سجاد جہانیہکالملکھاری

جیرا بھی چلا گیا : دیکھی سُنی / سجاد جہانیہ

میں حتی الوسع کوشش کرتا ہوں کہ موت کے تھپیڑے جھیل کر زرد پڑا چہرہ نہ ہی دیکھوں۔ اسی لئے جنازے اور دعا کے بعد جب لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے، شانوں کی ٹھوکریں مارتے، کارِثواب سمجھ کر میت کی چارپائی کی جانب لپکتے ہیں تو میں دور ہوکے اپنے آپ میں پناہ لیتا ہوں۔ مجھ سے مرے ہوئے اور موت کی سختیوں سے بگڑے ہوئے زندگی سے عاری چہرے نہیں دیکھے جاتے۔ کے جی والے جیرے کا جنازہ پڑھ کے بھی میں منہ دیکھنے کو چارپائی کے پاس نہیں گیا۔ اپنے حافظے کے کینوس پر میں جیرے کا وہی چہرہ تصویر رکھنا چاہتا ہوں جو سال بھر پہلے آخری بار دیکھا تھا۔ پھولی ہوئی گالوں اور موٹے موٹے شیشوں کے چشمے والا چہرہ۔ خیر!مجھے تو اس کا چالیس بیالیس برس پہلے والا چہرہ بھی یاد ہے مگر نقشِ آخریں یہی موٹے شیشوں والے چشمے کا ہے۔
میری عظیم مادرِ علمی مسلم ہائی سکول ملتان کا ایک حوالہ یہ جیرے بھی ہیں۔ ایل ایم کیو روڈ پر سپورٹس گراﺅنڈ کے سامنے والا گیٹ جو مستقل بند کردیا گیا ہے، سے داخل ہوتے ہی الٹے ہاتھ پر جو کینٹین تھی، اس میں چائے کے اڈے پر نذیر عرف جیرا بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے تین چھوٹے بھائی تھے۔ ایک تو اسی کینٹین میں لکڑی کے ایک کاﺅنٹر پر سموسموں کا تھال رکھ کے بیٹھتا تھا۔ دوسرا پرائمری سیکشن کو مڑنے والے راستے سے ذرا پہلے ٹیوب ویل کے سامنے کچوری چنے اور روٹی کا پھٹہ لگاتا، تیسرا کے جی سیکشن کے قریب صفدر سٹیشنری والے کی دکان کے ساتھ ہی کچوری، چنے اور روٹی لگاتا۔ بڑے بھائی کے نام کی رعایت سے یہ سبھی جیرے ہی کہلاتے۔ کینٹین والا جیرا، سموسوں والا جیرا، پرائمری والا جیرا اور کے جی والا جیرا۔ بلکہ گول گپے والے اور فروٹ والے کو بھی لڑکے جیرا ہی کہہ کر پکارتے۔ پتہ نہیں ان سب کے اصل نام کیا تھے۔
آدھی چھٹی کے وقت ہم نے چار آنے کے چھولے، چار آنے کی دو پتلی سی روٹیاں یا پھر چار کچوریاں لینی ہوتی تھیں۔ ہم پرائمری حصہ میں تھے۔ پرائمری والا جیرا (چاروں بھائیوں میں اب یہی حیات رہ گیا ہے) ایک تو سست تھا، پھر بدزبان اور بھلکڑ۔ رش میں کئی دفعہ بھول جاتا کہ تم نے پیسے نہیں دیئے اور جب چیونٹیوں کی طرح چمٹے لڑکے اس کا شانہ، قمیص، بازو پکڑ کر متوجہ کرنے کو کھینچتے تو بعض اوقات وہ چڑ کر دھکا دینے یا دھول جمانے سے بھی نہ چوکتا۔ دوسری طرف کے جی والا جیرا بڑا ہی حلیم تھا۔ لڑکے اس کو نوچ کھاتے، کبھی کبھی اس کے چہرے پر ناگواری ضرور آجاتی مگر وہ نہ کسی کو ڈانٹتا نہ دھکا دیتا۔ وہ پیسوں کی بھی پروا نہ کرتا۔ دیئے، نہیں دیئے، اس نے کبھی ضد، اصرار نہ کیا تھا، بچوں کی بات پر یقین کرلیتا تھا۔
میٹرک پاس کرکے سکول چھوڑے تو مدتیں ہوگئیں مگر ہم بعد میں بھی اس کے پاس کچوریاں چھولے کھانے جاتے تھے۔ یہ کچوری وہ نہیں ہے جو عام معنوں میں مستعمل ہے اور سموسے والوں کے پاس ہوا کرتی ہے۔ یہ تو چنوں کے ساتھ روٹی کی طرح کھائی جاتی ہے، اسے ملتانی ڈولی روٹی کی چھوٹی بہن کہہ لیں مگر یہ ڈولی روٹی کی طرح میٹھی نہیں بلکہ پھیکی ہوتی ہے۔ کے جی والے جیرے کے پاس جانے کا محرک ندیم ہوا کرتا تھا۔ پہلے ہم چھڑے تھے تو دس گیارہ بجے جیرے کے پاس جایا کرتے۔ پھر بال بچے دار ہوگئے تو ہفتے میں ایک دو بار سویرے ہی سویرے ندیم کا فون آجاتا ”آجا فیر…. جیرے کول“۔ میں اپنے بچوں کو اور وہ اپنے بچوں کو سکول چھوڑتے ہوئے جیرے کے پاس اکٹھے ہوجاتے۔ندیم بہت سوتا تھا مگر یکم جولائی 2013ء کو وہ اچانک ایسی نیند سوگیا جس سے وہ تب اٹھے گا جب جنابِ اسرافیلؑ، میدانِ حشر برپا ہونے کا اعلان کرنے والا صور پھونکیں گے۔ دو جولائی کو صبح سویرے ہم نے ندیم کو نشتر ہسپتال کے ساتھ والے شہرِخموشاں کی ایک اندھیری قبر میں اتارا۔ دعا درود کرکے میں، یٰسین اور جعفر جیرے کے پاس پہنچے۔ اس نے موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ چنے کی پلیٹ بناتے ہوئے کہا ”چھڈ آئے او یار نوں….؟ “ ہم میں سے کوئی ہو نہ ہو، ندیم اس کا مستقل گاہک تھا۔
پچھلے کوئی بارہ پندرہ برس سے جیروں کو سکول نکالا مل گیا تھا۔ اب جیرا مسلم سکول کے پچھلے گیٹ کے ساتھ ٹھیلے پر اپنی مختصر دکان سجاتا تھا، اپنے گھر کے عین سامنے۔ پاکستان بننے پر مشرقی پنجاب کے کسی گاﺅں سے اجڑ کر جیرے کا خاندان ملتان پہنچا تھا اور اس مندر میں ان کو رہائش ملی۔ جیرا آخری دم تو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسی مندر میں قیام پذیر رہا۔ اس کی شکل و صورت بہرحال انہوں نے اب تبدیل کرلی تھی۔ کے جی والے جیرے کو اب ہم نے حاجی صاحب کہنا شروع کردیا تھا۔ وہ آخری وقت تک ویسے ہی درویش تھا۔ کئی دفعہ ہم نے یہ منظر دیکھا کہ کوئی سابق یا موجودہ طالب علم آکر پوچھتا ”جیرے! پچھلی واری دے کنے پیسے رہندے نیں“۔ وہ چنے کی پلیٹ بناتے ہوئے یہی کہتا ”پتہ نئیں جی، مینوں تے ایہہ وی نئیں پتہ تسیں کدوں ادھار کرگئے سو“۔ جو جتنے پیسے دیتا رکھ لیتا۔ آج کے مہنگے دور میں بھی جیرا ننھے طالب علموں کو پانچ روپے میں ایک نان اور چنے دے دیتا۔ اسے پتہ تھا سرکاری سکول کے بچوں کے ماں باپ ان کو یہی پانچ روپے روزانہ دینا مشکل سے افورڈ کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ کسی بچے کے پاس پیسے نہ بھی ہوتے تو وہ نان چنے دے دیتا۔ ساتھ ہی کہتا ”کل دے دویں پیسے“۔ میں نے ایک مرتبہ پوچھا ”یہ کل پیسے لے آئے گا“۔
جیرے نے کہا ”ہون گے تو ضرور دے کے جائے گا‘ ناں وی دوے گا تے فیر کیہڑی گل اے۔ میری ریڑھی تے آیا کوئی بچہ بھکا تے ناں جاوے نہ جی۔ میں کل پیسے لیان دا اس واسطے کہنا واں کہ اینوں منگن دی عادت نہ پے جاوے“ بل گیٹس مائیکرو سافٹ والے اور ملک ریاض بحریہ ٹاﺅن والے کیا سخاوت کے اس معیار کو پہنچ سکتے ہیں؟؟ ان کے اثاثے اور اموال شماروقطار سے باہر، اس میں سے کروڑوں، اربوں کی سخاوت کرتے ہیں تو گویا پانی کی بھری بالٹی سے چمچ بھر نکال کر دے دیا۔ جیرا اپنی چند سو روپے کے مال والی دکان میں سے ایک طرح سے اپنا اور اہل خانہ کا پیٹ کاٹ کر سخاوت کرتا تھا۔ یہ سخاوت اللہ کے ساتھ کاروبار ہے اور وہ جن کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، ان کو گھاٹا نہیں آنے دیتا۔ سو جیرے نے بھی اسی ٹھیلے میں سے اپنا گھرانہ چلایا، بچوں کی شادیاں کیں۔ اب وہ نانا دادا تھا۔ باقیوں کو میں نہیں جانتا، سال بھر سے اب ٹھیلے پر عابد اور سنی کھڑے ہوتے ہیں۔ کے جی والے جیرے کے بیٹے، اللہ ان کا بھی ہاتھ اپنے والد کی طرح کھلا رکھے۔
چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب کوئی ساڑھے آٹھ بجے فیس بک پر سکول کے ہم جماعت خواجہ حبیب کی پوسٹ پڑھی ”مسلم سکول کے کچوری چھولے والے شمیم الدین المعروف چھیمہ جیرا بقضائے الٰہی وفات پاگئے ہیں“۔ اسی رات دس بجے جنازہ تھا‘ مسلم سکول کے کے جی والے گراﺅنڈ میں۔ اس رات بڑی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ جیرے کی چارپائی جب گھر سے نکلی تو مسلم سکول نے اپنا پھاٹک پورا وا کردیا۔ گویا دل کے دروازے کھول دیئے ہوں۔ چارپائی آگے بڑھ کر امتحانی ہال کے اس محرابوں والے برامدے کے پاس سے گزر رہی تھی جب میں کچھ دیر کو اس برامدے سے ذرا پہلے، صفدر سٹیشنری والے کی اجڑچکی دکان کے پہلو میں رک گیا جہاں ہرے رنگ کا چھت دار ڈیسک رکھا رہتا تھا، اس کے اندر جیرا چھولوں کی پرات، برتن، روٹیاں، کچوریاں رکھتا۔ آدھی چھٹی کے وقت لڑکے اس کو یوں چمٹ جاتے جیسے گڑ کی ڈلی پر مکھیاں چپکتی ہیں۔ وہ جگہ بڑی ہی ویران تھی، جیرا تو چار کندھوں پر سوار آگے کے جی کے گراﺅنڈ میں پہنچ چکا تھا بلکہ اس سے بھی کہیں آگے…. وہاں، جہاں کی کسی کو خبر نہیں…. خدا جانے وہاں کیا تماشا برپا ہے۔
جو بھی جاتا ہے تہہِ خاک وہ آتا ہی نہیں
کوئی بتلائے تہہِ خاک تماشا کیا ہے
میرے دور کا مسلم سکول دھیرے دھیرے زمین کی پشت سے، زمین کے پیٹ میں اترتا جارہا ہے۔ کیسے کیسے اساتذہ تھے اور کون کون کردار کہ اب زمیں اوڑھ کے سویا کرتے ہیں۔ جیرے کے جنازے میں مجھے اپنے زمانے کی دو نشانیاں نظر آئیں۔ چودھری منظور صاحب اور ملک بشیر صاحب، دونوں ہی بڑھاپے اور ضعف کی رتھ پر سوار۔ میں اپنے ان اساتذہ سے ملنے کی ہمت نہ کرسکا، پتہ نہیں کیوں۔ جنازے کے بعد محرابوں والے برآمدے کے سامنے چارپائی رکھ دی گئی کہ وہاں روشنی تھی۔ لوگ آخری دیدار کرنے لگے، میں برامدے کی ایک محراب تلے سمٹ گیا کہ میں اپنی یادوں کے کینوس پر جیرے کا وہی چہرہ تصور رکھنا چاہتا تھا جو میں نے سال بھر پہلے آخری مرتبہ دیکھا تھا۔ پھولی ہوئی گالوں اور موٹے شیشوں کے چشمے والا چہرہ۔
لوگ میت کا چہرہ دیکھ رہے تھے لیکن اس بہانے کفن کے بند کھلنے کا فائدہ اٹھاکر شاید جیرا اپنے مسلم سکول کو، اس کی محرابوں کو، برامدوں کو، دیوارودر اور دریچوں کو آخری مرتبہ محسوس کررہا تھا۔ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول ملتان کی اس خوشبو کو، پوری زندگی جیرے نے جس کے نام کردی۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker