شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کا مزاحیہ مضمون : کالم نگار کی غبارہ گردی

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ جب میرا کالم شائع ہوا تو میں اسے لے کر اپنے دوست کے پاس چلا گیا اور اسے کالم دیتے ہوئے بڑے فخر سے بولا پڑھ کے بتا کیسا لکھا ہے ؟ اس نے میرے ہاتھ سے کالم لیا ۔اور پڑھنے کے بعد اس نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے کہہ رہا ہو فٹے منہ تیرا ۔ لیکن اس کے برعکس وہ بڑی مروت سے بولا پہلے یہ بتا کہ تمہیں کالم لکھنے کا مشورہ کس حکیم نے دیا تھا؟ مجھے ساری سٹوری سنا۔ اس کی فرمائش پر میں نے بتانا شروع کیا بہت پرانی بات ہے اتنی پرانی کہ اب تو اس بات کی بھی مونچھیں نکل آئیں ہیں۔ ایک ویب سائیٹ پر ہماری شاعری شائع ہو ئی اپنی شاعری کو نیٹ پر دیکھ کر مانو ہماری تو باچھیں کھل گئیں سو ہم نے جھٹ سے 10 بندوں کو میل کی، 20 کو ای میل کی کہ ہماری شاعری ملاحظہ فرماؤ ، دوڑو ، دیکھو کہ صنفِ شاعری میں کس شیر نے قدم رنجہ فرمایا ہے اردو ادب کو کیا صاحب طرز شاعر میسرآگیا ہےصفحہء قرطاس پہ کیا نقش ابھرا ہے۔ پر وائے افسوس! کہ ایک ابھرتے ہوئے ستارے کی کسی نے بھی قدر نہ کی۔ بلکہ مارے حسد کے ان میں سے 5 نے تو پڑھنے سے صاف انکار کر دیا ، 10 نے دھتکار دیا دو ایک نے ملامت کی اور باقی نے چپ سادھ لی۔یوں ہماری قدر نہ ہونے پہ دل ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا نیز لوگوں کے اس گھناؤنے عمل سے ہم پر یہ راز بھی آشکارا ہو گیا کہ اس صدی میں عظیم شخصیات کیوں نہیں پیدا ہو رہیں۔
اپنی اس ناقدری پر ہم کف افسوس مل رہے تھے کہ ایک جاننے والے نے ہمارے پرانے سے منہ کا رخ کالم نویسی کی طرف موڑ دیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ چند مخلص احباب نے بھی یہی مشورہ دیا کہ شاعری میں کیا رکھا ہے لکھنا ہے تو کالم لکھو کہ اس میں بڑی “ٹور” ہے۔ احباب کے منہ سے ٹور کا لفظ سن کر ہمارے کان کھڑے ہو گئے۔ من مچلا ،دل گدگدایا ،لیکن قبل اس کے کہ ہم مزید جذ باتی ہوتے عقل نے سمجھایا (حیرت ہے ہماری عقل نے ہمیں بھی کچھ سمجھایا) کہ میاں پہلے ہی بڑی مشکلوں اورمنت ترلوں کے بعد شاعری پبلش ہوئی تھی۔کالم کون چھاپے گا؟یہی بات چند دوستوں نے بھی سمجھائی ۔ بات تو سچ تھی لیکن آفرین ہے ہم پر کہ ہم نے جملہ ٍو من جملہ احباب کے سامنے اپنی خودی کو بلند رکھا اور ان سے بولے ہو سکتا ہے کہ آپ لوگ درست فرما رہے ہوں لیکن پبلک کے پر زور اصرار پر ہم کالم ضرور لکھیں گے۔ اس طرح یہ فیصلہ تو ہو گیا کہ کالم لکھنا ہے لیکن کس موضوع پر لکھوں۔ اس کا فیصلہ نہ ہو سکا۔کسی نے کہا سیاست پر لکھو ۔ اس پر عرض کی کہ مجھے تو سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہ ہے تو کہنے والے نے کہا کہ اسی لیئے تو کہہ رہے ہیں کہ سیاست پر لکھو کہ اگر تمہیں سیاست کا کچھ پتہ ہوتا تو پھر آپ کو کرکٹ کے بارے میں لکھنے کا نہ کہتے۔بات جمی نہیں ،سو وہ ہمیں بغرض مشورہ اک مرد دانا کے پاس لے گئے کہ کیا لکھیں؟ سوال سن کر الٹا وہ کہنے لگے کہ بھائی آپ کیا لکھنا چاہتے ہو؟عرض گزار ہوئے کہ عالی جاہ! اسی لیئے تو بندہ حاضر ہوا ہے کہ کچھ مشورہ دیں تب مرد دانا نے کہا کہ سوچنا پڑے گا اور سوچنے کے لیئے سگریٹ کا ہونا ضروری ہے ایسا کرو کہ دوڑ کر ایک ڈبی گولڈ لیف کی لے آؤ ۔تا کہ سگریٹ سلگا کر اطمینان سے تمہارے مسلے پر غور کیا جا سکے پھر کہنے لگے اور ہاں جا ہی رہے ہو تو چائے والے کو ایک سیٹ چائے بمعہ بسکٹ کا بھی کہہ دینا کہ چائے دماغ کو تر رکھتی ہے اور بسکٹ سے منہ کاذائقہ ٹھیک رہتا ہے۔ مرد دانا کی بات سن کر تاؤ تو بہت آیا لیکن قہر درویش بر جان درویش کے مصداق بندہ نے سگریٹ خریدے اورچائے والے کومعہ بسکٹ کا آرڈر دے دیا۔ اس بھاری انویسٹ منٹ کے بعد واپس آ کر سگریٹ کی ڈبی مرد دانا کے حوالہ کی لیکن ایسا کرنے سے پہلے احتیاطً اپنے منہ پر مزید مسکینی و غربت طاری کر لی (کہ مبادا وہ نابکار کوئی اور فرمائش نہ کر دے ) اور اس کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور پھر ہماری طرف یوں دیکھنے لگے کہ جیسے بڑی عید پر قصائی بکرے کو دیکھتا ہے۔مرد دانا کے ساتھ ایک صاحب بھی بیٹھے تھےجو کہ حسن اتفاق سے دانشور بھی واقع ہوئے تھے۔بدقسمتی سے میری ان کے ساتھ کچھ علیک سلیک بھی تھی۔وہ مجھے دیکھتے ہوئے پہلی دفعہ ( کفن پھاڑ کے ) بولے کہ یار کالم چھوڑ جیسی تیری شکل ہے تم کالم لکھنے کی بجائے کمرشل مارکیٹ میں غبارے بیچا کرو۔دانشور کی بات سن کر بندہ جل کر کباب ہو گیا پھر سوچا کہ ایک ڈبی سگریٹ پر تو یہی مشورہ مل سکتا تھا (ابھی چائے اور بسکٹ نہیں آئے تھے)اتنے میں چائے اور بسکٹ بھی آ گئے۔ یہ لوازمات دیکھ کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی اور گویا ہوئےیارتم نے کچھ تو سوچا ہو گا؟ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ طبیعت مزاح کی طر ف مائل ہے سوچتا ہوں مزاحیہ کالم لکھوں۔سن کر کافی محظوظ ہوئے بولے طبیعت تو نہیں البتہ آپ کی شکل کافی مزاحیہ واقع ہوئی ہے کالم کی بجائے اپنی فوٹو کیوں نہیں شائع کرواتے؟ کہ اس طرح خلق خدا پڑھنے کے عذاب سے محفوظ رہے گی۔ہم کہ اندرون خانہ خود کو کافی چندے آفتاب چندے ماہتاب نما کی چیز سمجھتے تھے۔یہ کڑوا سچ سن کر خاصے بے مزہ ہوئے لیکن بولے کچھ نہیں بس اک کھسیانی سی ہنسی ہنس کر رہ گئےکہ ایسے موقعوں پر مجبوروں کا یہی دستور چلا آ رہا ہے ہماری صورت دیکھ مرد دانا کو شاید ترس آ گیا یا چائے بسکٹ نے اپنا کمال دکھایا ، بولے ہاں یہ ٹھیک ہے تم مزاحیہ کالم لکھا کرو پھر مزید احسان فرماتے ہوئے بولے لیکن کالم کے ساتھ اپنی تصویر کو ہر گز نہ چھپوانا پوچھنے پر ارشاد فرمایا کہ کالم کے ساتھ فوٹو لگانے سے تم پہچانے جاؤ گےاور ناحق لوگوں سے گندے انڈے اور ٹماٹر کھاؤ گے-
ساری کتھا سنانے کے بعد میں نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور بولا سو بھائی کالم نگاری کی طرف آنے کی یہی وجہ تھی اب بتاؤ کہ میرا کالم کیسا لگا؟ سن کراس ناہنجار نے میری طرف دیکھا اور پھر پکا سا منہ بنا کر کہنے لگا میری بھی وہی رائے ہے جو کہ دانشور کی تھی یعنی کالم نگاری کی بجائے تم کمرشل مارکیٹ میں غبارے بیچا کرو۔اس پر میں نے ناہنجار سے بھی پکا منہ بنایا اور پوچھا کون سے؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker