شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہدمجید جعفری کامزاحیہ کالم: لالہ خواہ مخواہ لاغر بندہ برائے مردم شماری

خواتین و حضرات ! اگر ہم محبت خان عرف لالہ خواہ مخواہ لاغر صاحب کی وفات حسرت آیات سے لے کر اب تک کی ساری زندگی پر ایک غیرطائرانہ سی نظر دوڑائیں تو ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ آپ دنیا میں محض خانہ پری کے لیئے تشریف لائے تھے آپ کا واحد کارنامہ جو کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا وہ یہ تھا کہ آپ مر گئے ۔آپ کے مرنے کا اس ملک وقوم کو یہ فائدہ ہوا کہ اسی بہانے ویہلے پاکستانیوں میں ایک کھانے والا نہ صرف کم ہوگیا بلکہ اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک شناختی کارڈ کی کمی بھی نوٹ کی گئی۔ چونکہ لالہ خواہ مخواہ لاغر صاحب کا شمار ہمارے محلے کے بہت بڑے اور بے کار دانشوروں میں ہوتا تھا اس لیئے جس طرح ملکہ برطانیہ کے مرنے کی اطلاع ان کی شہد کی مکھیوں کو دی گئی تھی اسی طرح لالہ خواہ مخواہ لاغر صاحب کے مرنے کی اطلاع بھی بڑے اہتمام سے(ان کا خون چوسنے والے) محلےکے آوارہ مچھروں اور اس قبیع کے دوسرے حشرات الارض کو دی گئی لیکن یہ اندوہناک خبر سن کر ان پرچنداں کوئی اثر نہ ہوا بلکہ لاغر صاحب کی وفات حسرت آیات کا سن کر ایک لوفر اور ناہنجار قسم کے مچھر نے ( اس دکھی ۔۔اور غم ز دہ ماحول میں بھی ) پہلے تو خبر لانے والے کی طرف منہ کر کے ایک نہایت ہی نامعقول اور لچر قسم کا اشارہ کیا (جو کہ تعزیرات پاکستان کے مطابق قابل گرفت تھا) پھر ہنس کر بولا بادشاہو ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لاغر مرا ہے یا نحیف۔۔۔ہم نے تو فقط خون چوسنا ہوتا ہے لاغر کا نہ سہی کسی اور کا چوس لیں گے۔ان کی اس بات سے ہمیں اندازہ ہوا گویا کہ قدرت کی طرف سے انہیں خون چوسنے کا این آر او ملا ہوا ہے۔
اگر ہم لالہ خواہ مخواہ لاغر صاحب کے کارناموں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ جان کے خاصی مایوسی ہوتی ہے کہ انہوں نے دنیا میں آ کر سوائے قرض لینے اور بیگم کی جھاڑ سننے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا ویسے یہ ایک لحاظ سے اچھا ہی ہوا کہ آپ نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔وہ اس لیئے کہ اس ملک میں جس نے بھی کوئی اچھا یا بڑا کام کیا ہے اس بے چارے کو کون سی پذیرائی ملی ہے؟ لاغر صاحب نے تو پھر بھی دنیا میں تشریف لا کر سب سے پہلے فارم “ب”پھر شناختی کارڈ بنوالیا تھا۔اس کے علاوہ آپ گاہے گاہے مردم شماری والا فارم بھی بھرا کرتے تھے۔
آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ اپنے والد صاحب کی بارہویں اولاد تھے جب ان کے پیدا ہونے کی مبارک باد والد صاحب کو دی گئی تو وہ تڑاخ سے بولے مبارک کس بات کی؟۔۔ یہ بچہ تو ایسے ہی خواہ مخواہ پیدا ہو گیا ہے چونکہ آپ شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی خاصے غیرت مند واقع ہوئے تھے اس لیئے مرتے دم تک قبلہ مرحوم اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہی کہتے اور لکھتے رہے جبکہ والدہ نےان کا نام بڑے چاؤ سے محبت خان رکھا تھا چونکہ فارغ وقت میں آپ شاعری بھی فرماتے تھے جسے اساتذہ خاصہ کمزور بلکہ بعض سنگ دل اسے نحیف اور بےوزن گردانتے تھے اس لیئے بطور احتجاج آپ نے اپنا تخلص لاغر رکھ لیا تھا۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ لاغر صاحب ہمارے محلے کے بہت بڑے دانشوار اور بے بدل عالم تھے اس لیئے بڑے بڑے جید قسم کے لوگ از قسم شیدا ڈھول والا ۔میدا قلفی اور چاچا ڈھیں پٹاس و دیگر زُعما جن میں ایرا غیرا اور نتھو خیرا شامل ہیں ۔ان کے آگے زانُوے تَلَمُّذ تَہہ کرتے تھے لیکن آپ نے کبھی اس بات کا غرور نہیں کیا تھا بلکہ اس کے برعکس آپ نے ہمیشہ جھاڑ ہی کھائی تھی جس میں زیادہ حصہ ان کی نصف بہترکا تھا جو کہ بڑے اہتمام سے ان کی دیا کرتی تھیں۔ علم و حکمت میں ان کو ملکہ حاصل تھا آپ کس قدر بڑے اور بے کار عالم تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے امریکن پاپ سٹار مائکل جیکسن کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئےفرمایا تھا کہ مائیکل جیکسن انگریزوں کا عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہے۔
دنیا میں تشریف لانے کے بعد جلد ہی آپ کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ آپ محض رونق دنیا کےلیئے پیدا کیے گئے ہیں۔آپ کا مشہور شعر اسی بات کی عکاسی کرتا ہے ۔۔ یاد رہے، آپ کا یہ شعر عوام و خواص میں کشتوں کے پشتے لگاتا ہوا اچھی خاصی داد شجاعت پا چکا ہے۔۔۔فرماتے ہیں
مردم شماری کے لیئے پیدا کیا خواہ مخواہ لاغر کو۔۔
ورنہ کام کے لیئے کچھ کم نہ تھے ابا جی کے بچے اور بچیاں ۔
آپ کو اس بات کا شک ہی نہیں بلکہ حق الیقین تھا کہ آپ دنیا میں محض خانہ پری کے لیئے آئے ہیں ۔ جبکہ ان کے شاگردآخری دم تک یہی کہتے پائے گئے کہ کہ آپ دنیا میں آئے ہیں تو یقیناً کوئی بڑا کام بھی کریں گے جس پر آپ سرد آہ بھر کر فرمایا کرتے تھے کہ عزیزو ! اس سے اور بڑا کام کیا ہو گا کہ میں پیدا ہو گیا۔ اسی سلسلہ میں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کی سالی محترمہ کی شادی تھی جس میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تمبو قناتیں لگانے کے ساتھ ساتھ آپ کے ذمے کیٹرنگ والے کے چمچے پورے کرنے۔ جگ گلاس صاف کرنے اور جھوٹی پلیٹیں دھونے کی ڈیوٹی بھی لگی ہوئی تھی (یہ الگ بات کہ آپ نے سسرال والوں سے نظر بچا کر باراتیوں کی طرف سے اچھالے گئے پیسوں کو بھی خوب لوٹا تھا)۔ چمچے اور جگ گلاس گن کر پورے کرنے اور شادی کی جھوٹی پلیٹیں دھو دھو کر آپ نیم جان ہو گئے تھے ۔جب میں ان سے ملنے گیا تو آپ بستر پر لیٹے ہائے ہائے کر رہے تھے اتنے میں ان کی بیگم بھی کمرے میں داخل ہو گئیں میں نے انہیں شادی کی مبارک باد دی تو وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے بولیں کیا بتاؤں بھائی صاحب شادی کے کاموں نے تو میری اور میرے بھائیوں کی کمر ہی توڑ دی ہے اس کے بعد وہ سرسری سے لہجے میں بولیں ہاں یاد آیا ہمارے ساتھ ساتھ محلے کے دو چار اور لوگوں کے نے بھی تھوڑا بہت کام کیا ہےجن میں لاغر صاحب بھی شامل ہیں۔ بیگم کی بات سن کر انہوں نے بڑی مر وح نظرو ں سے میری طرف دیکھا اور کمر پر ہاتھ کر بلبلاتے ہوئے بولے دیکھا! میں نہ کہتا تھا کہ بندہ فقط مردم شماری کے لیئے پیدا ہوا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker