صائمہ نورین بخاریلکھاریمزاح

کورونا زوار ہے کہ حاجی؟؟؟ صائمہ نورین بخاری

کورونا ۔۔۔کککک کورونا۔کاش کہ توکوئی مچھر ہوتا۔۔تیری بھن بھن  کہیں بھی جوسنائی دیتی ۔۔ہم رکھ کر تجھے اک زناٹے کا تھپڑ دیتے  ۔کسی چینی چور کی طرح چینی پر چپکا نظر آتا تو آٹا چور بھی اپنی بوری  بچا ہی لیتے مگر اے نادیدہ دشمن توتو  دشمن جان نکلا۔۔روٹی کپڑا اور مکان والے  لوگوں کی پارٹی کے ایک قدیم ترین شاہ جی کے مطابق جب زندگی چاردن کی ہے تو لاک ڈاؤن چودہ دن کا کیوں ہے ؟۔۔سو ہم نے بھی یہی سوچا ۔اور قرنطینہ کو جز وقتی خدا حا فظ کہنے کا ارادہ کرلیا ۔۔وہ بھی پرائیویٹ سکول کے ستم کا شکار ایک استانی کی پکار پر ۔یہ منطق اس طرح بھی سمجھ آئی کہ ایک اہم سیاسی  صاحب کو کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر نظریاتی طور پر گھر میں جبری بند کیا گیا تھا اور چودہ دن بعد ان کو غالبا  پولیو ویکسین پلائی گئی اور وہ ایسے صحت یاب ہوئے  جیسے کوئی اچھا بیکٹیریا ۔ماشااللہ ۔۔۔شاید کراچی کے کچرے کی اپنی ہی توانائی اور سائنسی دنیا ہے ۔۔تو ہمیں ڈرنے ورنے کی اتنی ضرورت نہیں ویسے تو ہم بھی شاہ جی ہیں ۔اور جان بوجھ کر پیر نہ ہوئے ورنہ سو فی صد بن سکتے تھے ۔خیر ہم نے اپنی آخرت سنوارنے کی خاطر اور پرائیویٹ سکول و میڈیکل کالج کے اساتذہ اور ڈاکٹرز کو بے روزگار ہونے سے اشد بچاتے ہوئے۔۔۔ مستقبل کے ڈاکڑوں یعنی اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا اور کچھ ہمنوا ماؤں کو بھی فیس ادا کرنے پر راضی کرلیا جو اسوقت کا اہم ترین مسئلہ بلکہ درد سر بناہوا تھا۔اب مسئلہ لاک ڈاون میں گھر سے باہر نکلنے کا تھا ۔۔خیر امن بھی ہواور  فوج بھی ہو ایسا تو پہلی بار ہی زندگی میں دیکھ رہے تھے سو حالات کورونائی میں ۔ڈاکٹر بیٹی کے ہمراہ کوچہ خالی ۔جادہ خالی کی دھن سنتے ہوئے گاڑی چلانے کی کوشش کرتے ہوئے ڈر ڈر کر ماسک اور عینک کی اوٹ سے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیاکہ  کورونا کی وجہ سےگرد گداگر گرما گورستان کے شہر میں گرد کم ہوچکی تھی۔۔۔ مگرگداگر بہت ذیادہ ۔گرما خراماں خراماں آرہی تھی اورگورستان خاموش تھے ۔۔ ہر طرف شور  مچاتی  دوڑتی بھاگتی طلاطم خیز زندگی اچانک تھم سی گئی تھی اور شعور کی منزل کی جانب سست رو ٹرین کی مانند چل رہی تھی ۔واقعی ۔ہم عہد کورونا میں جی رہے ہیں ۔۔یہ عجیب سا خواب ہے ۔ہرگوشہ  اپنی زندگی بچاؤ کا  نعرہ پکارتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔ بچتے بچاتے بنک پہنچے ۔ایپ ڈاون لوڈ کرکے اتنی بڑی فیس ادا نہیں کی جاسکتی آن لائن ممکن نہیں سال بھر کی فیس کی یک مشت ادائیگی لازمی ہے۔بنک کے اوقات کار کم کردئیے گئے ہیں جلدی کیجیے یہی خیالات سوچتے ہوئے بنک میں داخل ہوئے ۔باہر بے نیاز ی سے کھڑے گارڈ نے ہینڈ سینیٹائزر کے دو ڈراپس کا تبرک سب کے ہاتھوں میں ڈالا۔بنک میں عجب حالت سکون تھی۔صفائی کا  میعار پہلے سے بہتر تھا کم ازکم تھوک لگا کر پڑھے لکھے لوگ نوٹ نہیں گن رہے تھے ۔شرح سود گر جانے کے باوجود کورونا کا ڈر قائم تھا۔اور چند نیکو کار  لوگ کورونا زوار ہے کہ حاجی؟؟؟ کی” ہلکی پھلکی“ بحث نما تحقیق دبے دبے لفظوں میں کرہے تھے دنیا پر عذاب اور ہم پر امتحان میں جانچنے کی کوشش میں وہ”تاریخی سائنس دان“ لگ رہے تھے جن کو سو سال تک بھی یوسف و زلیخا کی کہانی سمجھائی جائے تو وہ یہی پوچھیں  گے کہ زلیخا مرد تھی کہ عورت ؟دس روپے کا ماسک دوسو میں اور ساٹھ روپےکاہینڈ سینٹائزر چھ سو میں بیچنے والی درد مند قوم کی سود خور ی پریشان تھی کہ  اس سال حج بند ہوگیا تو ہم کہاں سجدہ ٹکانے جائیں گے ۔کہاں سیلفیاں بناکر اپ لوڈ کریں گے کہ ہم جیسا عبادت گزار کہاں ملے گا۔۔جمعے کے خطبوں  میں موبائل سائلنٹ نہ رکھنے والے پریشان تھے کہ اب ہمارا کیا بنے گا اگر مساجد بند ہوگئیں۔۔اتنے میں ایک مرد مومن مرد حق ضیا الحق ضیالحق جیسی عینک لگا کر بنک کے باہر ایک مکڑے جیسی ویگن میں سامان کورونائی بھرے ہوئےزمین پر اترے ۔۔بنک میں سسٹم ابھی زندگی کی رفتار کی طرح سست چل رہا تھا ۔سو ہمیں ابھی اور انتظار کرنا تھا۔۔۔ہم شیشے کی پار کی دنیا پر نظریں جمائے اس عنایت اور کرم نوازی کا انجام دیکھ رہے تھے ۔جو وہ محترم ایک فوٹو گرافر سمیت دنیا کی نظروں میں امر کرنے چلے تھے ۔صرف پانچ منٹ میں ان کی ویگن میں پڑی ہوئی تمام آٹے کی تھیلیاں چینی کے پیکٹ اور ماسک و صابن کے ڈبے اس طرح پیشہ ور گداگروں کے ہاتھوں غائب ہوئے کہ جیسے کورونا کے ہاتھوں انسان ۔۔وہ موصوف ڈالر کے سامنے روپے کی  مانند گرے پڑے نظر آتے ہوئے ٹریفک پولیس کے رحم و کرم پر تھے ۔جو بمشکل ان کے چاک گریبان کو موسم گل میں گداگروں کے ہاتھوں مزید چاک ہونے سے بچا لائی تھی ۔۔۔اور ہم میر کو سوچ رہے تھے۔۔۔۔۔کہ
اب کے جنون میں فاصلہ شاید نہ کچھ  رہے دامن کے چاک اور گریبان کے چاک میں ۔“
۔یہ بھوک مٹانے کا جنون تھا یا واقعی لاچار بے بس اور بے شعور عوام کی جہالت کا سونامی ۔۔جس کے تدارک کے لیے آج تک کچھ نہ ہوسکا ۔دفاعی ہتھیاروں ۔ٹینکوں جہازوں ۔ایٹم بموں کی دوڑ میں ہم نے دنیا کی ایک بہترین فوج تو تیار کرلی مگردوسری جانب بلڈی سویلین کی ایک خوفناک فوج الگ سے کسی خودرو پودوں کی مانند تیار ہوتی چلی گئی ۔طبقاتی کشمکش اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی فوج ۔۔بھوک وننگ کا پرچار کرتی وہ فوج جو نہ زمین کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے ایک تقریرصرف ایک تقریر کنٹینر والے دنوں کی یاد تازہ کرتی ہوئی موجودہ ایک جذبے سے بھرپور تقریر میں وزیر اعظم صاحب صرف اتنا اعلان فرمادیتے کہ وہ ان غریبوں کےبجلی کے بل اور سوئی گیس کے بل ۔جن کی حد دوہزار یا تین ہزار ہے معاف کررہے ہیں تو انہیں آج  ٹائیگر فورس کا سہارا نا لینا پڑتا اگر آج بھی ایم پی اے ایم این اے اپنے اپنے حلقے کےان غریب ووٹرز کو نہیں جانتے جو ان کے اس مقام کا باعث ہیں تو بڑے ہی افسوس کا مقام ہے
اب کسے رہنما کرے کوئی ۔خیر ہمارے ذہن میں اب مزید کسی منفی جذبےکی گنجائش نہیں تھی سو ہم نے اپنی امیونٹی کی خاطر مزید غصے سے پرہیز کیا ۔۔اب ہمیں ہر طرف کرونا نظر آنے لگا تھا۔سنا ہے جب ہر سمت شکاری بولائے ہوئے پھرنے لگیں توقفس زر سے کوئی پرندہ آذاد ہوا ہوگا ۔۔نت نئے دکھوں سے لڑنے والے لوگ اب خود ہی ملاح اور خود ہی کشتی اور خود ہی بپھرا ہوا طوفان نہ بن جائیں ۔۔ایک جامع واضح حل کی طرف سب کو سوچنا ہوگا ۔۔یہ قوم نسیان کی وبا کا شکار پہلے تھی اب انجانے میں کورونا کے تعاقب میں نکل پڑی ہے کیا یہ لوگ مکمل حشر کے انتظار میں ہیں ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker