رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : اگر ہم ہزارے ہوتے ؟

فرض کیا ہم ہزارے ہوتے ، ہمارا ہزارہ برادری سے تعلق ہوتا اور اب ہم جن برادریوں ، ذاتوں اور قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں فرض کیجیے ہم ان میں سے نہ ہوتے اور ہم جہاں اب رہتے ہیں فرض کیجئے ہم وہاں نہ رہتے ،فرض کیجئے ہم اسی کوئٹہ میں ہوتے جہاں یہ ہزارے رہتے ہیں اور فرض کیا ۔۔ لیکن فرض تو کچھ اور بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے کہ ہم پشتون ہوتے یا ہمارے آباءو اجداد دراوڑ کی بجائے داوڑ ہوتے یا ہم لاپتہ ہونے والے بلوچ اور سندھی ہوتے ۔ دکھ ہمارا پھر بھی کم و بیش ایسا ہی ہوتا لیکن ہم صرف ہزارہ ہونا ہی کیوں فرض کر رہے ہیں ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہزاروں کا دکھ ان سب کے دکھوں سے مختلف اور ان سب سے بڑھ کر ہے کہ انہیں تو اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا بھی دینا پڑتا ہے اور ایک بار نہیں ہر بار دینا پڑتا ہے ۔۔ سو ہم اس دکھ کی شدت محسوس کرنے کے لئے اپنا ہزارہ ہونا فرض کر رہے ہیں۔۔ لیکن اگلا سوال پھر یہ سامنے آتا ہے کہ کیا دکھوں کو فرض کر لینے سے ان کی شدت محسوس کی جا سکتی ہے ِ؟
بہت سے لوگوں کا جواب شاید یہ ہو کہ کسی کے دکھ کو فرض کر لینے سے اس کی شدت کو محسوس نہیں کیا جا سکتا لیکن جناب اسے فرض کرنے سے ان مظلوموں کا دکھ بانٹا تو جا سکتا ہے ، سو ان سے اظہار یکجتی کے لیے ہی فرض کریں کہ ہم ہزارے ہوتے اور جنوری کی بدن چیرتی ہوئی سردی میں جب نلوں کا پانی جم رہا ہےہم لاشوں کے ساتھ دھرنا دے کر کسی سڑک پر بیٹھے ہوتے اور پہلی بار نہیں‌تیسری اور چوتھی بار بیٹھے ہوتے۔ ہر بار کوئی نیا وزیر اعظم ہمیں دھرنے سے اٹھانے آیا ہوتا اور ہر بار ہم نے آنسو پونچھتے ہوئے اگلے جنازوں‌تک دھرنا ختم کیا ہوتا اور فرض کیا اسی دھرنے میں ہماری برادری کی کچھ خواتین روتی اور ماتم کرتی ہمارے پاس آئی ہوتیں اور ہم سے کہتیں کہ ہمارے خاندان میں تو کوئی جنازہ اٹھانے والا مرد ہی باقی نہیں بچا اور یہ جو ہمارے پیاروں کی کچھ لاشیں بے گور و کفن ہیں ان کی تدفین میں آپ ہماری مدد تو کر دو اور پھر ہم ان کے جنازے اٹھانے میں ان کی مدد کرتے اور پھر سوچتے کہ کل جب ہم بھی نہیں رہیں گے ہم جو ہزارے ہیں اور ہم جو ہزاروں تھے اور اب سیکڑوں رہ گئے ہیں تو کل جب ہم بھی نہیں رہیں گے تو ان عورتوں اور ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو ہمارے جنازے اٹھانے میں کون مدد دے گا ؟ اور یہ جو پوری نسل ہی ختم کی جا رہی ہے یہ بھلا کب تک بچ سکے گی کہ ما رنے والے لاکھوں کے مقابلے میں یہ تو بس چند ہزارے ہی باقی بچے ہیں ۔
بس رہنے دیجئے ایسا فرض کرنا بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور ہم اپنے نرم گرم بستر میں بیٹھ کر ان کے دکھوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے ، کچھ فرض بھی نہیں کر سکتے کہ ہم پر تو اب کچھ فرض رہا بھی نہیں‌ ، ہمارے لیے تو اب سب کچھ فرض کفایہ ہو گیا ہے ۔۔دو سال قبل ہم نے ہزاروں کے لیے ایک نظم کہی تھی آج پھر وہی نظم آپ کی نذر

کدال تیزکیجئے

جناب تیزکیجئے

اک اور قبر کھود لیں

وہاں بہت سے لوگ تھے قطار میں کھڑے ہوئے

اوراس گھڑی وہ سب یہاں قطار میں پڑے ہوئے

لہو لہو دھرے ہوئے

کدال تیز کیجئے

ابھی تو پہلی قبر ہے

ابھی تو وقتِ عصر ہے

ابھی نہ سانس لیجئے

کدال تیز کیجئے

یہ میتیں ہیں آج پھر ہمارے سامنے دھری

کچھ آگئی ہیں اورا بھی بہت سی راہ میں بھی ہیں

کہ چند میتیں یہاں مرے نوا ح میں بھی ہیں

اور ان کے ساتھ لوگ ہیں

کہ جن کے شانے شل ہوئے

کہ ان کے جتنے خواب تھے

وہ موت کا بدل ہوئے

کدال تیز کیجئے

ابھی نہ سانس لیجئے

ہزاروں رورہے ہیں اب

یہ سب کے سب شہید ہیں

شہید جن کاسامنا بھی کفر سے نہیں ہوا

مگر شہید ہو گئے

جناب شام ہوگئی

کدال تیز کیجئے

یہ قبر کھود لیجئے

یہ لاش گود لیجئے

بلوچ یا پٹھان تھے

جہان سے چلے گئے

اے بد نصیب چپ ذرا یہ خوش نصیب لوگ تھے

یہ خوش نصیب لوگ جو

لہو میں تو نہا گئے

مگر سکون پا گئے

( بشکریہ : سب نیوز اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker