حالیہ سینٹ کے ممبران سمیت چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے ۔یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے سینٹ کے انتخابات تھے جس کی سیاسی شدت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ حکومت اور حزب اختلاف میں یہ سیاسی جنگ ذاتیات پر مبنی جنگ بن گئی تھی جس سے سیاسی ماحول میں کافی تلخی دیکھنے کو ملی ۔انتخابات کے خاتمہ کے بعد بھی حسب روایت انتخابی نتائج کو قبول نہ کرنے کی جو ہماری سیاسی تاریخ ہے وہی کھیل دوبارہ بالادست ہوگیا ہے ۔حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم کے بقول چیرمین و ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں ان کے امیدواروں کو حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے باہمی گٹھ جوڑ نے ہرایا ہے ۔اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم چیرمین وڈپٹی چیرمین کے انتخاب کو چیلنج کررہی ہے ۔
سینٹ کے موجودہ انتخابات ہر لحاظ سے پاکستان کی سیاست ، جمہوریت اور قانون سمیت ایک مہذہب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے ۔یہ ہی وجہ ہے ان انتخابات کو بنیاد بنا کر ہماری داخلی وخارجی دونوں محاذوں پر سیاسی ساکھ پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ ان انتخابات کی سیاسی ساکھ پر سب سے زیادہ سوالات خود وزیر اعظم عمران خان نے ہر فورم پر اٹھائے او ران کے بقول سینٹ جیسے اہم ادارے کو سیاسی منڈی میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ انتخابات میں کرپشن ، بدعنوانی ، اقراپروری اور پیسوں کا بے دریغ استعمال سمیت ووٹوں کی خرید و فروخت جیسے معاملات کی وجہ سے پہلے ہی ہمارا مجموعی انتخابی نظام اپنی ساکھ کھوبیٹھا ہے ۔پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں جن میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کئی جماعتیں شامل ہیں موجودہ سینٹ کے انتخاب کے طریقہ کار کو چیلنج کرتی رہی ہیں ۔ ان کے بقول سینٹ میں انتخابات کی شفافیت کے لیے خفیہ بیلٹ کے مقابلے میں اوپن بیلٹ کے تحت انتخاب ہونا چاہیے ۔
وزیر اعظم عمران خان نے اوپن بیلٹ کی حمایت میں حزب اختلاف سے رجوع کیا مگر سیاسی بداعتمادی کی وجہ سے وہ اس اہم معاملے میں سیاسی حمایت حاصل نہیں کرسکے ۔حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ایک صدارتی آرڈینینس جو عدالتی فیصلہ سے مشروط تھا جاری کیا ۔مگر کیونکہ سپریم کورٹ آئینی ترمیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی اس لیے اس نے یہ معاملہ دوبارہ حکومت او رپارلیمنٹ پر ہی ڈال دیا کہ وہ خود آئینی ترمیم کا راستہ اختیار کریں ۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تجویز کیا کہ وہ ان انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے جو بھی اقدام اٹھانا چاہے وہ اٹھاسکتا ہے کیونکہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے او رانتخابات کی شفافیت اس کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ۔ لیکن الیکشن کمیشن نے موجودہ سینٹ کے انتخابات میں وقت کی کمی کی وجہ سے وہ کچھ نہ کیا جو عدالت نے اسے تجویز کیا یا حکومت ووٹوں کی سیکریسی کے بارے میں کرنا چاہتی تھی ۔
جب ملک کی اعلی او ربڑی سیاسی قیادت سمیت ملک کی اعلی سیاسی اشرافیہ یا اہل دانش کا طبقہ کے بقول سینٹ جیسے ادارے میں انتخابات کے نام پر میلہ منڈی جمہوریت کی توہین ہے ۔جو طریقہ انتخاب سینٹ کا موجودہ ہے وہ ایک اعلی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ۔جبکہ ہمارے جیسے معاشرے جہاں جمہوری اقدار پر کئی طرح کے سنجیدہ سوالات ہیں وہاں اخلاقی بنیادوں پر جمہوری مقدمہ کو چلانا آسان کام نہیں ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا ایوان بالا اپنا سیاسی وقار کھوچکا ہے ۔حکومت اپنی تمام تر کوشش کے باوجودخفیہ رائے شمار ی کا طریقہ کار تبدیل کروانے اور اسمبلی میں نمائندگی کے اعتبار سے سینٹ کی نشستوں کی تقسیم کا طریقہ تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں حزب اختلاف خفیہ رائے شماری اور چیرمین و ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں اوپن بیلٹ کی حمایت کرتی ہوئی نظر آئی جو ان کے سیاسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے ۔
سینٹ کے حالیہ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی بطور سینٹر جیت اور اس کے بعد ان کی چیرمین سینٹ پر شکست یا ڈپٹی چیرمین کی نشست پر مولانا غفور حیدری کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان غلطیوں کو زیادہ شدت سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی قوتیں خود ہی اس پورے سیاسی نظام کو تماشہ بنارہی ہیں ۔ پی ڈی ایم کا موقف ہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ پر عددی برتری ان کو حاصل تھی جسے اقلیت میں تبدیل کیا گیا ۔لیکن اسی اصول کے تحت خود یوسف رضا گیلانی کی جیت کیسے ہوئی اور وہ کیوں جیتے اس کا جواب بھی پی ڈی ایم کو دینا چاہیے ۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ کہنا کہ جو مخالف ووٹ ہمیں ملیں وہ ضمیر کی آواز ہیں اور جو ہمارے مخالف کو ملے و ہ خرید وفروخت ہے کھلا تضاد ہے ۔سیاسی نظام کی بنیادی خوبی اس کی سیاسی ساکھ اور شفافیت پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔ اگر یہ نظام شفافیت کھودے تو اس کے نتیجے میں بدعنوانی پر مبنی سیاسی نظام جنم لیتا ہے جس کا سامنا اس وقت پاکستان کی سیاست ، جمہوریت اور ریاست کو درپیش ہے ۔
سینٹ کے انتخابات کے حالیہ سبق سے ہماری ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں سمیت اہل دانش کے بڑے طبقے یا رائے عامہ کی تشکیل دینے والے انفرادی یا ادارہ جاتی عمل کو بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔سینٹ سمیت انتخابی اصلاحات ایک بہت بڑی سیاسی ، انتظامی ، قانونی سمیت اخلاقی تبدیلیوں کا تقاضہ کرتا ہے ۔مسئلہ محض سینٹ کے ارکان کا نہیں بلکہ اس مجموعی سیاسی قیادت کا ہے جو خود سیاسی جرائم پر مبنی ایسے اقدام کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جو جمہوریت اور سیاست سمیت قانون کی حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے ۔ اگر واقعی ہم نے سینٹ جیسے اہم ادارے کی سیاسی ساکھ اور شفافیت پر مبنی نظام کو بحال کرنا ہے تو ہمیں غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی اقدامات کرنے ہونگے ۔ اس کے لیے سیاسی نظام کو جہاں باہمی اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا بلکہ نظام کی اصلاح کے لیے کئی کڑوی گولیاں بھی کھانی ہونگی تاکہ نظام کی درستگی میں بڑی سرجری ممکن ہوسکے ۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں سینٹ جیسے ادارے کی اصلاح کے لیے چند بڑے اقدامات پر سوچنا ہوگا۔ اول حکومت اور حزب اختلاف مل کر خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ کا راستہ اختیار کریں ۔دوئم اگر متناسب نمائندگی کا اصول اختیار کرنا ہے تو پھر کسی بھی جماعت کو صوبائی سطح پر ملنے والی نشستوں کے تناسب سے سینٹ میں نشستیں ملنی چاہیے ۔ سوئم اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے سینٹ کے براہ راست انتخاب پر بھی غور وفکر کرنا چاہیے ۔ چہارم سینٹ کو زیادہ سے زیادہ بااختیار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے سیاسی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکے ۔پنجم یہ جوطریقہ سیاسی جماعتوںنے اختیار کیا ہوا ہے کہ کسی بھی صوبہ کی نمائندگی اس کے صوبہ کا فرد کرنے کی بجائے کسی دوسرے صوبہ کے فرد کو پسند کی بنیاد نشست دی جاتی ہے اس پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے ۔ششم جو لوگ یا جماعت براہ راست اس سیاسی نظام میں ووٹوں کی خرید وفروخت میں ملوث پائے جاتے ہوں تو ان پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے ہونگے۔ ہفتم سیاسی جماعتوں سے جڑے سیاسی جماعتوں کے ایکٹ سمیت الیکشن ایکٹ 2017کو زیادہ سے زیادہ مضبوط،مربوط اور شفاف بنانا ہوگا جوسخت نگرانی کے ساتھ سیاست میں موجود خرابیوں پر بلاتفریق قانونی اقدام کرسکے ۔ہشتم جو سینٹ کے ممبران پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اپنا ووٹ دینا چاہتے ہیں تو وہ کھل کر اس کا اظہا ر کریں نہ کہ پس پردہ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر اپنی سیاسی قیمت لگائیں ۔
یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں ہونا چاہیے ۔اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں ، ریاستی اداروں ، آئینی و قانونی اداروں علمی و فکری دانش ورسمیت سول سوسائٹی او رمیڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم دنیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنے نظام کی اصلاح میں خود آگے بڑھیں اور اس نظام میں فیصلہ ساز افراد یا اداروں پراپنا دباو بڑھائیں کہ شفافیت پر مبنی اصلاحات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنائیں ۔وزیر اعظم عمران خان کو اس تناظر مےں پارلیمنٹ میں ایک بڑی انتخابی اصلاحات کو بنیاد بنا کر پہل کرنی چاہیے اورحزب اختلاف بھی اس اہم و سنجیدہ معاملے میں وہی کچھ کرے جو سیاست، جمہوریت او رملک کے مفاد میں ہو۔
فیس بک کمینٹ

