ملتان : معروف شاعر اور صحافی رضی الدین رضی نے کہا ہے کہ رثائی ادب کے حوالے سے اگرچہ لکھنو کے دو دبستانوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جو انیس و دبیر کے دبستان کہلاتے ہیں لیکن ہمارے خطے میں بھی غم حسین کو حسینی دوہڑوں کے ذریعے اجاگر کیا گیا ۔ آج کا شاعر سلام و منقبت کے ذریعے اپنے عہد کے دکھوں کو بھی سامنے لا رہا ہے اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو مشعل راہ بنا کر یزیدی قوتوں کے خلاف برسر پیکار ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فیوچر ٹیلنٹ ہنٹ خطے میں اعلیٰ سطح پر فروغ ادب کے لیے کام کر رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیوچر ٹیلنٹ ہنٹ کے زیر اہتمام مقامی کالج میں ریختہ چیپٹر 17 کے مسالمہ سے صدارتی خطاب میں کیا ۔ مہمانان خصوصی میں قطر سے آئے ہوئے نامور شاعر انور علی رانا ،ڈاکٹر شکیل پتافی ، وسیم ممتاز ، کومل جوئیہ ،یحی سرور چوہان ،اور اشہر کامران تھے جبکہ شیر افگن جوہر،راجا کوثر سعیدی اور عدیل احمد خان مہمانان اعزاز تھے ۔دیگر شعراء میں کوئٹہ سے توفیق احمد عطش،جلال الدین نادار،ذیشان علی ظفر ، مرتضیٰ زمان گردیزی ،تانیہ عابدی ، فہیم ممتاز، روفی سرکار، کیف صحرائی ،احمد مسعود قریشی، یاسر نعیم ، احسان ماہی صابری ، فیضان احمد فیضی ،حنظلہ صدیقی ،سبط احسن، وقاص جاذب راؤ شامل تھے مشاعرے کی نظامت راؤ وحید اسد اور دلاور حسین دلاور نے کی معروف سنگر قیصر نواز بھٹہ نے ترنم میں منقبت پیش کی مشاعرہ شروع سے آخر تک اپنے عروج پر رہا ۔
فیس بک کمینٹ

