شاہد مجید جعفریکالملکھاری

کے سے کالم ۔۔ شاہد مجید جعفری

دوستو یہ سن صفر سے دو دن پہلے کی بات ہے کہ مختلف اخبارات میں ریگولر کالمز وغیرہ پڑھ پڑھ کے ۔۔ پتہ نہیں کیوں ایک دن اچانک ہی مجھ پر یہ الہام ہوا کہ ایسے کالم تو میں بھی لکھ سکتا ہوں ۔ اور پھر یہ الہام کچھ اس تواتر سے مجھ پر وارد ہوا۔۔۔ کہ بقول شخصے میں نہ دن کو چین نہ رات کو چین۔۔۔۔ یونس فین یونس فین ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ واقعہ سخت تھا اور جان عزیز ۔۔۔۔ چنانچہ کچھ دن تو میں نے صبر اور دل پر جبر کیا ۔۔۔ لیکن جب کوئی افاقہ نہ ہوا تو تنگ آ کر میں نے کاغذ قلم سنبھالا اور جھٹ پٹ ایک عدد کالم لکھ مارا ۔۔۔ کالم لکھنے کے بعد جب اسے پڑھا تو وہ مجھے اس قدر پسند آیا کہ میں بقلم خود اس پر ہزار جان سے فدا ہو گیا ۔۔۔ اور پھر اتنی اچھی تحریر لکھنے پر خود ہی اپنی پیٹھ تھپتھپائی اور اپنے آپ کو شاباش دیتے ہوئے سوچا کہ جب اتنا اچھا کالم لکھ ہی لیا ہے تو پھر کیوں نہ اسے کسی معروف اخبار میں چھپوا بھی دیا جائے ۔ چنانچہ اپنے کالم کو چھپوانے کی غرض سے بندے نے کمرِ ہمت باندھی اور ایک معروف اخبار کے دفتر کی طرف چل نکلا۔۔۔۔چلتے چلتے جونہی ایک معروف اخبار کا دفتر نظر آیا۔۔۔تو میں نے اپنا منہ اس کے مین گیٹ کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔۔۔ نزدیک پہنچ کر دیکھا تو آس پاس کہیں بھی گارڈ نما مخلوق نظر نہ آئی ۔ چنانچہ اس بات کو میں نے اپنے لیئے نیک شگون سمجھا اور پھر آس پاس دیکھتے ہوئے اس دفتر میں داخل ہونے کی نیت باندھ لی لیکن اندر جانے سے پہلے ایک بار پھر میں نے احتیاطً ۔۔۔ ایک نظر اِدھر۔۔ پھر ۔۔۔ایک نظر اُدھر ۔۔۔ڈالی تو دیکھا کہ گارڈ تو کیا دُور دُور تک اس کا سایہ بھی نہ نظر آ رہا تھا ۔ چنانچہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ایک نعرہء مستانہ بلند کیا کہ موقعہ چنگا توں فیدہ اُ ُٹھا لے منڈیا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس منڈے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔اور غڑاپ سے اخبار کے دفتر میں گھس گیا ۔ اور چلتے چلتے ایک ایسے کمرے میں جا پہنچا کہ جہاں پر ایک بہت بڑی کرسی پر ایک چھوٹا سا آدم بیزار شخص ۔۔۔۔ اپنی موٹی سی ناک پر چھوٹی سی عینک لگائے دبکا بیٹھا تھا اسے دیکھ کر میں اس کی طرف بڑھا ۔۔۔۔اور ۔۔۔ بڑے ادب سے سلام کیا ۔۔۔میری آواز سنتے ہی ان حضرت نے عینک کے شیشے کے اوپر سے میری طرف دیکھا اور پھر اسی بے زاری کے عالم میں بولے۔۔۔ جی فرمایئے؟؟؟؟؟ ان کو متاثر کرنے کی خاطر ادب بھرا سلام تو میں پہلے ہی داغ چکا تھا ۔۔۔۔اب سلام کے بعد ۔۔ کچھ یوں کلام کیا کہ حضور میں لکھتا ہوں ۔۔۔میری بات سن کر ان کے آدم بیزار چہرے پر خاصی برہمی کے آثار پیدا ہوئے اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے پھاڑ کھانے والے انداز میں بولے۔۔۔۔ میاں لکھتے ہو تو میں کیا کروں؟ اس پر میں نے ان کی طرف دیکھ کر ڈرتے ڈرتے جواب دیا کہ وہ جی میں چھپوانے کے لیئے ایک عدد کالم لایا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے مجھ پر ایک بڑی ہی سخت گھوری ڈالی ۔۔۔۔اور پھر ۔۔ میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا کالم۔ الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے بولے ۔۔میاں یہ تو بتاؤ کہ پہلے بھی کبھی لکھا ہے؟ تو بندے نے بڑے فخر کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی یاد پڑتا ہے کہ بچپن میں ایک دو بار تختی لکھی تھی میری بات سن کر انہوں نے افسوس بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر میرے دیئے ہوئے کالم کو ۔۔ اپنے سامنے میز پر رکھ کر اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ میرے کالم کو پڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک ہی کہیں سے اخبار کا گارڈ جو کہ اتفاق سے پٹھان تھا ۔۔۔ نمودار ہو گیا ۔۔اور خون خوار نظروں سے گھورتے ہوئے سیدھا میری طرف بڑھا۔۔۔ اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اسے حریفانہ کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ اخبار کے دفتر میں مانگنا منع ہے ۔۔لیکن تم لوگ باز نہیں آتے ۔۔اور مجھے باہر کی طرف کھینچنے لگا۔۔۔اتنے میں اس منحنی سے شخص نے جو کہ اس وقت میرا لکھا ہوا کالم پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا نے سر اُٹھا کر اس گارڈ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ خان بھائی اسے یہیں رہنے دو۔ اس کی بات سن کر خان نے ایک قہر بھری نظر مجھ پر ڈالی اور پھر کہنے لگا۔۔ ٹھیک ہے صاحب ہم اس کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔لیکن اگر بڑے صاحب نے کچھ کہا تو امارا ذمہ نہیں ہو گا۔۔ یہ کہہ کر وہ بڑبڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ خان کے جانے کے بعد وہ منحنی سا شخص جو کہ بعد میں معلوم ہوا کہ سب ایڈیٹر تھا نے کالم پڑھ کے ایک ٹھنڈی سانس بھری (جیسے کہ سر سے بھاری بوجھ اتار لیا ہو) اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔یہ کالم آپ نے خود لکھا ہے؟ تو ان کا سوال سن کر ہم نے اپنی ڈیڑھ اینچ کی چھاتی کو مزید پھلاتے ہوئے کہا کہ جی جناب یہ کالم میں نے بقلم خود لکھا ہے۔۔پھر تھوڑا وقفہ دے کر بولا ۔۔۔۔ بلکہ اس کے چھپوانے کا معاوضہ بھی لوں گا ۔ میرے منہ سے معاوضے کا سن کر انہوں نے بڑی سخت نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے میاں تم معاوضہ لینے کی بات کر رہے ہو اور ادھر میں سوچ رہا ہوں کہ میں تم سے اس کالم کو پڑھنے کے پیسے لوں۔ سب ایڈیٹر صاحب کی بات سن کر مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا۔۔۔ سر کالم اچھا نہیں تھا۔؟ تو وہ بڑی طنزیہ نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔ اچھے کو چھوڑو پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ یہ کالم تم نے کس جناتی زبان میں تحریر کیا ہے؟ لاکھ کوشش کے باوجود بھی میں اسے نہیں پڑھ سکا۔۔ سب ایڈیٹر صاحب کی بات سن کر میں تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے ان سے بولا ۔۔۔ سوری سر میری لکھائی کچھ خراب ہے تو اس پر کہنے لگے تم اسے خراب کہہ رہے ہو جبکہ مجھے تو لکھائی کے ساتھ ساتھ تم خود بھی خاصے خراب لگ رہے ہو ۔ پھر اچانک ہی کہنے لگے کالم تو چلو تم نے کسی نہ کسی طرح لکھ ہی لیا ہے ۔۔۔ لیکن مجھے یہ بتاؤ میاں کہ کیا تم کو کالم کے سپیلنگ بھی آتے ہیں؟ اور ہم کہ ٹھہرے ٹاٹیرین ۔۔۔یعنی کہ ٹاٹ سکول کے پڑھے ہوئے ایک عظیم الشان (خصوصاً انگریزی میں) نالائق ترین بندے ۔۔۔۔۔ سو ایڈیٹر صاحب کی بات سن کر میں نے جھٹ سے کہہ دیا ۔۔۔ کیوں نہیں جناب۔۔۔ کے سے کالم ہوتا ہے پھر باقاعدہ کالم کے سپیلنگ سناتے ہوئے بولے ۔۔ کے اے ایل اے ایم ۔۔۔کالم ۔ میرے بتائے ہوئے کالم کے سپیلنگ سن کر وہ خاصے محظوظ ہوئے اور پہلی دفعہ میں نے ان کے زیرِ مکھی مونچھ ایک ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی میز پر پڑے ہوئے میرے کالم کے پرچے کو اُٹھایا اور مجھے دیتے ہوئے نہایت ہی نازیبا نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے۔۔۔۔ جاؤ میاں اور اپنا “کے سے کالم ” لے جاؤ ۔ پھر کہنے لگے اور جب تمہیں سی سے کالم لکھنا آ جائے تو میرے پاس چلے آنا۔ تو میں اسے شائع کرنے کے بارے میں سوچوں گا۔۔ اور پھر اس ساتھ ہی انہوں نے مجھے ایک نہایت ہی رکیک قسم کا اشارہ بھی کر دیا ۔۔۔۔ جس کا مطلب تھا کہ اس سے پہلے کہ وہ گارڈ کو بلائیں۔۔۔ میں فوراً یہاں سے دفعہ ہو جاؤں ۔۔اور یوں میں بڑا بے آبرو ہو کر وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔۔
سو پیارے دوستو اس عظیم حادثے کے بعد ایک لمبے عرصے تک میں سی سے کالم تو نہ لکھ سکا ۔۔۔۔ ہاں اس کے علاوہ کافی کچھ “الم غلم” لکھتا رہا جس کی مجھے پزیرائی بھی ملی۔۔لیکن ۔۔۔۔۔۔ آج سن صفر کو گزرے صفر سے بھی زیادہ عرصہ بیت گیا ہے اور اس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے اور شنید ہے کہ ان میں سے ایک دو پُل ٹوٹ بھی گئے ہیں ۔۔۔۔ ادھر میں بھی نو جوان سے اب ” ادھکڑ ” ہو گیا ہوں لیکن میرے دل کے نہاں خانے میں ابھی تک کالم لکھنے کی خواہش موجود ہے چنانچہ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں حسبِ معمول اخبار کا ایک بور کالم پڑھ رہا تھا کہ اچانک پھر سے مجھ پر وہی الہام نازل ہوا ہے کہ اس سے بور کالم تو میں خود بھی لکھ سکتا ہوں ۔سو دوستو۔۔اس بار کالم کے درست سپیلنگ آنے کے باوجود میں نے جان بوجھ کر سی سے کالم کی بجائے “کے سے کالم” ہی لکھنا پسند کیا ہے چنانچہ اگر اللہ اور ایڈیٹر صاحب کو منظور ہوا ۔۔۔۔۔اور آپ لوگوں کی طرف سے پزیرائی ملی تو حوصلہ رکھیئے گا کہ آئیندہ سے آپ لوگوں کو “کے سے کالم ” کے بینر تلے ایسے ہی مزید کالم پڑھنے کو ملیں گے ۔ ورنہ۔۔۔۔”الم غلم” تو میں لکھ ہی رہا ہوں۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker