اہم خبریں

منی لانڈرنگ کیس : شہباز شریف کی ضمانت منظور ، چھ ماہ بعد رہائی

لاہور : لاہور ہائی کورٹ میں شہباز شریف کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر ضمانت منظور کر لی گئی، احکامات کے مطابق انہیں پچاس پچاس لاکھ کے دو مچلکے جمع کروانا ہوں گے۔ جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی نیب کی طرف سے سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری پیش ہوئے جبکہ شہباز شریف کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ سمیت دیگر وکلا نے دلائل دیے۔
سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے درخواست میں موقف اختیارکیاکہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے، ٹرائل جاری ہے۔ کئی ماہ سے جیل میں قید ہوں تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے، نیب نے کوئی ریکوری نہیں کرنی۔ ٹرائل باقاعدگی سے جوائن کرتا رہوں گا، عدالت ضمانت پر رہائی کا حکم دے۔ ان کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے دلائل دیے کہ شہباز شریف پاکستان کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں ۔ نیب نے شہباز شریف اور ان کے خاندان پر سات ارب 32 کروڑ کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا۔ منی لانڈرنگ ریفرنس میں نیب کے کل 110 گواہ ہیں جن میں صرف 10کے بیان ریکارڈ ہوئے ہیں۔ نیب کے ریفرنس میں نیب کے چار وعدہ معاف گواہ ہیں۔ شہباز شریف کے دونوں صاحب زادے اپنے کاروبار کرتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں۔ نیب کورٹ کی رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ ریفرنس کم از کم ایک سال سے قبل مکمل نہیں ہو سکتا ۔
اعظم تارڑ نے کہاکہ نیب کے ایس او پیز ہیں کہ یہ عورت، بیمار شخص اور 70 سال سے زائد عمر کے شخص کو گرفتار نہیں کرتے لیکن شہباز شریف بیمار ہیں اور عمر 70 سال سے زیادہ ہے۔ شہباز شریف سات ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ٹرائل تاخیر کا شکار ہے ۔ 15 نومبر 2017 کو 56 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں ۔ نیب نے شہباز شریف کو صاف پانی کمپنی کیس میں طلب کیا توشہباز شریف بطور چیف منسٹر اور بطور اپوزیشن لیڈر نیب میں پیش ہوتے رہے۔ نیب نے صاف پانی کمپنی میں طلب کر کے آشیانہ کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کر لیا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے دوران ہی نیب نے انہیں رمضان شوگر مل کیس میں گرفتار کر لیا ۔
اعظم نزیر تارڑ نے دلائل دیے کہ لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس میں شہباز شریف کو ضمانت دی نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں بھی ڈلوایا جو ہائیکورٹ کے حکم پر نکالا گیا۔ شہباز شریف کی عمر صحت اور ٹرائل کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت منظور کیاجائے۔ عدالت نے استفسار کیاکہ شہباز شریف پر جو الزامات ہیں ان کا بتایاجائے۔
جس پر اعظم تارڈ نے عدالت کو بتایاکہ نیب نے شہباز شریف کے خلاف 7ارب روپے اثاثوں کا کیس بنایاہے اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ شہباز شریف کے بیوی بچے ان کے بے نامی دار ہیں جب کہ ان کے بیٹے کاروبار کرتے ہیں اور ٹیکس اداکرتے ہیں نیب ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں کرسکا۔
یہ دلائل منگل کے روز دیے گئے جس پر نیب پراسکیوٹر کی جانب سےدلائل دینے کے لیے درخواست پر سماعت ایک دن کے لیے ملتوی ہوئی اور آج بروز بدھ نیب پراسیکیوٹر سید فیصل بخاری نے شہباز شریف پر الزامات کا دفاع کیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ شہباز شریف کو
113کروڑ40لاکھ کےشیئرحصےمیں آئے جو انہوں نےاپنے بچوں کو دے دیے۔
2018 میں اثاثہ جات7ارب 32کروڑ پرپہنچ گئےجب کہ شہباز شریف خاندان کے 1990 سے قبل ایک کروڑ 65 لاکھ روپےکے اثاثے تھے۔ وراثت میں رمضان شوگر مل شہباز شریف خاندان اور چودھری شوگر مل نواز شریف خاندان کو آئی شہباز شریف کی ایگریکلچر سے جو آمدن ہوئی وہ انہوں نے نہیں بتائی۔
شہباز شریف کہتے ہیں کہ انہیں 124 ملین کا منافع آیا لیکن کاروبار کیا تھا یہ نہیں بتایا کہ کاروبار کون سا تھا۔ شہباز شریف کے 9 بے نامی دار ہیں جن کے نام پر اثاثے بنائے گئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جائیداد کی تقسیم کے وقت رمضان شوگر مل شہباز شریف کے حصے میں آئی چودھری شوگر مل نواز شریف اور عباس شریف کے حصے میں آئی۔ شہباز شریف نے2009 میں اپنی جائیداد تقسیم کی ، حمزہ شہباز اور سلمان شہبازکو جو ٹی ٹیز آتی تھیں وہ یہ اپنی والدہ کو دیتے تھےٹی ٹیز کے علاوہ ان کی والدہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا۔ فیصل بخاری کے مطابق شہباز شریف فیملی کا ایک طریقہ کار تھایہ جس دوران پبلک آفس میں ہوتے تب ٹی ٹیز نہیں آتی تھی مثال کے طور شہباز شریف کے اکاونٹ میں پبلک آفس کے دوران کوئی ٹی ٹیز نہیں آئیں۔
نصرت شہباز کے 299 ملین روپے کے اثاثہ جات ہیں ان کے اکاؤنٹ میں 26 ٹی ٹی بھجوائی گئیں ان ٹی ٹیز کی کل مالیت 137 ملین روپے ہے انہوں نے ماڈل ٹاؤن 96 ایچ گھر اور 87 ایچ گھر ٹی ٹی رقم سے خریدے۔ان کو وزیراعلیٰ کا کیمپ آفس بنا کر ساڑھے پانچ کروڑ روپے تذئین و آرائش پر خرچ کیے گئےنصرت شہباز نے ٹی ٹیز سے کمپنی بنائی جس کی ڈائریکٹر بنیں۔ عدالت نےنیب پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ یہ تو آپ بے نامی دار کا بتا رہے ہیں شہباز شریف کا بتائیں ۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیاکہ سلمان شہباز نے 2003 میں اپنے 19 لاکھ کے شئیر ڈیکلیر کیےجو بھی اثاثے بنے 2005 کے بعد بنے جب ٹی ٹیز آنا شروع ہوئیں پاپڑ والے کے اکاونٹ میں 14 لاکھ ڈالر بھیجے گئےاسی طرح محبوب علی کو دس لاکھ ڈالر آئے جسکا پاسپورٹ ہی نہیں بنا۔ نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران کے اکاؤنٹ میں دس ٹی ٹیز بھیجی گئیں ۔ شہباز شریف کے شریک ملزم طاہر نقوی اشتہاری ہیں ان کے اکاؤنٹ میں بھی لاکھوں کی ٹی ٹیز آئیں طاہر نقوی ٹی ٹیز کی ساری رقم سلمان شہباز کو دیتا تھا ۔ شہباز شریف کے پورے خاندان نے ٹی ٹیز وصولی کیں۔ وزیر اعلی سیکریٹریٹ کے ملازمین کے اکاونٹ میں پیسے آتے رہے جنہیں ہارون یوسف آپریٹ کر رہا تھاان سب کا تعلق کہیں نہ کہیں شہباز شریف سے تھا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز کیس میں بھی عدالت نے مرکزی ملزم شہباز شریف کو قرار دیا اس لیے درخواست ضمانت خارج کی جائے۔ عدالت نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں شہباز شریف کی ضمانت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker