رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 18 ) ۔۔ رضی الدین رضی

چندھیا دینےوالی روشنی اور دھماکے

ایسا ہی حبس اور ایسی ہی گھٹن تھی جب ستمبر1965 ءکی اس رات آسمان روشن ہو گیا۔ اور اتنا روشن ہوا کہ یہ تاریک شہر اس روشنی میں مکمل طورپر نہا گیا۔ کوئی ایک خطہ، محلہ یاعلاقہ نہیں، اس روشنی نے تو پورے شہر کو چند لمحوں کے لیے دودھیا کر دیا تھا۔ آسمان پر اگرچہ چاند بھی موجود تھا۔ وہ چاندنی رات تھی لیکن اس روشنی نے تو چاند کی روشنی کو بھی ماند کر دیا تھا۔ پنکھوں یا ایئرکنڈیشنرز کا اس زمانے میں ابھی رواج نہیں تھا۔ لوگ گرمی کے موسم میں گھروں کی چھتوں پر، سڑکوں پر، گلیوں میں یا کھلے احاطوں میں سوتے تھے۔ اس روشنی سے گہری نیند میں سوئے ہوئے لوگوں کی آنکھیں بھی چندھیا گئیں اور وہ نیند سے بیدارہو گئے۔ روشنی گہری نیند سے کیسے بیدارکرتی ہے اہل ملتان کو یہ تجربہ اسی روز ہوا تھا۔ اورابھی وہ نیند سے پوری طرح بیدار بھی نہ ہوئے تھے۔ ابھی انہوں نے اس روشنی کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں تھا کہ زور دار دھماکوں کی آواز نے انہیں خوفزدہ کر دیا۔ جو بے خبر اس روشنی سے بھی بیدارنہ ہو پائے تھے۔ وہ دھماکوں کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ رات کے پچھلے پہر پورا ملتان جاگ اٹھا اور پھر خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ فضا میں طیاروں کی گھن گرج سنائی دینے لگی۔ لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ بھارت نے ملتان پر فضائی حملہ کر دیا ہے۔ برقی رو بند کر دی گئی۔ بلیک آﺅٹ کے نتیجے میں شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ رضاکاروں نے وردیاں پہنیں اور سیٹیاں بجاتے ہوئے سڑکوں اورگلی محلوں میں نکل آئے۔ کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے لوگ بھاگ کر کمروں اور خندقوں میں گھس گئے۔



جنگی طیاروں نے سوا سال کے بچے کو ڈرا دیا

چھت پر سویا ہوا ایک سوا سال کا بچہ بھی دھماکے سے خوفزدہ ہو کر رونے لگا۔ ماں نے اسے سینے سے لگایا اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئی۔ جنگی طیاروں کی بھاگ دوڑ کچھ دیر جاری رہی اور پھر سناٹا ہوگیا۔ مہیب تاریکی اوراس سے بھی زیادہ مہیب سناٹا۔ یہ ملتان کی ایک اور رات تھی جو شہروالوں نے جاگ کرگزاری تھی۔ ملتان ایسی بہت سی راتیں اور ایسے بہت سے حملے پہلے بھی دیکھ چکاتھا۔ ملتان کے لیے یہ حملہ نیا نہیں تھا۔ نئی بات اس میں صرف یہ تھی کہ یہ حملہ آسمان سے ہوا تھا۔ آسمان سے بجلیاں اس شہر پر بارہا گریں۔ طوفان اور آندھیاں بھی آسمان سے ہی آئے لیکن دشمنوں نے ملتان پر حملے کے لئے ہمیشہ زمینی اور دریائی راستے ہی اختیار کیے تھے۔



ملتان پر پہلا فضائی حملہ

یہ پہلا حملہ تھا جو فضاﺅں سے ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران شہر والوں نے آسمان پر کچھ پروازیں ضرور دیکھی تھیں۔ لیکن شہر پر حملہ نہیں ہوا تھا۔ پھر گورکھوں کو رسد پہنچانے کے لئے شہر کے باہر چھاﺅنی کے قریب ہی ایک چھوٹاسا ایئرپورٹ بنا جہاں چھوٹے جہاز سامان لے کر اترتے تھے۔ بعدازاں یہی ہوائی اڈا وسیع کر دیا گیا۔ حملہ کہاں ہوا ہے ؟کس جگہ کو نشانہ بنایا گیا؟ کتنا نقصان ہوا ہو گا؟ یہ سب کچھ رات بھر زیربحث رہا۔ ہرشخص یہ سمجھتا تھا کہ جیسے بم اس گھر کے قریب ہی کہیں گرے ہیں۔ رات اسی بے یقینی کے عالم میں گزری۔ صبح کی اذان سنائی دی تو مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھرگئیں۔ سب کے چہروں پر پریشانی اور آنکھوں میں بہت سے سوال تھے۔ جنگ کے دوران اگرچہ مساجد میں ملکی سلامتی کی دعائیں پہلے ہی مانگی جارہی تھیں لیکن اس رات ملتان کی مسجدوں میں صرف شہر کی سلامتی کی دعائیں کی گئیں۔ اورجن ماﺅں کے بیٹے محاذ پر تھے وہ اپنے اپنے گھروں میں مصلے بچھا کر بیٹھ گئیں۔ صبح صبح سب کے کانوں کے ساتھ ریڈیو لگا ہوا تھا۔ سب سے پہلے بی بی سی سنا گیا کہ اطلاعات کا مصدقہ ذریعہ اس زمانے میں بی بی سی کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ بی بی سی پر جنگ کی خبریں توتھیں مگر ملتان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ دن چڑھا تو معلوم ہوا کہ حملہ قاسم بیلہ کے قریب ہوا ہے۔ قاسم بیلہ جو ہمیشہ سے حملہ آوروں کا مرکز رہا۔ محمد بن قاسم نے بھی ملتان پر حملے کے لیے یہیں ڈیرے ڈالے تھے۔ معلوم ہوا کہ بھارتی طیاروں نے اس علاقے پر بمباری کی تھی لیکن جو بم پھینکے گئے ان میں سے صرف ایک پھٹ سکا اور باقی ریت میں دھنس گئے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہواتھا۔ اور وہ جو شہر روشنی میں نہا کر دودھیا ہو گیا تھا وہ دراصل بھارتی طیاروں سے پھینکے گئے روشنی کے گولے تھے جن کے ذریعے وہ ہدف کا تعین کرنا چاہتے تھے۔یہ خبر ملتے ہی پورا شہر قاسم بیلہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ اس زمانے میں سائیکل ہی عام سواری تھی۔ سو ایک قطار تھی سائیکلوں کی جو اس سڑک پر روانہ تھی جہاں کبھی محمد بن قاسم نے ڈیرہ ڈالا تھا اور جہاں اس کے فوجیوں نے کھجوریں کھا کر ان کی گٹھلیاں پھینکی تھیں اور پھر اس کے بعد وہاں کھجوروں کے جھنڈ اگ آئے اور ملتان والے آج بھی کہتے ہیں کہ ملتان میں کھجوریں محمد بن قاسم کے سپاہی اپنے ساتھ لائے تھے۔ یوں صبح سویرے ہی قاسم بیلہ میں لوگوں کا ایک ہجوم لگ گیا۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker