ مؤلفِ مرقع خوشنویساں نے لکھا ہے کہ ابو الفضل علامی جناب میر علی تبریزی کے موجدِ نستعلیق ہونے کا انکار کرتا تھا۔۔حالانکہ میر صاحب کا موجد ِ نستعلیق ہونا تواتر اور مشہور روایات سے ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔
یہی بات اس سے قبل کے ایک مأخذ ”مراۃ العالم منسوب بہ بختاور خان متوفیٰ1096 ھ“ میں لکھی ہے کہ متأخرین نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ موجدِ نستعلیق جناب میر علی تبریزی تھے۔۔جس پر اضافے کیساتھ 1154ھ میں خوشحال چند نے ”تاریخ محمد شاہی عرف نادر الزمانی“ میں انکار کرنیوالے کا نام ابو الفضل علامی لکھا ہے۔
لہذا اگر اُس زمانہ میں جنابِ میر علی تبریزی کے حق میں کوئی شخص عدمِ ایجاد ِ نستعلیق کا بیان دے سکتا ہے تو فی زمانہ جنابِ پرویں رقم کے متعلق ایسی راۓ رکھنا ایک محتاط توقع کے مطابق بعید نہیں۔۔
البتہ۔۔۔
خطِ تعلیق سے لیکر۔۔نستعلیق۔۔۔اور پھر نستعلیق لاہوری تک مختلف نمونہِ خط اور کتبات کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے والے ، جناب میر علی تبریزی و جناب پرویں رقم کی عظمت کا اعتراف بجا لاتے ہوۓ ان کے حق میں ایجاد کا دعویٰ تسلیم کرنے اور ماننے میں کسی بھی شبہ یا وسوسہ کا شکار نہیں ہوتے۔۔
(عاجز کچھ ایسا مضمون ترتیب دے رہا ہے جس میں ایجادِ نستعلیق سے نستعلیق لاہوری تک مختلف اساتذہ کے کام پر مشتمل مواد کو، نثری پیراۓ اور مشقی اشاروں کی تفصیل کیساتھ یکجا کرکے پیش کیا گیا ہو ۔۔تاکہ طرزِ پروینی کی خوبیوں اور نزاکتوں کو مزید گہری نظر سے دیکھا جاۓ اور اس سے لطف اندوز ہوا جا سکے.)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker