شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کا مزاحیہ مضمون : حکیم عاجلہ و کاجلہ

خواتین و حضرات ہرچند کہ یہ بات اتنی پرانی بھی نہیں ہوئی کہ اس کی داڑھی مونچھ نکل آئی ہو۔ قصہ کوتاہ بلکہ بے وجہ کچھ یوں ہے کہ انتخابات کا موسم تھا میں اور حکیم عاجلہ و کاجلہ ان کی پھٹیچر بائیک پر بیٹھے ایک کارنر میٹنگ میں شرکت کے لیئے جا رہے تھے حکیم صاحب کی جس بائیک پر ہم سفر کر رہے تھے اس کا چلنا بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ بائیک کیا تھی چلتی پھرتی 302 تھی کہ جس پر سوار ہونے سے پہلے خود حکیم صاحب اس بات کے پیش نظر کہ کیا پتہ یہ ان کا آخری سفر ہو، ہمیشہ مرنے کے بعد اپنے درجات کی بلندی بارے دعا فرماتے تھے۔ بائیک کی خوبیاں گنوانے سے پہلے کیوں نہ آپ حضرات سے صاحب بائیک مطلب حکیم صاحب کا تھوڑا سا تعارف کرا دیا جائے۔
آپ کا پورا نام حکیم اے کے(47 نہیں بلکہ) ارشد عرف حکیم عاجلہ و کاجلہ ہے۔ عاجلہ اس لیئے کہ آپ ہر کام عجلت میں کرتے ہیں کسی بھی دعوت میں اس قدر عجلت میں کھانے کا صفایا کرتے ہیں کہ اکثر دینے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ پتہ نہیں ان کو کھانا دیا بھی تھا کہ نہیں ؟ اسی طرح کی عجلت بازیوں کی وجہ سے آپ کا نام حکیم عاجلہ پڑ گیا جہاں تک کاجلہ کا تعلق ہے چونکہ ہر وقت آنکھوں میں کاجل لگائے رکھتے ہیں اس لیئے کاجلہ بھی کہلاتے ہیں۔
آپ ہمارے محلے کے بیچ بازار کے ساتھ ایک تنگ گلی کے عین شروع میں حکمت کی دکان کرتے ہیں آپ نے کلینک کے ایک طرف پینٹ کا سامان بھی رکھا ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ سائیکلوں کے پنکچر بھی لگا لیتے ہیں اور یہ کام اتنی ایمانداری سے کرتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے بلکہ بقلم خود آپ کو سائیکل پر ایک پنکچر لگا کر دو کے پیسے وصول کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ اس قدر عاجز واقع ہوئے ہیں کہ معمولی فیس کے عوض بچوں کی نیپیاں بھی تبدیل کردیتے ہیں ۔ سیزن میں آپ کے کلینک پر برف بھی مل جاتی ہے جبکہ آف سیزن میں آپ آلو چھولوں کی ریڑھی بھی لگا لیتے ہیں جسے آپ کی بیگم ہینڈل کرتی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ حامل نوٹ ھذا کے مطالبے پر واش روم کی ٹوٹیاں بھی ٹھیک کر دیتے ہیں۔
چونکہ ہماری طرح حکیم عاجلہ و کاجلہ صاحب کو بھی سیاست کا لپکا ہے اس لیئے انتخابات کے دنوں میں آپ ہر اس کارنر میٹنگ میں شرکت فرماتے ہیں کہ جس میں کھانے پینے کا سامان وافر مقدار میں موجود ہو۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم بائیک پر بیٹھے جس سڑک پر خدا کے سہارے چلے جا رہے تھے اسے بناتے وقت ٹھیکیدار صاحب نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ قوم کا کوئی ناہنجار از قسم ایڈونچر پسند بچہ اس پر ون ویلنگ نہ کر سکے ۔ چنانچہ اسی خدشے کے پیش نظر اس نے سڑک بناتے ہوئےاس قدر احتیاط برتی تھی کہ اس پر بائیک چلاتے ہوئے ہمارے منہ سے ٹھیکیدار صاحب کے لیئے بے اختیار و مسلسل نعرہ ہائے تحسین کا غلغلہ بلند ہو رہا تھا بلکہ بعض جگہ تو سڑک پر اس قدر باریک کام کیا گیا تھا کہ ہمارا نعرہ کہیں اور پڑا ہوتا، تحسین ایک طرف اور ہائے بلکہ ہائے ہائے دوسری طرف ۔
اسی طرح کی آہ و بکا کرتے ہوئے آخر کار ہم کارنر میٹنگ میں جا پہنچے دیکھا تو امیدوار صاحب دھواں دھار خطاب فرما رہے تھے حاضرین مجلس بظاہر تو امیدوار کا خطاب سن رہے تھے لیکن ان کے کان دیگوں کی کھڑکھڑاہٹ اور پلیٹوں کی سرسراہٹ پر لگے ہوئے تھے تقریر کرتے کرتے اچانک امیدوار صاحب جوش خطابت میں کہنے لگے جو ہماری بات سے اتفاق نہیں کرتے وہ گدھے ہیں اس بات کا سننا تھا کہ حکیم صاحب ایک دم غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے پھر میرے پوچھنے پر بولے، دیکھ نہیں رہے اس شخص نے مجھے گدھا کہا ہے آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر جانےکے لیئے قدم اٹھایا ہی تھا کہ عین اسی وقت ان کے نتھنوں میں بریانی کی خوشبو آ گئی۔ بریانی کی خوشبو پاتے ہی آپ میری طرف دیکھ کر بولے۔ میاں تم کہتے ہو تو ہم درگزر کیے دیتے ہیں ورنہ ہمارے غصے کو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ایک منٹ میں ہر چیز تہس نہس کر دیتے ہیں۔
حکیم صاحب کے بارے میں بعض شرپسند عناصر یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کو حکمت کے علاوہ ہر کام آتا ہے۔یہ بات سراسر جھوٹ اور ان پر نہایت بے ہودہ الزام ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میرے سامنے ایک مریض کلینک میں وارد ہوا اس کے گھٹنے میں چوٹ لگی ہوئی تھی آپ نے حسب ضابطہ سٹیتھو سکوپ سے اس کے گھٹنے کو ملاحظہ فرمایا۔پھر آنکھ کی پتلیاں (اچھی طرح) چیک کیں۔ دونوں کانوں میں باری باری (زور سے) تالی بجا کر قوت سماعت کی جانچ کی ۔ غرض ہر طرح کی تسلی کے بعد آپ نے اسے سر درد کی دوائی پکڑا دی۔ جب وہ شخص کلینک سے باہر نکلا تو میں نے حکیم صاحب سے پوچھا کہ جناب چوٹ تو اسے گھٹنوں پر لگی تھی اور دوائی آپ نے سر درد کی پکڑا دی ہے اس میں کیا راز پوشیدہ ہے؟ اس پر آپ جواب دیتے ہوئے بولے میاں میرا کام تو فقط دوائی دینا ہے شفا تو صرف من جناب اللہ ہے۔اگر اسے شفا ملنی ہوئی تو مٹی کی پڑیا سے بھی مل جائے گی یہ تو پھربھی سر درد کی دوائی ہے۔
اسی طرح کا ایک اورسچا واقعہ راوی کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ ایک مریض کے پیٹ میں شدید درد تھا وہ اس کی شدت سے چلاتے ہوئے آپ کے کلینک میں داخل ہوا۔ شور سن کر آپ برف والا سوا لہراتے ہوئے اپنے کمرہ خاص سے برآمد ہوئے ۔ان کو یوں سوا لہراتے دیکھ کر مریض یک دم (سہم کر) چپ ہو گیا۔ یہ ماجرا دیکھ کر آپ کے ڈسپنسر نے جو کہ پارٹ ٹائم مستریوں کا کام بھی کرتا ہے نے فرط جزبات سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا دیکھا استاد جی آپ کا چہرہ دیکھ کر ہی مریض بھلا چنگا ہو گیا ہے ۔ اس پر حکیم صاحب نے بڑے فخر سے کہا یہ سب استاد کی دعا ہے پھر اس کے پاس جا کر آہستہ سے بولے تو اس کو قابو میں رکھ ، میں برف دے کر ابھی آیا ۔
خواتین و حضرات مندرجہ واقعات سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ آیا آپ جناب کو حکمت آتی ہے یا نہیں؟۔نیز اس بات کا تعین بھی خود ہی فرما لیں کہ آپ کس ” پائے” کے حکیم ہیں چھوٹے یا بڑے ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker