رضی الدین رضیکالملکھاری

درخواست بنام ڈونلڈٹرمپ : سخن ور کی باتیں / رضی الدین رضی

بخدمت جناب ڈونلڈٹرمپ صاحب بہادر
صدر متحدہ ریاست ہائے امریکا
سربراہ عرب امریکا سربراہی کانفرنس و
سرپرست اعلیٰ دنیائے عرب
جناب عالی ۔۔ گزارش ہے کہ فدوی سب سے پہلے تو اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی ، کم فہمی اورکم علمی کی بنا پر عالی مرتبت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کاشکار رہاجس پر وہ ندامت کااظہار ضروری سمجھتا ہے۔ اب جب کہ یہ غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں تو فدوی پہلی فرصت میں اس فروگذاشت پر آپ سے دست بستہ معافی کاخواستگارہے ۔
جناب عالی افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے آپ کے بدخواہوں نے آپ کے بارے میں بہت سی گرد اُڑا رکھی تھی۔جب سے آپ امریکا کے صدارتی الیکشن میں امیدواربنے تھے ہنود و یہود کے ایجنٹوں کی طرف سے آپ کی کردارکشی کی مہم عروج پر تھی ۔آپ کے بارے میں طے شدہ منصوبے کے تحت یہ تاثر پیدا کیا گیاکہ آپ خدانخواستہ اسلام کے دشمن ہیں اورمسلمانوں کو نیست ونابودکرناچاہتے ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران آپ کے اس قسم کے کچھ بیانات بھی سامنے آئے جن سے یہ بد گمانی پیدا ہوئی تھی کہ آپ مسلمانوں کے سخت مخالف ہیں، لیکن اب اندازہ ہوا کہ ہم اپنی کوتاہ نظری کے باعث آپ کے ان بیانات کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصر رہے ۔ اب سمجھ آتا ہے کہ درحقیقت وہ سب انتخابی پروپیگنڈہ تھا۔ الحمداللہ امریکا کے باشعوراور پڑھے لکھے لوگوں نے اس پروپیگنڈہ پرکوئی توجہ نہ دی، اللہ کی مدد شاملِ حال ہوئی اورفتح وکامرانی نے آپ کی قدم بوسی کی ۔
مدعی لاکھ برا چاہے توکیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
عالی مرتبت مسئلہ یہ ہے کہ عالمی امن کے دشمن اپنی ہزیمت کے بعد بھی خاموش نہ ہوئے اور آپ کی کامیابی کے بعد آپ کی ذاتی زندگی کے حوالے سے کردارکشی شروع کردی گئی ۔آپ کی اورمحترمہ میلانیا کی ایسی شرم ناک اور ہوش ربا تصاویر اورجعلی ویڈیوز سوشل میڈیاپرپھیلائی گئیں کہ جنہیں دیکھ کر سرتوشرم سے جھک جاتاتھالیکن دل یہ کہتاتھاکہ یقیناًیہ تصاویر اورویڈیوز جعلی ہیں ۔ اس جعل سازی کا سراغ لگانے کے لئے یہ ویڈیوز فدوی نے بھی بارہا دیکھی تھیں ، اور اس بات پر شرمندہ ہے کہ کیوں دیکھی تھیں ۔ پھر وقت نے ثابت کیاکہ دشمنوں نے جوبھی پروپیگنڈہ کیاتھاوہ لغوتھا۔آپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد چند شرپسند اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پرجب پابندیاں لگائیں توایک مرتبہ پھر طوفان کھڑا ہوگیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ فدوی اپنی سادہ لوحی اور انگریزی زبان سے نا آشنائی کی وجہ سے ان بہت سی باتوں اورالزام تراشیوں کوسچ سمجھتا رہا ۔اب صدر منتخب ہونے کے بعد جب آپ نے اپنے پہلے دورے کے لئے حجازمقدس کاانتخاب کیا تو گویا سب الزام باطل ثابت ہوگئے ۔وہ جو آپ کو اسلام دشمن کہتے تھے ان کی زبانیں بھی گنگ ہوگئیں اور پھران بدخواہوں نے اپنی توپوں کا رُخ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ، اور دیگر عرب حکمرانوں اور شہزادوں کی طرف کردیا۔آپ کے دورے کا آغازہوا اور آپ خاتون اول کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے ۔ ریاض ایئر پورٹ پرشاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنی کابینہ کے ہمراہ آپ کے استقبال کے لئے بہ نفس نفیس موجودتھے۔وہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم دن دن تھا ، فلک نے بھلا یہ نظارہ اس سے پہلے کب دیکھا تھا ۔جلالہ ۃالملک نے پہلے تو آپ کے ساتھ معانقہ کیاپھر عرب روایات کے مطابق آپ کے گالوں کابوسہ لیا اورخاتون اول ریاست ہائے متحدہ امریکا یعنی آپ کی زوجہ محترمہ کے ساتھ صرف مصافحہ پر اکتفا فرمایا۔اب اسلام دشمنوں کی جانب سے نیاپروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور بات کابتنگڑ یہ بنایا گیاکہ محترمہ میلانیا سکارف یادوپٹے کے بغیر کھلے بالوں کے ساتھ حجاز مقدس کیوں تشریف لائیں ۔کوئی انہیں بتائے کہ اگر محترمہ میلانیا اورآپ کی عفت مآب صاحبزادیاں سکارف اور دوپٹے کے بغیر سعودی عرب آ ہی گئی تھیں تو اس میں بھلا قباحت ہی کیا تھی ۔افسوس کہ یہ سب لوگ جوش جذبات میں اس بات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ تمام محترم خواتین اس شدید گرمی کے موسم میں بھی پورا لباس زیب تن کر کے ریگزارِ عرب میں تشریف لائیں ، اور یہ کوئی معمولی بات اور آسان کام نہیں ہے ۔ سکارف اوردوپٹے کی پابندی توصرف مسلمانوں کے لئے ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔ ویسے بھی عرب حکمران بہت مہمان نواز ہیں ۔وہ بھلا مہمانوں پراپنے عقائد کیسے مسلط کرسکتے تھے ، ان کے عقائد پر عمل کرنے کے لئے ہم جو موجود ہیں ۔ اور پھر وہ تو ایک ایسے رہنما اور اس کے اہل خانہ کااستقبال کر رہے تھے جومسلمانوں کی فکر کرتا ہے اور ان کی سربلندی کے لئے کام کر رہا ہے ۔اورجناب صدرِ ذی وقار ہم تو یہ بھی فراموش کر گئے کہ آپ نے سعودی عرب کو اسرائیل پربھی ترجیح دی یعنی آپ نے سعودی عرب کا دورہ پہلے کیا اوراسرائیل کی دیوار گریہ پر بعد میں حاضری دی ۔
جناب عالی سعودی عرب پہنچنے کے فوراََ بعد آپ نے عرب امریکا سربراہی کانفرنس میں جو بصیرت افروز، ولولہ انگیز اور جوشِ ایمانی سے بھر پور تاریخی خطاب کیا اس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پر آپ کادل جس طرح خون کے آنسو رو رہاہے، اس طرح تو ہمارا بھی نہیں روتا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیراپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ اس خطاب کے دوران آپ کا نورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہا تھا ۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جانا پڑ گیا۔وہ تو تمام راستے اپنی تقریر تیارکرتے رہے تاکہ آپ کو امت مسلمہ کے اُن مسائل سے آگاہ کر سکیں جن سے آپ پہلے ہی آگاہ ہیں ۔آپ سفرکی صعوبتوں کو بخوبی جانتے ہیں ، آپ کو معلوم تھا کہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے شائد ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں لہٰذا آپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایا کاکس قدر خیال رکھتے ہیں ۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی شدید تنقید کا نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس بات پر بعض لوگ ہرزہ سرائی بھی کر رہے ہیں لیکن ہم صدق دل کے ساتھ آپ کی تائید کرتے ہیں ۔یقیناََ انتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعد توہمیں یقین ہو گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی ایران سے تھااور وہ عربوں کو بدنام کر نے کے لئے لارنس آف عریبیہ کا کردار ادا کر رہا تھا ۔
جناب عالی دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑنے کے لئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم نے اپنے سپہ سالار،مردِ جری ، بطل حریت راحیل شریف کو پہلے ہی اس اسلامی فوج کی قیادت کے لئے سعودی عرب بھیج دیاہے جس نے ایران ،شام ،یمن اوردیگرممالک میں دہشت گردوں کاقلع قمع کرناہے اورجناب راحیل شریف کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا تو زمانہ معترف ہے انہوں نے ضرب عضب میں اتنی کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کو نیست ونابودکیاکہ اس کے بعد کسی اور آپریشن کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔آپریشن ردالفساد توبس ہم نے آپ کی اور سعودی عرب کی خوشنودی اوردہشت گردی کے خلاف فراہم کئے گئے فنڈز کے درست استعمال کے لئے شروع کر رکھا ہے ۔
جناب والا اس درخواست کا مقصد صرف یہ ہے کہ درخواست گزار آپ کی رقت آمیز تقریر اورآپ کی شخصیت سے متاثرہونے کے بعد اس اسلامی فوج کاحصہ بننا چاہتا ہے جو دنیا بھر میں اسلام کا پرچم لہرانے والی ہے اور جس نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں نسیم حجازی کے ماضی تمنائی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جلد ہی فتوحات کے لا متناہی سلسلے کا آغاز کرنا ہے ۔جنرل صاحب کوتو آپ کی جانب سے خطیر رقم بھی فراہم کی جارہی ہے اوریہ یقیناً وہ اس کے حق داربھی ہیں لیکن جذبہ ایمانی سے سر شار یہ درخواست گزار اپنی خدمات آپ کو مفت پیش کرتا ہے ۔ہاں اگرآپ نے اس کے عوض اسے ہدیہ یا کچھ نذرانہ عطا کرنا چاہا تو صرف آپ کی خوشی کے لیے وہ اسے بھی قبول کرلے گا ۔امید ہے کہ آپ اس عاجزانہ سی درخواست پر ضرور غور فرمائیں گے۔فدوی نسل درنسل پہلے بھی آپ کا غلام تھا ۔آئندہ بھی غلام ہی رہے گا۔
محترمہ میلانیا کو مودبانہ سلام اور تمام بچوں خاص طور پر بیٹیوں کو درجہ بہ درجہ پیار

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker