رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالم

سخن ور فورم کا پھیلاؤ ، ادبی بیٹھک کی سالگرہ ، اور فوٹو مافیا ۔۔ رضی الدین رضی

فروری کا دوسرا ہفتہ ہرسال ادبی بیٹھک کی سالگرہ کا ہفتہ ہوتا ہے۔12فروری 2010ءکو قائم ہو نے والی ملتان آرٹس کونسل کی اس ادبی بیٹھک کااہتمام سخن ورفورم کرتا ہے۔سخن ور فورم کا قیام تو کئی برس پہلے عمل میں آیا تھا لیکن ادبی بیٹھک قائم ہونے کے بعد یہ فورم لوگوں کو زیادہ متحرک دکھائی دیا۔ہرسال ادبی بیٹھک کی سالگرہ کے موقع پر کوئی نہ کوئی دوست اس بیٹھک کے حوالے سے مضمون تحریر کرتاتھا، لیکن اس مرتبہ جی چاہا کہ ادبی بیٹھک کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر فورم کے بانی کی حیثیت سے ہم خود کچھ معروضات دوستوں کی خدمت میں پیش کریں۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ادبی بٹیھک اورسخن ورفورم میں کئی اتار چڑھاﺅ آئے اور یہ ایک فطری بات بھی ہے۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں ادبی بیٹھک اور سخن ور فورم کی تقریبات تعطل کا شکار نہیں ہوئیں ۔ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں بھی اس دوران (ملتان آرٹس کونسل کی تزئین وآرائش والے عرصے اور رمضان المبارک کے علاوہ )کوئی ناغہ نہ ہوا۔گزشتہ آٹھ برسوں کے د وران ملتان آرٹس کونسل میں 280ادبی بیٹھکیں منعقد ہوئیں اور آج جب ہم نویں برس میں داخل ہوئے ہیں تو281ویں ادبی بیٹھک منعقد ہورہی ہے ۔
گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران بعض دوست سخن ورفورم سے الگ بھی ہوئے ان میں کچھ ایسے دوست بھی شامل ہیں جنہیں متعارف ہی سخن ورفورم اور ادبی بیٹھک نے کرایاتھا۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ سب لوگ جن کی پہلی پہچان سخن ور فورم اور ادبی بیٹھک تھی اب اپنی نئی پہچان بھی بنارہے ہیں اوران کاشعری وادبی سفرکامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ہم ان کے لیے ہمیشہ دعاگو رہتے ہیں۔ جو ہم سے الگ ہوگئے شاید ہم ان کی توقعات پر پورا نہیں اترے تھے یا شاید ان کی رفتار ہم سے زیادہ تھی اور وہ تیزی سے سفر کرناچاہتے تھے۔ لیکن جو نئے لوگ ان کے بعد اس قافلے میں شامل ہوئے وہ بھی تو سخن ورفورم میں رہتے ہوئے اپنی پہچان بناچکے ہیں اور بہت ثابت قدمی کے ساتھ ادبی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان میں پہلا نام قیصر عمران مگسی کا ہے۔ قیصر عمران مگسی کے علاوہ جن نوجوانوں نے گزشتہ دوبرس کے دوران سخن ورفورم کے پلیٹ فارم سے اپنی پہچان بنائی ان میں عمارغضنفر ،صہیب اقبال، ا فتخارکاظم، قیصر عباس صابر اورشہزاد عمران خان کے نام سرفہرست ہیں۔عمار غضنفر بہت خوبصورت شاعر اور بہت اچھے کالم نگار ہیں۔ صہیب اقبال اورشہزاد عمران خان بنیادی طورپر صحافی ہیں لیکن کالم اوراختصاریے کے میدان میں تیزی سے اپنی پہچان بنارہے ہیں۔ قیصر عباس صابرسفر نامے اورافتخار کاظم شاعری کے نئے جہان دریافت کرنے میں مصروف ہیں۔دو اورنوجوان ایسے ہیں جن سے مستقبل میں بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ عدیل الرحمن اور فضاءشہوارنے اگر نظم اورغزل میں سنجیدگی کے ساتھ طبع آزمائی جاری رکھی توآنے والے برسوں میں یہ دونوں بھی اس خطے کی شاعری کا اہم نام ہوں گے۔ان کے علاوہ توقیر عباس توقیر،محمد عثمان ،عدنان اسلم ،اسد عباس،محمد ثمر ،عابد غازل اوربہت سے دوسرے لوگ بھی گزشتہ چند برسوں سے ادبی بیٹھک اورسخن ورفورم کا حصہ بن چکے ہیں۔
سخن ور فورم کا یہ پھیلاﺅ اس وقت شاید کچھ لوگوں کو دکھائی نہ دے رہا ہو لیکن آنے والے برسوں میں ملتان اور سرائیکی خطے کے شعر وادب پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔اس فورم نے بعض نئی روایات کا آغاز کیا اور اب جبکہ یہ روایات مستحکم ہوگئی ہیں ہم ان میں سے بعض روایتی کاموں سے دستبردارہورہے ہیں۔ آپ ہرسال ادبی بیٹھک کی سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہوتے رہے۔اس موقع پر ہم ہرسال ادبی بیٹھک میں کیک کاٹتے تھے اور دوست سخن ورفورم کے عہدیداروں کے لیے پھول لے کر آتے تھے۔ اس مرتبہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اب کیک والی خودنمائی بھی نہیں کی جائے گی کہ ایسے بہت سے کاموں کے لیے ملتان میں اب ادب کا موم بتی مافیا بھی متحرک ہوچکا ہے۔سو ہم نے یہ کام ان کے لیے چھوڑ دیئے ہیں۔ صرف یہی نہیں گزشتہ دوسال سے ہم ادبی بیٹھک کی خبروں اور تصاویر کی اشاعت کا اہتمام بھی نہیں کررہے۔ آ پ کو یاد ہوگا کہ ایک طویل عرصہ تک ہر جمعہ کو ادبی بیٹھک کی تصاویر اور خبریں اخبارات کو ارسال کی جاتی تھیں۔پریس فوٹوگرافرعقیل چوہدری نے بہت محبت کے ساتھ بیٹھک کے لیے خدمات سرانجام دیں۔اس کامقصد صرف یہ تھا کہ ادبی بیٹھک کی تصاویر اور خبریں اخبارات کے ذریعے لوگوں تک پہنچیں اور نئے لوگ بھی بیٹھک کی جانب متوجہ ہوں۔پھرایک مرحلے پر ہم نے محسوس کیا کہ ہمیں اورادبی بیٹھک کو اب پریس کوریج کی ضرورت نہیں رہی۔ بیٹھک کی تصاویر اور ویڈیوز اب بہت سے دوست فیس بک پر لگا دیتے ہیں۔اخبارات کو ہم نے زحمت دینا چھوڑ دی ہے۔تاہم بہت سے اخبارات اور چینل ہماری تقریبات کی از خودکوریج کرتے ہیں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔
گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران تقریبات کے تسلسل نے ہمیں بیٹھک کے ہفتہ وار دعوت ناموں سے بھی بے نیاز کردیا۔اب چند ماہ سے ادبی بیٹھک کا باضابطہ دعوت نامہ بھی جاری نہیں کیاجاتا ۔دوستوں کو معلوم ہے کہ ادبی بیٹھک ہرجمعرات کو مغرب کی نماز کے بعد ملتان آرٹس کونسل میں منعقد ہوتی ہے۔سو تمام دوست دعوت نامہ کا انتظار کئے بغیر بیٹھک میں پہنچ جاتے ہیں۔ہاں پرو گرام کا شیڈول وسیم ممتاز ، نوازش علی ندیم ،شاکر حسین شاکر ، سہیل عابدی، ضیاءثاقب بخاری،قیصر مگسی میں سے کوئی بھی دوست سب کو ارسال کردیتاہے۔یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ جس کا ادبی بیٹھک کے آغاز پر ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔آخری بات یہ ہے کہ سخن ور فورم نے تقریبات کو کبھی بھی مالی منعفت کا ذریعہ نہیں بنایا ۔ہم نے ادبی بیٹھک یا ملتان ٹی ہاﺅس میں سخن ورفورم کی تقریبات کے لئے کبھی بھی کسی سے مالی تعاون حاصل نہیں کیا۔بعض صنعت کاروں اور اداروں کی جانب سے ہمیں بارہا یہ پیش کش کی گئی کہ ہم ادبی بیٹھک یا دیگرتقریبات کے لیے ان کی معاونت حاصل کرلیں لیکن فورم کے عہدیداروں نے شکریئے کے ساتھ ان سے معذرت کر لی ۔ یہ سب کامیابیاں دوستوں کی محبتوں کے طفیل حاصل ہوئیں۔ ادبی بیٹھک اور سخن ور فورم کا سفر دوستوں کی رفاقت میں آنے والے برسوں کے دوران بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا،

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker