سجاد جہانیہکالملکھاری

جو بچھڑ گئے:دیکھی سُنی / سجاد جہانیہ

اچھا‘کیا یہ ضروری قرار پایا ہے کہ کسی تقریب کے لئے اگر کوئی مضمون تحریر کیا جائے تو اخبار میں چھاپتے ہوئے اُس کی پائنتی جانب قوسین میں لکھ دیا جائے کہ فلاں تقریب میں پڑھا گیا۔ اس قرینے کو اک ذرا تبدیل کرتے ہیں۔ یہاں ابتداءہی میں جان لیجئے کہ جو تحریر آپ اس پیراگراف کے بعد پائیں گے وہ جس تقریب میں پڑھی گئی‘ اس کا اہتمام ملتان ٹی ہاؤس نے کیا تھا۔ ٹی ہاؤس کے سیکرٹری خالد مسعود خاں اور جوائنٹ سیکرٹری شاکر حسین شاکر کم کم تقاریب برپا کرتے ہیں مگر جب کرتے ہیں تو خوب کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ ہمارے بردارِ بزرگ خالد مسعود خاں سیکرٹری تو ہیں ملتان ٹی ہاؤس کے مگر ملتان میں کم کم ہی پائے جاتے ہیں اور ملتان ہی پر کیا موقوف‘ پاکستان میں بھی کم ہی میسر ہوتے ہیں۔ سو‘ ٹی ہاؤس کی کینٹین سے لے کر تقریبات تک کے معاملات ایسے چلتے ہیں جیسے لودھراں رائے ونڈ ریلوے لائن پر ٹرینیں۔ خیر! یہ جملہ ہائے معترضہ تھے اور آپ نے ان کو پڑھ ہی لیا ہے تو تفنن کے ذیل میں رکھئے۔ تقریب بہت اچھی تھی‘ پُروقاراور رفیع الشان جو وزیراعظم کے مشیر اور معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“ کی رونمائی کو سجائی گئی تھی۔ فقط تین مقالہ جات‘ مہمانِ خاص جناب افتخار عارف‘ صدرِ محفل گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ‘ صاحبِ کتاب جناب عرفان صدیقی کی گفت گو‘ جنرل سیکرٹری ٹی ہاؤس خالد مسعود خاں کا سپاس نامہ اور حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہال۔ ایک منفرد‘ مربوط اور شان دار تقریب۔ اب آپ تقریب میں پڑھے گئے میرے مضمون کی خواندگی کا بار اٹھانے کو وارم اپ ہوجائیں۔
یہ بیت چکے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اُن لوگوں کی جو زندگی کی حدت کو سہتے سہتے بالآخر بھاپ بن کر آسمانوں کو اُٹھ گئے۔ اب جن کی یادیں گھٹا کی صورت چھائی ہیں اور مصنف کو قطرہ قطرہ بھگوتی ہیں۔ یہ ایسی ہی شرابور کہانیاں ہیں مگر سب کی سب نہیں۔ 176 صفحات کی اس کتاب میں اُنچاس کالم ہیں‘ جناب عرفان صدیقی کے قلم معجزبیاں سے سرزد ہوئے کالم۔ ”اپنی بات“ کا عنوان باندھ کر لکھے گئے پیش لفظ میں عرفان صدیقی خود لکھتے ہیں کہ ”اخبار کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے‘ اس اعتبار سے کالم بھی سرِشام غروب ہوجاتا ہے“۔
بجا فرمایا۔ معذرت کے ساتھ‘ ان انچاس کالموں میں سے اکتالیس ایسے ہیں جو بقول مصنف واقعی غروب ہوچکی تحریریں ہیں۔ ایسی تحریریں جو شکوہ کلام کے باوصف‘ بین السطور اس امر کا ابلاغ کرتی ہیں کہ ہمیں وقتی ضرورت کے تحت یا خیالِ خاطرِ احباب کو ملحوظ رکھ کر فقط تعلق نباہنے کو لکھا گیا ہے۔
یادش بخیر! اس طالب ِ علم نے اخباری دنیا میں زبان و بیاں کا سلیقہ دو شخصیات سے سیکھا ہے۔ ایک جناب ہارون الرشید ہیں۔ ان سے تو براہ ِ راست بھی کسب ِ فیض کیا۔ ”خبریں“ ملتان شروع ہوا تو یہ طالب علم میگزین کا انچارج تھا۔ تب ہارون صاحب نے چند ہفتے یہاں قیام کیا کہ نئے سیکشن کے معاملات سیدھے کرسکیں۔ میگزین کا شعبہ ہونے کی وجہ سے زبان و بیاں کے معاملے میں سب سے زیادہ گوشمالی میری ہی ہوا کرتی۔ پھر وہ چلے گئے تو ان کے کالم سیکھنے کا ذریعہ رہے۔ دوسری شخصیت جناب عرفان صدیقی کی ہے۔ ان سے براہ راست ملاقات تو آج پہلی مرتبہ ہورہی ہے مگر ان کے کالموں کی آبِ مصفیٰ سے دھلی زبان سے بہت کچھ سیکھا۔ اب ایک مدت سے سرکار دربار سے ان کی وابستگی نے مجھ سمیت بہت سے قارئین کو اچھی اردو پڑھنے سے محروم کررکھا ہے۔
خیر! ذکر ہورہا ہے کتاب ”جو بچھڑ گئے“ کا‘ اس کتاب میں آٹھ تحریریں ایسی ہیں کہ جو اس مجموعے کی آبرو ہیں اور اسے جاودانی حیات عطا کرنے کا باعث۔ ان تحریروں کو پڑھتے ہوئے مجھے تبت کی اس قدیم کتاب کا خیال آتا رہا جو موت سے ہم کنار ہوتے لوگوں کے سرہانے پڑھی جایا کرتی تھی۔ اس میں سکرات اور موت واقع ہوجانے کے بعد پیش آنے والے مراحل کا تذکرہ ہے۔ دم توڑتے ہوئے شخص کو آگاہی دی جاتی ہے کہ ان مراحل سے کیوں کر اور کیسے گزرا جاتا ہے۔ ”جو بچھڑ گئے“ میں کچھ کالم ایسے مضامین کے حامل ہیں کہ جن کو میں سمجھتا ہوں زندہ انسانوں کے سرِبالیں پڑھا جانا چاہیے۔ ان کے سرہانے جن کے آگے بہ ظاہر ابھی زندگی کا سفر پڑا ہو۔ گوکہ یہ تحریریں زیست کے قافلہ سے بچھڑ جانے والوں کے متعلق ہیں مگر دراصل یہ زندگی کرنے کا ڈھنگ سکھاتی ہیں۔ ان کا جستہ جستہ ذکرملاحظہ ہو۔
ملازم حسین ہمدانی ہیں جو طلباءکے زبردست سیاسی تحرک کے زمانے میں بھی اپنے کالج کا ڈسپلن ٹوٹنے نہیں دیتے۔ جلوس جو نکلا ہے تو سب سے آگے خود ہیں اور جب کسی بس کو نشانہ بنانے کی نیت سے ایک طالب علم پتھر اٹھاتا ہے تو اپنے چٹیل میدان ایسے سر کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ کوئی پتھر مارنے کا ہنر آزمانا چاہیے تو یہاں میرے سر پر آزمائے۔ وہ ہمدانی صاحب جو اپنے ہی کالج کے پندرہ روزہ پرچے میں اپنے ہی خلاف مضامین و تصاویر چھاپتے ہیں کہ طلباءکی بھڑاس نکلتی رہے اور وہ پتھر مارنے سے باز رہیں۔
پھر انا و استغناءکا مرکب صوفی عبدالقیوم ہیں‘ صاحبِ کتاب کے استاد جو لالہ موسیٰ کے ایک چوبارے میں عمر کا آخری پہر گزار رہے ہیں۔ تین تین بیٹے بڑے شہروں میں مقیم اور اچھے عہدوں پر فائز مگر صوفی صاحب باوجود اصرار‘ اُن کے ہاں مقیم ہونے کو راضی نہیں کیونکہ اپنی شناخت سے دست بردار ہونا ان کو گوارا نہیں کہ لاہور میں لوگ انہیں صوفی عبدالقیوم کے نام سے نہیں بلکہ فلاں کے والد کے نام سے جانیں گے۔ وہ صوفی عبدالقیوم کہ ہومیو پیتھی کی پریکٹس شروع کرتے ہیں تو دستِ شفا کے فیض کی ایسی شہرت پھیلتی ہے کہ مطب سے باہر مریض منہ اندھیرے ہی قطار بندی کرلیتے ہیں۔ ایسے میں گھر کا کوئی فرد بیمار پڑجاتا ہے تو اس کو بھی قطار میں لگ کر دوا پانے کی ہدایت ہوتی ہے۔ اللہ اللہ! میرٹ کا ایسا کڑا نفاذ!!…. اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر۔
پھر حرمین کے عشق میں گندھا بابا عبدالحمید ہے جو حرم کے پاس بیٹھ کر چاولوں کا نوالہ بناتا‘ اس پر پیپسی چھڑکتا اور بلیوں کو کھلاتا ہے۔ جس نے زندگی کے سبھی رنگوں پر پیا کے گھر کا سیاہ رنگ چڑھارکھا ہے اور بالآخر اسی رنگ میں گھل کر وہ رفیقِ اعلیٰ کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
”جب نورانی دریچہ کھلتا ہے“ کا کرشن لعل ہے جسے اندر کا جوار بھاٹا اھدنا الصراط المستقیم کی عملی تصویر بنادیتا ہے۔ کرشن لعل کا جذب و خلوص وہ رنگ لاتا ہے کہ سیدھا راستہ دکھانے کو اسے کائنات کا سب سے عظیم رہ نما میسر آجاتا ہے۔ سرورِ کائنات کے مقدس ہاتھ اسے انگلی پکڑ کر سیدھے راستے پر ڈالتے ہیں اور وہ غازی احمد بن جاتا ہے۔
پھر عشقِ مصطفی میں تر بہ تر رمضان عطائی ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول ڈیرہ غازی خان کا سینئر انگلش ماسٹر۔ اس کے عشق کے چھینٹے جب میو روڈ لاہور کی جاوید منزل تک پہنچتے ہیں تو وہاں سے ایک تین سطری خط لکھا جاتا ہے ”جناب ِ من! میں ایک مدت سے صاحبِ فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی‘ شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رباعی جو آپ کو پسند آگئی ہے‘ اپنے نام سے مشہور کریں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ فقط۔ محمد اقبال لاہور“۔
یہ اس عظیم رباعی کی کہانی ہے جو شاعر ِ مشرق نے عشق کے حضور دان کردی۔
تو غنی ازہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
وَرحسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر
ان کے علاوہ آسماں تیری لحد پہ‘ ہمیں وہ بہت پیارا تھا اور خاموش بستیاں کے کردار ہیں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف کا قلم بھیگ بھیگ جاتا ہے۔ پچیس برس تک تدریس اور مدت تک شعر‘ ڈرامہ‘ افسانہ کے شعبوں سے وابستہ رہنے کے باوصف جناب عرفان صدیقی سرتاپا صحافی ہیں۔ اس کتاب کی باقی اکتالیس تحریریں بھی بچھڑ جانے والوں کی یاد میں لکھی گئیں۔ جانے والوں کے لئے لکھتے ہوئے قلم پر جذبات کا غلبہ ہوجایا کرتا ہے مگر ان مراحل میں بھی جناب عرفان صدیقی کے اندر کے صحافی کو اونگھ نہیں آتی اور جذباتی کیفیت میں بھی وہ اپنے مخصوص سیاسی و سماجی نظریات کا ابلاغ کرتا چلا جاتا ہے۔ تاہم یہ آٹھ تحریریں ایسی ہیں جن میں مصنف کا قلم سوائے عشق کے کوئی دیگر اثر قبول کرتا نظر نہیں آتا۔ تب عقل کو پاسبان ماننے والا صحافی بھی کہیں تحلیل ہوجاتا ہے اور فقط عشق کی جادو نگاری رہ جاتی ہے۔ یہ اس مبارک گھڑی میں سرزد ہوئی تحریریں ہیں کہ
وہ عجب گھڑی تھی‘ میں جس گھڑی
لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتاب‘ عقل کی طاق پر
جوں دھری تھی‘ تیوں دھری رہی
خواتین و حضرات! آپ کی سماعتوں کا بہت بہت شکریہ۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker