آنچلافسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

دیوارِ شب کے پار ۔۔ سائرہ راحیل خان

کـــنڈیاں تـے ٹُـر کے آئے تیـــڈے کول پیــروں وانے
اگے تیــــڈی مرضی ڈھولن تُو جانڑے یا نہ جانڑے ۔۔۔۔
میں چائے بنانے کی غرض سے کچن کی جانب بڑھی تو اندر سے سرائیکی گیت کی دھیمی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔ یہ میٹھی اور سُریلی آواز میں کئی بار سُن چُکی تھی سو فوراً پہچان گئی۔۔۔۔ یہ پُر سوز گیت اُسکے دل کی ترجُمانی کر رہا تھا
” سلونی تُو کب آئی ؟ تُو تو کہہ کر گئی تھی کہ اپنے بھائی کے پاس گاؤ ں جا رہی ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئے گی ۔ مگر ہفتہ بھر بھی نہیں ٹِکی وہاں ”
سلونی کو چند روز بعد اچانک سے کچن میں کام کرتا دیکھ مجھے حیرت ہُوئی ۔۔
“باجی جی کہتی تو میں اور بھی بہت کُچھ ہوں مگر کر کب پاتی ہُوں ”
اُس نے سلام کے بعد نہایت سنجیدگی سے کہا اور پھر سے اپنے کام میں مگن ہوگئی ۔۔۔۔
“اچھا خیر اب آ ہی گئی ہے تو میرے واسطے ایک کپ چائے کا بنا کر میرے کمرے میں لا دے اور پھر تسلی سے مُجھے سارا ماجرا سُنا ”
اُس کا اُترا ہُوا چہرہ بھانپ کر میں نے فی الحال کُچھ کُریدنا نہیں چاہا اور اُسے چائے کا کہہ کر واپس آ گئی ۔۔۔
کُچھ دیر بعد وہ چائے لے کر میرے کمرے میں آئی تو میں نے اپنے ہاتھ میں رکھا قلم اور ڈائری سائیڈ پر رکھ دی اور اُسے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا ۔. . ۔.
چائے کا کپ میرے ہاتھ میں پکڑا کر وہ میرے روبرو سر جھُکائے خاموش بیٹھ گئی ۔ میں بھی چند لمحے خامشی سے اُسکا بغور جائزہ لینے لگی ۔۔۔
“دن بھر چکنائی سے بھرے ڈھیروں گندے برتن دھونے کے باوجُود اُس کے ہاتھ کس قدر نفیس اور نازُک تھے، بالکل کِسی آرٹسٹ جیسے، آرٹسٹ تو وہ تھی ہی ۔ کیا ہی مدُھر آواز تھی اُسکی جو سیدھی دِل تک اُترتی تھی ”
میرے بستر کی سلوٹیں ٹھیک کرتے اُس کے سانولے سے خُوبصورت ہاتھ دیکھ کر مجھے خیال آیا ۔۔۔
وقت اور حالات کی چکی میں پِسنے کے باوجُود اُس کی شخصیت کی نفاست کُچلی نہیں گئی تھی ۔
“سلونی” ! وہ اسوقت با لکل اپنے نام کیطرح کسی ڈھلتی ہُوئی شام جیسی اُداس مگر بیحد پُرکشش لگ رہی تھی ۔
“اب بول کیا بات ہے ؟ کاہے پریشان ہے ؟ ”
میں نے اُسے مُخاطِب کیا تو اُس نے اپنی جھیل جیسی حسین آنکھوں کے کناروں پر اُمڈتی نمی اپنے دوپٹے کے پلُو سے صاف کرتے ہُوئے میری طرف نہایت معصومیت سے دیکھا ،،،،
“رہنے دیں باجی ، کیا بولوں ؟ کچھ نیا نہیں جو بتاؤ ں آپ کو ”
اُس نے صدیوں کی سی تھکان سے چُور ہوتے لہجے میں جواب دیا ۔۔۔
“جو بھی بات ہے بول دے من ہلکا ہو جائے گا ۔ چل یہ بتا بھائی کے گھر سے واپس خُود آئی یا انہوں نے بھیجا تجھے ؟”
میں نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور بولنے پر مجبُور کیا ۔
“نا باجی ! وہ کیوں واپس بھیجتے ؟ بھائی میرا غریب ضرور ہے مگر خُودار ہے اور مجھ سے بیحد پیار کرتا ہے ۔ اُس نے تو کہا تھا کوئی ضرورت نہیں واپس جانے کی ۔ تھوڑی محنت مزدوری زیادہ کر لوں گا اور سانبھ لُوں گا اپنی بہن کو بھی ۔ ہاں البتہ یہ ضرور کہا کہ گُڈی اور پپُو کو ان کے ابا کے پاس بھجوا دے ، گھر بیٹھ کر خُود پالے گا انہیں تو چار دن میں عقل ٹھکانے آ جائے گی مگر باجی میرا حوصلہ نہیں پڑتا جو اپنے معصوم بچوں کو ذرا دیر کو بھی اپنے سینے سے جُدا کروں ۔”
اُسنے روتے ہُوئے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا شروع کر دیا ۔
” ہفتہ بھر پہلے جب اپنے شوہر سے جھگڑا کر کے میرے پاس آئی تھی تو کہتی تھی کہ اب میں زندگی بھر نہیں لوٹوں گی ۔ پھر کیسے واپس آ گئی؟
میں نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“بس باجی جی! قسمت کی بیڑیاں تُڑوا کر کوئی کہیں بھاگ سکتا ہے بھلا ؟ ویسے میں نہیں آئی وہ خُود آیا تھا مُجھے لینے ۔ میرے بھائی سےبھی معافی تلافی کی اور مُجھ سے بھی ۔ میں نے بھی پھر بچوں کی خاطر ضِد چھوڑ دی”
اُس نے مجھے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
“چل اب آ ہی گئی ہے تو سمجھ اچھا کیا ، اُداس مت ہو ”
“اُداس نہیں ہُوں باجی بس سوچتی ہوں کہ میرا اس کے سِوا آسرا ہی کیا ہے اور کب بدلے گا آخر یہ بندہ ، بات بے بات میری جان کو آتا ہے ۔ میں نے تنگدستی کا شکوہ کبھی نہیں کیا ، رُوکھی سُوکھی کھا کر بھی رب کا لاکھ شُکر ادا کیا مگر اس کی یہ بےحسی اور زہر بھرے رویے مُجھے بہت تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ دو میٹھے بول اور احساس میں کونسا روپیہ پیسہ خرچ ہوتا ہے جو یہ شخص وہ بھی نہیں دے سکتا مُجھے ؟ تن کی خستہ حالی تو برداشت ہوجاتی ہے پر من کی نہیں باجی جی ” ۔۔۔
وہ کسی ادیب کی طرح فکر کے ساگر میں ڈوبتی اُبھرتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
اس کے بارے میرا اندازہ با لکل درست تھا ۔ قسمت نے اُس کی زندگی کو چاہے جتنا بھی کھُردرا کر دیا ہو مگر درحقیقت وہ انتہائی حساس اور گُداز طبعیت کی مالک تھی ۔ مجھے اس سے شروع سے ہی اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ مگر آج اس سے بات کر کے لگا کہ وہ واقعی بالکل مجھ جیسی تھی یا پھر شاید ہر حساس اور اپنے رشتوں سے وفادار عورت ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
“اچھا یہ بتا کہ اپنی گُڈی اور پپُو سے بیحد پیار کرتی ہے نا؟”
“جی باجی ان کے بغیر تو سانس تک نہیں آتی مُجھے ”
“تو بس پھر اُنہی کی خاطر جی کھُل کر سانسیں لے پگلی یُوں گھُٹ گھٹ کر جینے سے فائدہ ؟ باقی یہ سوچ بھی چھوڑ دے کہ وہ آخر کب بدلے گا؟ وہ کبھی نہیں بدلے گا ۔ اگر تُونے اپنا یہ چھوٹا سا گھروندہ آباد رکھنے کا فیصلہ لے ہی لیا ہے تو پھر کسی دوسرے سے توقعات چھوڑ دے ۔ بدلنا تُجھے خُود کو پڑے گا ۔ یہ جو “احساس” ہوتا ہے نا، جذبہ تو یہ نہایت گُداز ہے مگر نرم و نازک من پر پڑے کسی وزنی پتھر کی مانند ہوتا ہے ، دل پر اس کا جتنا بوجھ ڈالو دل اتنا ہی ہلکان ہوتا جاتا ہے ۔ حساس ہونا اچھی بات ہے مگر اتنا نہیں کہ ہمارا دل اس کے بوجھ سے ہی کُچلا جائے ۔۔۔ تو سب سے پہلے اتنا جذباتی ہو کر سوچنا چھوڑ دے ۔ اور زندگی میں جو سب سے اہم ہے اس پر توجہ دے مطلب اپنی گُڈی اور پپُو پر ۔ آخر کو تیرے بچوں کا باپ ہے اور تیرے سر کا سائیں ، وہ بھی تو دن رات محنت مزدوری سے اُکتا جاتا ہوگا جو اس کے مزاج میں تلخی کا باعث ہوگی، دیکھ تیرے اور بچوں کے بغیر رہ بھی تو نہیں سکا نا تب ہی جا کر لے آیا تجھے ”
میں نے اُسے اُسی کے انداز میں سمجھانا چاہا ۔
“مجھ غریب کے پاس اور کوئی چارہ ہی کہاں ہے باجی ”
اس نے پھر سے مایوس کُن لہجے میں جواب دیا ۔۔۔
“نہیں پگلی اپنے بچوں کی خاطر اپنا گھروندا بچائے رکھنا کوئی بیچارگی نہیں بہت حوصلے کی بات ہے ۔ ایک باوفا عورت چاہے جس بھی طبقے کی ہو اور چاہے اُسکے پاس کوئی اور چارہ ہو تو بھی اگر وہ اپنے بچوں اور گھر کی خاطر قُربانی دیتی ہے تو میں کہوں گی دلیری کا کام کرتی ہے ۔ دیکھ ! اپنے حالات اور رشتوں سے آنکھ چُرا کر صرف اپنی ذات کے لیے زندگی میں نئے رستے تلاشنا کوئی بڑا کام نہیں ہے ۔ کمال تو اُس عورت کا ہے جو اپنی خواہشات کو اپنے رشتوں کی بقاء کے لیے قُربان کر دے ۔ اپنے لیے تو سب جیتے ہیں پگلی دوسروں کے لیے جینا ہی اصل زندگی ہے ۔ زندگی سے جو حاصل کرنا ہے ان رشتوں کا ہاتھ تھام کر حاصل کرو ۔۔۔۔ ”
“مگر باجی! رشتوں کی خاطر خواہشات کی اس قُربانی کا ثمر بھی تو ملنا چاہیے نا عورت کو”
اُسنے میری باتیں سُن کر اپنے حق کی بات کی ۔۔۔۔
“بالکل ملنا چاہیے اور ملے گا بھی بس شرط اتنی ہے کہ عورت یہ معاملہ کسی بشر پر نہیں بلکہ اللہ پر چھوڑ دے ۔
تُو نے اپنی قربانیوں سے رشتوں کے بن میں محبت اور وفا کے جو جُگنُو جگمگائے ہیں اُن سے ایک روز تیرے لیے خوشیوں کا نیا جہان روشن ہوگا انشااللہ ۔۔۔”
میری مکمل بات سُن کر اُسکے سلونے چہرے پر اُتری شام کسی اُجلے سویرے میں بدل گئی، ۔۔۔ میں اُسکی الجھنیں سُلجھانے اور اسے مطمئن کرنے میں کامیاب رہی ، یہ بات میرے لیے بھی سُکوں کا باعث تھی ۔۔۔ میں نے چائے پی کر خالی کپ اُسکے ہاتھ میں تھما دیا اور وہ مُسکراتی ہُوئی واپس اپنے کام کاج کی طرف چل دی ۔۔۔۔
عورت چاہے جس طبقے جن حالات سے بھی وابسطہ ہو اُس کی فطرت کی ڈور میں وفا کے موتی پِروئے جاتے ہیں ، اور وہ اسی مضبوط ڈور سے اپنے تمام رشتوں کو باندھے رکھتی ہے۔ اُسے اپنی اِن وفاوں کا صِلہ کب اور کیسے ملے گا؟ اس بات سے بےنیاز وہ تمام عُمر “وفا” کے دیپ سے اپنا آشیاں روشن کیے رکھتی ہے ۔ چاہے اِس دیے کی آنچ میں اُسے اپنی تمام تر آرزوئیں اور خواہشات ہی کیوں نہ جلانی پڑیں ۔۔۔
اُسکے آنے سے پہلے میں چاہ کر بھی کچھ لکھ نہیں پا رہی تھی مگر سلونی کے جانے کے بعد میں نے پھر سے قلم اُٹھایا اور اپنے احساس کو خیال میں ڈھال کر ڈائری کے پنے پر اشعار کی صُورت اُتار دیا ۔۔۔۔۔۔
اسکے جو خواہشات کے خرچے نہیں گئے
رکھ کر چلے ہیں زندگی ہم تُجھ پے سب اُدھار
اِس دورِ تیرگی میں بعداز تمام عُمر
اِک صبحِ نو ہے مُنتظر دیوارِ شب کے پار

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker