رضا علی عابدیکالملکھاری

دیکھا ہندوستان۔ اجمیر سے پشکر تک۔۔رضا علی عابدی

ہے تو عجیب سی بات مگر کہوں گا ضرور، آج کل کے مزاروں اور زیارت گاہوں پر جاتے ہوئے دل گھبراتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں سکون ملتا ہے۔ ضرور ملتا ہوگا، وہ جائیں اور شوق سے جائیں مگر مجھے زیارت گاہیں نہیں، ان پر ہونے والی تجارت ستاتی ہے۔ اجمیر شریف گیا تو یہ احساس میرے ساتھ چلا کہ یہاں تک آکر سلام بھی نہ کیا تو شرم کی بات ہوگی۔ یہ سوچ کر جمعہ کی دوپہر ہمت باندھی اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒکی درگاہ پر حاضر ہوگیا۔ اکبر بادشاہ ہر سال پیدل چل کر اس مزار پر حاضری دیتا تھا کیونکہ یہیں کہیں کسی کی دعا لگی تھی اور اسے بیٹا نصیب ہوا تھا۔ درگاہ کا وہی منظر تھا جو اب تمام بڑی زیارت گاہوں کا ہوتا ہے۔ عمارتوں پر عمارتیں اور تمناؤں اور آرزؤں کے مارے ہوئے حاجت مندوں کا بےپناہ ہجوم۔ ہم پہنچے تو اذان ہو رہی تھی اور مزار کے احاطے میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ہمیں درگاہ کے ایک بزرگ خادم کی آرام گاہ میں جگہ ملی جنہوں نے ہمارا بہت خیال رکھا اور یہ دل چسپ رائے دی کہ اگر آپ مقبرے کے اندر نہ جا سکیں تو فاصلے سے ’فلائنگ کِس‘ اڑتا ہوا بوسہ تو بھیج سکتے ہیں۔


یہی ہوا، میری بیٹی رضوانہ نے ان گلیوں میں بچپن گزارا تھا، اس نے بہت کوشش کی کہ پُر پیچ راستوں پر چل کر خواجہ صاحب کی قبر کو ہاتھ لگا آئیں۔ نماز کے بعد یہی ہاتھ لگانے والوں کا اتنا اژدھام ہو گیا کہ ہمیں پرواز کرنے والے اُسی بوسے پر قناعت کرنا پڑی۔ اب وہاں سے نکل کر اس جگہ جانا تھا جہاں ہماری کار کھڑی تھی۔ معلوم ہوا کہ گلیوں کے اندر تنگ گلیاں اور ان کے اندر تاریک گلیوں نے اور پچاس پچاس گز کی زمین پر کھڑی کی جانے والی چھ چھ منزلہ عمارتوں نے پورے علاقے کو یوں ڈھانپ لیا تھا کہ وہاں موبائل ٹیلی فون کے سگنل آنا بند ہو گئے۔ بہت چلے تو زائرین کے اور ان سے بڑھ کر سائلین کے مجمع سے باہر نکلے اور کچھ دیر بعد دھوپ دیکھنا نصیب ہوئی۔ اس زیارت گاہ پر میں سنہ بیاسی میں بھی حاضر ہوا تھا۔ اس وقت میں باآسانی خواجہ اجمیرؒ کی قبر تک پہنچ گیا جو یقیناً ظاہری قبر رہی ہوگی۔ قبر کے سرہانے بڑا سا سوراخ کیا گیا تھا اور زائرین اس سوراخ کے راستے اپنا چڑھاوا اندر ڈال رہے تھے۔ ایک خادم وہیں بیٹھا سوراخ میں رقم ڈالنے والوں کی کلائی پکڑ کر سوراخ میں داخل کرتا تھا اور نوٹ چھوٹا یا رقم کم ہو تو شرم دلایا کرتا تھا کہ بس؟ صرف پانچ روپے؟ بعد میں کسی نے بتایا کہ عرس کے دنوں میں تو قبر کے تہہ خانے میں ایک آدمی کھڑا ہوا کرتا تھا جو اندر ہاتھ ڈالنے والے کی انگوٹھی، گھڑی یا زیور اتار لیا کرتا تھا۔ اس طرح کی درگاہوں پر سادہ لوح لوگوں کے لوٹے جانے کا قصہ شاید صدیوں سے جاری ہے۔ یہ لوگ جو خدّام کہلاتے ہیں، عام لوگوں کو زیارت کرانے کے نام پران پر قبضہ کر لیتے ہیں اور جب تک ان کی جیبیں ہلکی نہ ہوجائیں، خدمت کے کمال دکھاتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں سے مجھے شکایت ہے کہ اپنے مقدس مقامات کو سنوار کر نہیں رکھتے، ہر طرف غلاظت اور جا بجا نجاست، اس مقام کا سارا احترام خاک میں مل جاتا ہے پھر مانگنے والوں کی فوج چڑھائی کر دیتی ہے جس کا پھیلا ہوا ہاتھ پھر ہم نے پسپا ہوتے نہیں دیکھا۔ چڑھاوے پر چڑھاوے چڑھتے تو دیکھے پر پھر وہ کہاں گم ہو جاتے ہیں، کچھ خبر نہیں۔ کچھ لوگوں کے کرتوں میں لگے سیپ کے بٹن ایک روز چاندی کے اور پھر سونے کے بن جاتے ہیں۔ سچ ہے، یہاں کی زمین سے تو معجزے پھوٹتے ہیں۔


مگر کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو اجمیر کی زمین سے علم کے سوتے بھی پھوٹتے ہیں۔ میں نے شہر میں ایسی سڑکیں دیکھیں جن پر دو رویہ تعلیمی ادارے قطار باندھے کھڑے تھے۔ اتنی چھوٹی سی جگہ اتنے پلے گروپ، اتنے اسکول، اتنے کالج اور اتنی یونیورسٹیاں میں نے بہاول پور کے سوا کہیں اور نہیں دیکھیں۔ آدمی اجمیر جائے اور اراولی کے پہاڑوں میں کٹے ہوئے درّوں کو پار کرکے پُشکر نہ جائے ممکن ہی نہیں۔ پرانے اجمیر کا نام اجے میرو تھا یعنی ناقابل تسخیر پہاڑ۔ ان ہی پہاڑوں نے شہر کو گھیر رکھا ہے۔ ان کی چوٹی پر تارا گڑھ کا قلعہ ہے جسے چوہان بادشاہوں نے بنایا تھا۔ ان پُر پیچ درّوں سے گزرتے ہوئے شہر پُشکر نظر آنے لگا، اس کی سمندر جیسی جھیل دکھائی دینے لگی جس کی جڑواں جھیل راج کٹاس پاکستان میں ہے۔ ہندو انہیں بہت مقدس مانتے ہیں۔ اس کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو پتا چلا کہ دنیا بھر کے سیاح یہاں کیوں آتے ہیں۔ یہاں چودہویں صدی کا شاندار برہما مندر سر اٹھائے کھڑا ہے۔ عقیدت مند اس کے آگے سیس نوا کر برہما جی کی پوجا کرتے ہیں۔ مجھے ہوائی سفر کے دوران ملنے والی وہ امریکی خاتون یاد آئیں جو اپنے ملک سے چل کر ہندوستان کے شہر حیدرآباد دکن جارہی تھیں،


کوئی پوچھے بھلا کیوں۔ وہاں لارڈ گنیش کا کوئی بہت بڑا مجسمہ ہے، اُسے دیکھنے۔ ہم نے پشکر کے بارے میں کم لیکن اس کے اونٹوں اور مویشیوں کے سالانہ کارتک میلے کے متعلق بہت سنا تھا۔ وہ تو دو دن کا میلہ ہوتا ہے، پھر ہم نے سفید فام سیاح دیکھے جو تپتی دھوپ میں مارے مارے پھر رہے تھے، اندازہ ہوا کہ وہ سارے کے سارے علاقے کے مندر دیکھنے آئے تھے۔ تب ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے پرانے مندروں کو سنوارا اور نکھارا جارہا تھا۔ پھر ہمیں اندازہ ہوا کہ مندر کا حسن پوجا سے نہیں، پجاریوں سے ہے۔ ہم ایک گھاٹ پر پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھ گئے۔ آس پاس لوگ تو بہت تھے لیکن ان میں کوئی بھکاری نہیں تھا۔ ایک بڑے میاں اپنے اکتارے پر کوئی دھارمک طرز بجا رہے تھے، ہمیں دیکھ کر فلمی طرزیں بجانے لگے۔ طرزیں سمجھ میں آئیں تو ہم نے چند روپے دئیے ورنہ وہ تمام زیارت گاہوں کے برعکس منہ سے نہیں مانگ رہے تھے۔ کچھ مقامی عورتیں ٹولی بنائے بیٹھی تھیں اور دنیا زمانے سے بےخبر باتیں کئے جارہی تھیں، جس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، یہاں تک کہ وہ گھاٹ کے کبوتروں کو کھلانے کے لئے فروخت کرنے کے خیال سے دانے دنکے کا جو تھیلا لائی تھیں کبوتر اس میں نقب لگا کر دانہ چگنے لگے۔ ان منظروں سے جی نہ بہلے تو اونٹوں پر بٹھا کر ریگستانوں کی سیر بھی کرائی جاتی ہے جن کی ریت سنا ہے بہت باریک ہوتی ہے جس میں اونٹ ہی ایسا جانور ہے جس کے پاؤں نہیں دھنستے، مقصد ایک ہی ہے، کسی بھی بہانے آئیں۔ آئیں اور آکر پیسہ خرچ کریں۔ (جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker