رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 1 ) ۔۔ رضی الدین رضی

چہار چیز است تحفہ ملتان

1986ءمیں جب محترم رفیق ڈوگر نے لاہور سے ہفت روزہ ”دید شنید“کا آغاز کیا اور مجھے اس میں ملتان کی ہفتہ وار ادبی ڈائری تحریرکرنے کی دعوت دی تو میں ان دنوں لاہور میں ہی مقیم تھا۔لاہور میں بیٹھ کر ملتان کی ادبی سرگرمیوں کی روداد قلمبند کرنا کوئی آسان نہ تھا۔حل اس کا یہ نکالا کہ میں ادبی ڈائری نہیں کالم تحریر کروں گا اور اس کالم میں ادبی سرگرمیوں کا احوال بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ادبی مسائل ، تنازعات،گروہ بندیوں اور نئی کتب کا تذکرہ بھی کیا جائے گا۔رفیق ڈوگرصاحب کی خواہش تھی کہ یہ کالم کسی لگی لپٹی کے بغیر تحریر کیا جانا چاہئے اور اس میں” سب اچھاہے“والا وہ منافقانہ انداز نہیں ہونا چاہئے جو اس وقت کتابوں کی تعارفی تقریبات کے ذریعے ادبی حلقوں میں رائج ہو رہا تھا۔

بابا ہوٹل والا ہوتل بابا اور ڈاکٹر انور سدید



ڈاکٹر انور سدید نے اس کالم کے لئے میرا قلمی نام ”ہوتل بابا“تجویز کیا جو بابا ہوٹل سے مشتق تھا کہ بابا ہوٹل ان دنوں ملتان کی ادبی سیاست اور سرگرمیوں کا محور ومرکز ہوا کرتا تھا اور شہر کی ادبی سرگرمیوں اور تنازعات کے سوتے یہیں سے پھوٹتے تھے۔کالم کا نام میں نے ”تحفہ ملتان“رکھا ۔ شاکر حسین شاکر ان دنوں سعودی عرب کی ریت چھان رہا تھابلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ سعودی عرب کی ریت سے سونا تلاش کرنے کی سعی کر رہا تھا۔شاکر مقیم تو حجازِ مقدس میں تھا وہ مدینہ منورہ کی زیارت کو بھی جاتالیکن دل اس کا بدستور مدینةالاولیاءمیں اٹکا تھا۔ وہ ملتان اور ملتان والوں کے ہجر میں ہر دوسرے تیسرے روز میرے نام ایک طویل خط تحریر کرتا اور جوابی خط میں مجھے اس کے تمام سوالات کے جواب دینا ہوتے تھے ۔کون کیا کر رہا ہے ؟ملتان میں کون سی تقریب ہوئی ؟کس کی کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے اور کس کی شائع ہو گئی ؟کس کا کس کے ساتھ جھگڑا ہوا ور کس کی صلح ہوگئی ؟یہ سب احوال میں شاکر کو پہلے اپنے خطوط کے ذریعے بیان کرتا تھا اب اس کالم کے ذریعے مجھے یہ سہولت میسر آگئی کہ میں شاکر کے سوالات کی بنیادپر کالم تحریر کرتا اور اشاعت کے بعد اس کی ایک کاپی شاکر کو بھی ارسال کر دیتا۔

تحفہء ملتان ہے ملتان سے رومان



1986ءمیں اس کالم کو جب میں نے ”تحفہ ملتان“کا نام دیا توخود مجھے بھی اندازہ نہ تھا کہ اس کے ذریعے ملتان کے ساتھ میرے اور شاکر کے ایک نہ ختم ہونے والے رومان کا آغاز ہو رہا ہے۔میرے ذہن میں یہ سوال بھی نہ ابھرا کہ نا معلوم شاعر سے منسوب ”گردو گرما “والا یہ شعر جسے ظہیر الدین بابر کا شعر بھی کہا جاتا ہے کس زمانے میں کہا گیا تھا اور یہ کہ ”ملتان ما بہ جنتِ اعلیٰ برابراست“ سمیت ملتان کے حوالے سے شہرت پانے والے بہت سے اشعار کیا واقعی اتنے قدیم ہیں جتنا قدیم انہیں کتابوں میں بتایا گیا ہے۔
ـ( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker