ایک بس تیری مہربانی ہے
ورنہ سب دکھ بھری کہانی ہے
پہلے پھولوں کے ہار پہنے ہیں
پھر کہیں جا کے ہار مانی ہے
کیسے کہہ دوں کہ جانتا ہی نہیں
جان لینے کی جس نے ٹھانی ہے
در بناؤ تو ذہن میں رکھنا
تم نے دیوار بھی اٹھانی ہے
جتنا دھڑکا ہوںتیرے سینے میں
میری اتنی ہی زندگانی ہے
خشک ہونٹوں سے اُس نے پوچھا تھا
میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے
ہم زمیں زاد ہیںسو اپنے لئے
ہر مصیبت ہی آسمانی ہے
اُس نے پہلے بتا دیا تھا رضی
یہ مری آخری نشانی ہے
( جتنا دھڑکا ہوں تیرے سینے میں : مطبوعہ دسمبر 2015 )
فیس بک کمینٹ

