شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

سیل فون ، آلہ ء صوت الکذب اور چاچا مس کال ۔۔ شاہد مجیدجعفری

جیسے لاؤڈ سپیکر کو اردو میں آلہء صوت المکبر کہا جاتا ہے اسی طرح میرے خیال میں موبائل فون کا اردو ترجمہ “آلہء صوت الکذب الجدید”ہونا چاہیئے کیونکہ جتنے جھوٹ اس “موئے” موبائل پر بولے جاتے ہیں اتنے تو شاید سیاستدان بھی نہیں بولتے ہوں گے ،مثلاً میرا ایک دوست ہر چھٹی پر کچھا ( نیکر ) بنیان پہن کر گھر کے سارے کپڑے دھوتا ہے لیکن غلطی سے اگر کوئی فون کر لے تو وہ گلو گیر آواز بناتے یہی جواب دیتا ہے کہ یار میں ذرا دادی کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہا تھا ۔اسی طرح ایک مرتبہ میں اور میرا دوست اپنے تیسرے دوست سے ملنے اس کے گھر گئے وہاں جا کر جب میں نے اسے دروازہ کھولنے کے لیے فون کیا تو وہ بولا کہ ۔۔ یار بچےضد کر رہے تھے میں تو ان لے کر میریٹ آیا ہوا ہوں پھر اس نے جھٹ سے فون کاٹ دیا۔۔مزیدار بات یہ کہ ایک تو اس کی آواز لاؤڈ ہے دوسرا وہ کہیں دروازہ کے پاس ہی کھڑا بیگم سے باتیں کر رہا تھا۔ہم نے اپنے گناہ گار کانوں سے بھابھی کی آواز سنی کہ “اجی کس کا فون تھا۔”
“اے مٹی ڈالیں بیگم۔۔ بڑا ہی فضول بندہ ہے ” کہتے کہتے اس نے دروازہ کھولا ۔۔ پھر ہمیں سامنے دیکھ کر اس کی جو حالت ہوئی ۔۔ اسے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔
صرف آلہ الکذب ہی نہیں اب تو موبائل ایک خاصے کی چیز بھی ہے کہ اس میں آواز ہی نہیں اب دُور درشن کی سہولت بھی میسر ہے۔ یہ الگ بات کہ وڈیو کال کرتے وقت لوگ ایسی ایسی شکلیں بناتے ہیں کہ کارٹون نیٹ ورک کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ چھوٹا سا آلہ ہماری روز مرہ زندگی میں اس قدر دخیل ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ صبح اُٹھ کر منہ دھونے سےبھی پہلے موبائل چارج کرتے ہیں۔
چارجر سے یاد آیا کہ جیسے آج کل مہمان گھر میں داخل ہوتے ہی وائی فائی پاسورڈ مانگتے ہیں اسی طرح سمارٹ فون آنے سے پہلے ،مہمان “پتلی پن والے چارجر “کا تقاضہ کیا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے جب میں نے نیا نیا موبائل فون لیا تھا تو اپنی” واجبی تعلیم “کے سبب بڑا عرصہ میں سیل فون اور موبائل فون کو الگ الگ سمجھتا رہا چنانچہ جب ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے پاس سیل فون ہے ؟ تو میں نے فخریہ”پڑھا لکھا” جواب دیتے کہا کہ “سر سیل فون تو نہیں البتہ موبائل فون ضرور ہے ۔” جس زمانے میں موبائل کو پاکستان میں متعارف ہوئے ابھی تھوڑا ہی ٹائم گزرا تھا اورچونکہ یہ ایک سٹیٹس سمبل بھی سمجھا جاتا تھا اور یار لوگ اس کو ہاتھ میں پکڑے کچھ ایسے اتراتے جیسے پولیس والے کسی مشتبہ کو پکڑے سرِِ بازار فخریہ چلتے ہیں ۔ ایک مرتبہ ہمارے پڑوس کی ایک ” شوئی”فیملی کو ان کے بیٹے نے” باہر ” سے موبائل فون گفٹ بھیجا ساتھ ہی خاص کر اپنے ابا یعنی ہمارے ” میاں جی” کو بڑی سختی سے تاکید بھی کی کہ اسے ہر وقت ساتھ رکھیں تاکہ “برادری شریکے ” کو آگ لگی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں نے انہیں صرف کال وصول کرنے والا فنکشن بھی سمجھا دیا اور یہی بات غضب ہو گئی ایک دفعہ اتفاق سے میاں جی کو بہت سی مس کالیں یک مشت آ گئیں۔ ہر کال پر میاں جی بڑے اہتمام سے بٹن آن کرتے اور جیسے ہی ہیلو کرتے فون بند ہو جاتا ۔۔۔جب ایسا لگا تار ہوا تو میاں جی کو جلال آ گیا۔ انہوں نے اگلی بار ریڈی سٹیڈی ہو کر فون پر ہاتھ رکھا اور جیسے ہی بیل بجی انہوں نے فوراً سے بھی پہلے بٹن دبایا پھر “انے واہ ” ( بے دریغ ) ایسے ایسے ارشادات فرمائے کہ اللہ دے اوربندہ لے ۔۔
اسی طرح میاں جی کا ایک اور واقعہ بڑا مشہور ہے اور وہ یہ کہ ایک دفعہ جب کسی نے میاں جی کو بار بار مس کالز دیں تو تنگ آ کر اس نے وہاں پر کھڑے ہمارے ایک محلے دار کو فون پکڑایا اور کہنے لگے یار ذرا دیکھ کر تو بتاؤ کہ یہ بار بار کون ۔۔مجھے مس کال پہ مس کال دے رہا ہے میاں جی کی بات سن کر ہمارے محلے دار نے ان سے فون لیا اور کافی دیر تک اس کی جانچ پڑتال کرتا رہا ۔ پھر کچھ دیر بعد اچانک اس نے میاں جی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا چاچا میں نے مس کال دینے والا بندہ پکڑ لیا ہے اور اب میں اس کا نمبر ملا کر آپ کو دے رہا ہوں جیسے ہی آگے سے ہیلو کی آواز سنائی دے آپ نے اس پر پل پڑنا ہے اور اسے وہ سنانی ہیں کہ اس کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں ۔
پھر اس شخص نے جلدی سے نمبر ملایا ۔۔اور ہمیں آنکھ مار کر وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا بعد میں پتہ چلا کہ اس نے میاں جی کو ان کی بیگم کا نمبر ملا کر دیا تھا ۔ ادھر نمبر مل کر جیسے ہی دوسری طرف سے ہیلو کی آواز سنائی دی میاں جی جو پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے نے فُل والیم میں اسے ماں بہن کی گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ کافی سارے تبرے نکالنے کے بعد جیسے ہی چاچا سانس لینے کے لئے رُکا تو آگے سے چاچی کی آواز سن کر ۔۔۔۔اچانک ہی چاچے کے چہرے کا رنگ ا ُڑ گیا ۔۔ غضب ناک لہجے کی جگہ مسکینی نے لے لی اور وہ بڑی ہی مری ہوئی آواز میں کہنے لگا ۔۔ اللہ میاں کی سچی قسم بیگم ۔۔ یہ سب میں تم کو نہیں کہا تھا ۔ مجھے تو ۔۔ اتنی بات کرتے ہی چاچے نے غضب ناک نظروں سے اس طرف دیکھا کہ جس طرف آخری دفعہ ہمارا وہ محلے دار کھڑا تھا ۔۔ لیکن وہ ادھر ہوتا تو نظر آتا نا ۔۔
لیکن اس واقعہ کے بعد محلے والوں کو اس بات کا پتہ چل گیا تھا کہ میاں جی مس کال سے بہت چڑتے ہیں بس پھر کیا تھا میاں جی کا نام چاچا مس کال پڑ گیا۔
ایک دن کی بات ہے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل کارڈ پکڑے میرے پاس آکربولے کہ یار ذرا یہ تو بتاؤ کہ کارڈ کہاں پر ڈلتا ہے، اصل میں میری بیٹی کارڈ ڈالتی تھی لیکن آج کل وہ پھوپھی کی طرف گئی ہوئی ہے۔۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بھی اس کے بارے میں ککھ پتہ نہیں تھا لیکن ان کے سامنے اپنی عزت بنانے کے لئے میں نے ان سے موبائل پکڑا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے اس میں کارڈ ڈالنے کی جگہ تلاش کرتا رہا ۔۔ جگہ نہ ملنی تھی اور نہ ملی ۔۔میں نے چاچے پر اس بات کو ظاہر نہ ہونے دیا اور پھر اپنی خودی کو بلند کرتے ہوئے میں نے چاچے کی طرف دیکھ کر کسی دانشور کی طرح سر ہلایا کہ جیسے ساری بات سمجھ میں آ گئی ہو اور پھر چاچے مس کال کے ہاتھ میں موبائل پکڑاتے ہوئے بولا میرا خیال ہے کہ اس کو کھول کر اس کے اندر کارڈ ڈالا جاتا ہے ۔۔ میری بات سنتے ہی چاچے مس کال نے الیکٹریشن کی دکان سے پیچ کس پکڑا ۔۔ اور کسی نہ کسی طرح سارے موبائل کو کھول لیا ۔۔اور پھر ۔۔اس دن ان کی گالیوں کی ساری ٹریل میرے نام تھی۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker