آنچلسائرہ راحیل خانکالملکھاری

سائرہ راحیل کا کالم:ہم نے بنائی ڈولی روٹی

آج سے کوئی پچیس چھبیس برس پہلے کا ایک دن جو میری یاداشت میں آج تک ترو تازہ ہے ، بلکل اُس خوشگوار موسمِ برسات کی طرح جس کی خوشگواری کو دوبالا کرنے کی خاطر نواں شہر محلہ باغبان میں مُقیم تمام خواتین نے مل جُل کر بڑے پیمانے پر ڈولی روٹیاں بنانے کا پلان ترتیب دیا ۔ اس پلان کی ماسٹر مائنڈ اور سربراہ میری پیاری امی جان تھیں ۔
مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ کس قدر محنت طلب ڈش تھی یہ جو رات بھر تیاری کے بعد اگلے دن کی دوپہر میں جا مکمل ہوئی ۔ امی کی ماموں زاد کزنز بےبی آنٹی اور بِلا آنٹی اس ریسیپی کی ماہر تھیں سو انہوں نے اولین فرائض سرانجام دیے ۔ جیسا کہ آٹے میں تمام تر میوہ جات ، شکر اور چند مسالے ڈال کر ایک بڑا سا دیگچا گوندھا اور پھر اسے خمیرا کرنے کی خاطِر رات بھر کے لیے رکھ دیا ۔ اگلے دن ہمارے گھر کے صحن میں جو کہ اس گلی میں موجود تمام گھروں سے کُشادہ تھا ، ایک چولہا رکھا اور اس پر گھی کا ایک بڑا سا کڑاہا چڑھا دیا ۔ تمام نوجوان خواتین کے ذمے مختلف کام بانٹ دیے گئے ۔ اور بزرگ خواتین چارپائیوں پر بیٹھی اس ساری کارر وائی کی نِگران مُقرر ہوئیں۔ جن میں میری دادی مرحومہ ، نانی اماں اور امی کی دو مُمانیاں شامل تھیں ۔۔۔ بِلا آنٹی آٹے کے چھوٹے چھوٹے پیڑے بناتی جاتیں اور بےبی آنٹی اُن پیڑوں کو تِلوں بھری پرات میں رکھ کر روٹی کی شکل دے کر میری امی جان کو تھما دیتیں ۔ امی نہایت سلیقے سے اسے گرم تیل کے کڑاہ میں ڈال ڈال کر اس پکوان کا آخری مرحلہ سرا نجام دیتیں ۔۔
دوسری طرف ہم سب ندیدے بچے حسرت سے مُنتظر بیٹھے ہوئے تھے کہ جانے کب یہ لذیذ ڈولی کی روٹی ہمیں نصیب ہوگی ۔ کیونکہ سب ماوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ سب روٹیاں ایک ہی بار تیار کر لی جائیں گی اور پھر ہر گھر کو برابر تقسیم ہوں گی. . تاکہ چکھنے چکھانے کے چکر میں روٹیوں کی مجموعی تعداد میں کوئی کمی واقع نہ ہو ۔۔۔ مگر شاید میرا ندیدہ پن میری شفیق امی سے برداشت نہ ہُوا اور انہوں نے ایک روٹی کا آدھا ٹکڑا مجھے نواز دیا ۔ اس خوشی کی انتہا مت پوچھیے جو اس وقت باقی تمام بچوں پر برتری حاصِل کرکے صرف میرا نصیب بنی ۔۔۔ کیا ہی لاجواب ذائقہ تھا ۔ اتنے بےتحاشہ برسوں بعد بھی وہ ذائقہ نہ بھُلا پائی میں ۔ جسقدر محنت طلب ڈش اُس دور میں ملاحضہ کی میں نے، موجودہ دور میں ایک اچھی شیف کہلائے جانے کے بعد بھی اتنے برسوں میں ایک بار بھی ٹرائے کرنے کی ہمت نہیں کی ۔ اُوپر سے میری نانی مرحومہ کا بیان “یہ مُرغی شُرغی آسانی سے بھُون کر تو ہر کوئی اچھا پکا ہی لیتا ہے ، میری نظر میں ایک اچھی اور سُگھڑ پکانے والی وہ عورت ہے جو ڈولی کی روٹی باقاعدہ طور پر بنانا جانتی ہو ” ۔۔۔ بس !!! نانی جان کے اس بیان کا خیال آتے ہی میرے “شیفیانہ” حوصلے مزید پست پڑ جاتے ۔۔۔ مگر جانے کیوں گزشتہ کچھ دنوں سے زُبان پر رچا برسوں پُرانا ذائقہ اور نانی جان کا اچھا پکویہ ہونے کا واحد معیار “ڈولی کی روٹی” میری کُوگنگ کو چیلنج دینے لگے ۔ بلآخر میں نے اپنے سیل فون میں بِلا آنٹی کا نمبر تلاشا اور انہیں کال کر کے مکمل ریسیپی معلوم کی ۔ سب اجزا اکھٹے کیے اور رات بھر سے ہو گئی شُروع ۔۔۔ کئی بار سوچا کہ سونی! ، جو کام اسقدر ماہر اور سلیقہ مند خواتین نے مل کر سرانجام دیا تھا کیا وہ تُو اکیلی کر پائے گی ؟؟ خیر نروس ہو کربسم اللہ کی ۔۔۔۔ آخر کار آج دوپہر تک ڈولی کی روٹیاں بنا ہی ڈالیں ۔ اور جب ایک نوالہ چکھا تو برسوں پہلے والے ذائقے کے ساتھ ساتھ ، سب سے پہلے وہ آدھی روٹی نصیب ہونے جیسی خوشی پھر سے محسوس کی ۔۔۔ الحمداللہ بہت مزے کی بنیں ۔ سو اپنی نانی مرحومہ کے قول اور معیار کے مُطابق میں آج باقاعدہ شیف کی سند پا سکی ہوں ۔۔۔۔
اس سارے تجربے کے ساتھ ساتھ ایک اور احساس بھی شدت سے ہُوا کہ ایک دور وہ تھا کہ جب فیملی گیدرنگ کے لیے بےتحاشہ خُوشگوار مواقع باآسانی مُیسر آجایا کرتے تھے خواتین کو ، اور ایک دور یہ ہے کہ ہم چاہ کر بھی مل بیٹھنے کا وقت نہیں نِکال پاتے ۔ ویسے بھی فاسٹ فُوڈز کی ہوم ڈیلیوری ہوتے ہوئے بھلا کون اسقدر محنت طلب پکوان بنانے کی زحمت کرے ۔۔۔
اب کچھ لوگ کہیں گے “زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے اب، وقت ہی کہاں ملتا ہے ” ۔۔۔ اجی نہیں، زندگی مصروف نہیں ہوئی بلکہ ہم اپنی لامحدود خواہشات کی تکمیل میں اسقدر مصروف ہو چُکے ہیں کہ زندگی مُختصر لگنے لگی ہے ۔ خیر میں نے اس مصروفیت میں بھی وقت نِکال کر “ڈولی والی روٹی” بنا ہی لی ۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker