رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 2 ) ۔۔ رضی الدین رضی

کیا ملتان سے متعلق اشعار واقعی صدیوں‌پرانے ہیں‌؟

ہمیں بہت بعد میں احساس ہوا کہ جس شعر سے ہم نے اپنے کالم کا نام اخذ کیا وہ شاید صدیوں پرانا شعر نہیں ۔یہ احساس اس وقت ہوا جب ہم نے 19ویں صدی کے اواخر کا وہ ڈاک ٹکٹ دیکھا جس پر ملتان کی بجائے ”مولتان“درج تھا۔ پھر محاصرہ ملتان کے بارے میں تحریر کی گئی JOHN JONES COLEکی کتاب THE SIEGE OF MOOLTANہماری نظر سے گزری اس میں بھی ملتان کو مولتان لکھا گیاتھا۔برطانوی دور میں تحریرکیے گئے ملتان کے گزٹیئرمیں بھی یہ نام مولتان ہی تھا۔ہم نے ملتان ریلوے سٹیشن کی 1911ءکی تصویر بھی دیکھی جس میں یہ نام ”مولتان“درج تھا ۔1986ءمیں تو یہ سوال ذہن میں نہیں آیا لیکن اب اس پر غور کر رہا ہوں اور اس کی کھوج میں بھی ہوں کہ اگر 20ویں صدی کے اوائل تک بھی ملتان” مولتان“ تھا(اور ظاہر ہے اس سے قبل یہ میسان مولی تان،مولی استھان یا مالی استھان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا )تو پھر صدیوں پہلے ملتان کے بارے میں یہ اور ایسے دوسرے اشعار کہنے والوں نے اسے ملتان کیوں کہا ؟اگر یہ اشعار اسی زمانے کے ہیں جس زمانے کا انہیں تاریخ کی کتابوں میں بتایا گیا ہے تو پھر شعرا کو ان اشعار میں ملتان کا وہی نام استعمال کرنا چاہئے تھا جو اس زمانے میں رائج تھا ۔اور اگر اشعار میں ملتان کا رائج نام استعمال ہوتا تو پھر ان کی صورت کچھ اور ہوتی ۔شاعری کو سمجھنے والے میری بات کو زیادہ بہتر سمجھ پائیں گے کہ مذکورہ اشعار میں اگر ملتان کی جگہ لفظ”مولتان“استعمال کیا جائے تو شعر وزن سے خارج ہو جاتا ہے ۔تو کیا کسی ملتانی نے محض شہر سے جوش محبت میں یہ اشعار کہہ کر قدیم شعرا سے منسوب کر دیئے اور اس کے نتیجے میں ایک تاریخی مغالطے نے جنم لیا ؟



تاریخ میں جگہ بنانے والے مغالطے

اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ زمانہ قدیم میں دیگر ناموں کے ساتھ ساتھ ملتان کا موجودہ نام بھی رائج رہا ہو۔ایک اور امکان کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ کہاوتیں اور ضرب الامثال جب زمانی اور جغرافیائی حدیں عبور کرتی ہیں تو ان میں نئے زمان و مکان کے تناظر میں تبدیلیاں بھی ہو جاتی ہیں، تو کیا ان اشعار کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضرورتِ شعری کی بجائے ضرورتِ زمانی یا ضرورتِ مکانی کے تحت تبدیل کر دیا گیا؟یہ اور ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا تحقیق کے لوگوں کو جواب تلاش کرنا چاہئے اور ان مغالطوں کو درست کرنا چاہئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ میں مستقل جگہ بنا گئے۔



شہر کی تاریخ مسخ کرنے والے مؤرخین

ملتان کی تاریخ پر ماضی میں بہت سا کام ہوا اوریہ کام جاری بھی ہے لیکن ان تاریخی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ جیسے ہر کتاب دیگر بہت سی کتب کو سامنے رکھ کر تحریر کی گئی۔سو یہ کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہو گا کہ جس طرح ملکی سلامتی کو قومی سلامتی کے اداروں ،آئینِ پاکستان کو آئینی ماہروں اورنظامِ عدل کو منصفوں نے نقصان پہنچایا اسی طرح ملتان کی تاریخ کو یہاں کے نام نہاد مؤ رخین اور محققین نے مسخ کیا(استثنیات کی گنجائش تو خیر ہر جگہ ہوتی ہے)۔ہزاروں سال پرانے دنیا کے واحد زندہ شہر کی تاریخ ،تہذیب اور ثقافت کے بارے میں تحقیقی کام بہت پہلے ہونا چاہئے تھا ۔خوشی کی بات یہ ہے کہ آج کی نسل اب تاریخ کے اوراق سے گردجھاڑ رہی ہے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker