پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے خشک پہاڑی خطے میں ریکوڈک کا مقام ملکی تقدیر بدلنے کا ایک سنہرا موقع ہوسکتا تھا۔ یہ معدنیاتی ذخائر—notably تانبہ اور سونا—دنیا کے سب سے بڑے غیر متحرک ذخائر میں سے ہیں۔ اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے، تو یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت اور اجتماعی فلاح میں نیا انقلاب لا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ سنہرا خواب آج تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔
2024–25 کی اپڈیٹ فیز میں، Barrick Gold نے اعلان کیا کہ ریکوڈک میں 13 ملین اونس سونے اور 7.3 ملین ٹن تانبے کے ذخائر کا ا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی ذخائر کے تخمینے USGS اور دیگر مطالعات کے مطابق تقریباً 5.9 بلین ٹن معدنیات (ore grading 0.41% copper) اور 41.5 ملین اونس سونا ہیں۔
اسی طرح، 2025 کے آغاز میں Barrick کے CEO نے بتایا کہ یہ منصوبہ اگلے 37 برسوں میں تقریباً $74 ارب فری کیش فلو پیدا کرے گا، جس میں phase-1 میں سالانہ 200,000 ٹن تانبہ اور بعد میں phase-2 میں 400,000 ٹن تک دگنا کیے جانے کا منصوبہ شامل ہے۔ Asian Development Bank نے اس پروجیکٹ کے لیے $410 ملین کا پیکیج فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے—جس میں $300 ملین قرض اور $110 ملین گارنٹی شامل ہے—جبکہ IFC نے بھی $700 ملین کی سپورٹ دی ہے۔ Barrick ابھی اضافی $3.5 ارب مالیاتی پیکیج تلاش کر رہا ہے، جس میں متعدد بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، سعودی سرمایہ کار Manara Minerals پاکستان کے 25% شیئر میں سے 10–20% خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس کی مالیت $500–1 بلین کے درمیان بیان کی گئی ہے۔
یہ تمام اعداد و شمار ریکوڈک کی اقتصادی اہمیت اور امکانات کو واضح طور پر اجاگر کرتے ہیں، لیکن سنہری امکانات کے پیچھے ایک تلخ سچائی پوشیدہ ہے۔
ریکوڈک میں Barrick کا 50% شیئر، جبکہ باقی کا 50% وفاقی اور بلوچستان حکومت کے درمیان تقسیم شدہ ہے—بلوچستان کو اس میں 25% حصہ درج فنانس اور 10% فری کیری کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، بلوچستان عوام کو ابھی تک کوئی واضح مالی فوائد فراہم نہیں کیے گئے، جب کہ بنیادی سہولیات جیسے صحت، تعلیم، پانی اور انفراسٹرکچر میں مجموعی طور پر کمی ہے۔
اسی طرح، گوادر پورٹ کے معاملے میں بھی حقیقت زیادہ تلخ ہے۔ Gwadar Port Authority بتاتی ہے کہ پورٹ کے دو آپریٹنگ ادارے 9% ریونیو اور تیسرے نے 15% ریونیو فراہم کیا—البتہ بلوچستان حکومت کو پورا ریونیو نہیں ملا۔ تاریخی طور پر یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ چین کو 91% آمدن جاتی ہے، جبکہ پاکستان کو صرف 9% ملتا ہے۔
یہ تمام حقائق ایک اہم اصل کو بے نقاب کرتے ہیں: وسائل کی اصلی ملکیت، ریاستی حکمت عملی اور مقامی شمولیت کے بغیر یہ منصوبے عوام کے لیے حقیقی فوائد کی بجائے تنازعات اور احساس محرومی کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ مالیاتی وسائل—جیسے $74 ارب کا فری کیش فلو یا $400 ملین سے زائد بین الاقوامی مالی تعاون—اگر شفافیت اور عوامی فلاح میں استعمال ہوں تو ریاستی سالمیت کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت، اگر قومی اور صوبائی سطح پر عوامی نمائندوں، عدلیہ یا سوسائٹی کو اعتماد میں نہ لیا گیا، تو یہ پراشاء خطرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ریکوڈک اور گوادر جیسے منصوبوں میں روشن امکانات تو ہیں، لیکن ان کے سیاہ پہلو—عدم توازن، مقامی محرومی، اور شفافیت کی کمی—انسانیت کی ترقی کے بجائے پالیسی بحران کو دعوت دیتے ہیں۔ حقیقی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قومی مفاد، قانونی شفافیت، اور عوامی شمولیت کو اولین ترجیح دی جائے، بلکہ ریاستی وسائل صرف چند ہاتھوں تک محدود نہ رہ جائیں۔
فیس بک کمینٹ

