شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

بکرا ،بکری اور وڈا ڈنگر ۔۔ شاہد مجید جعفری

اللہ جھوٹ نہ بلوائے آج صبح سے محلے میں آنے والی یہ تیسری پِک اپ تھی کہ جس پر ڈیپ فریزر لدا ہوا تھا ۔ اور ان ڈیپ فریزرز کی بہار دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس ماہ کی ساری کمیٹیاں ہمارے ہی محلے والوں کی نکلی ہیں۔ اسی اثناء میں تیسری پِک اپ بھی میرے قریب پہنچ چکی تھی دیکھا تو اس کی اگلی سیٹ پر شیخ صاحب کچھ یوں پھنسے بیٹھے تھے کہ جس کی وجہ سے شیخ صاحب کے ساتھ ساتھ بے چاری سوزوکی کو بھی سانس لینا دو بھر ہو رہا تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پک اپ عین میرے سامنے آ کر رُک گئی ۔ سوزوکی کے رکتے ہی اس کا اگلا دروازہ کھلا کہ جس کی “نمانی” سیٹ پر شیخ صاحب ٹھونسے ہوئے تھے دروازہ کھلتے ہی سب سے پہلے شیخ صاحب کی بڑی سی توند نکلی ذرا ٹھہریئے نکلی کہاں ۔۔یہ تو ان کی توند کا ٹِپ آف آئس برگ تھا ۔۔ جبکہ پکچر ابھی باقی تھی ۔ چنانچہ توند کا چھوٹا حصہ نکلنے کے بعد ۔۔ پھر اس کا بقایا حصہ نکلا جس کو باہر نکالنے میں ان کے بیٹے ببلو نے بھی مدد کی تھی۔ ۔۔ دھیرے دھیرے جب شیخ صاحب کی ساری توند نکل چکی تو پھر اس کے بعد شیخ صاحب کا دھڑ اور اس کے ساتھ منسلقہ جملہ و من جملہ ہائے اجزائے بدن نکلے ۔۔اور پھر سب سے آخر میں ان کا چھوٹا سا سر نکلا ۔ لحیم شحیم شیخ صاحب کے باہر نکلتے ہی چھوٹی سی سوزوکی اور اس کے ڈرائیور نے سُکھ کا سانس لیا۔ادھر شیخ صاحب کے باہر نکلتے ہی میں نے اور ببلو نے مل کر ڈیپ فریزر اُٹھایا اور پھر چلتے چلتے میں نے ببلو سے پوچھ ہی لیا کہ یار یہ ہمارے محلے میں دھڑا دھڑ ڈیپ فریزر کیوں آ رہے ہیں ؟ تو میری بات سن کر ببلو کہنے لگا کہ بھائی جان آپ کو معلوم نہیں کہ بڑی عید آ رہی ہے ببلو کی بات سن کر میں ساری بات سمجھ گیا اور پھر اس سے بولا کہ یار آپ کے گھر میں تو پہلے سے فریج موجود تھی پھر آپ لوگوں نے یہ ڈیپ فریزر کیوں خریدا؟ میری بات سن کر ببلو نے میری طرف دیکھا اور پھر آنکھ دبا کر بولا ۔۔ وہ بھائی جان اس دفعہ ہم نے بڑا ڈنگر جو کرنا ہے ببلو کی بات سن کر میں نے سر ہلایا اور پھر شیخ صاحب کی دیکھتے ہوئے بولا کہ اچھا تو اس دفعہ آپ نے وڈے ڈنگر کی قربانی دینی ہے۔
یہ چاند رات کی بات ہے کہ جب میں اور ببلو مویشی منڈی پہنچے وہاں جا کر دیکھا تو جانور زیادہ، ان کو دیکھنے والے ان سے زیادہ ، جبکہ خریدار بہت ہی کم تھے یہاں آ کر ببلو اور میں نے منڈی کا ایک چکر لگایا۔ اور پھرتے پھراتے ہمیں ایک بکرا پسند آ گیا جو کہ دیکھنے میں بہت خوبصورت اور اچھا خاصہ فربہ تھا۔ اس کی قیمت پوچھنے سے پہلے ہم دونوں نے اس کے ناک ، کان، دانت اور سینگ وغیرہ کا اچھی طرح ایکسرے کیا اور جب بیوپاری سے اس کی قیمت پوچھی تو اس نے اتنی زیادہ قیمت بتائی کہ جسے سن کر میرے پاؤں تلے سے چپل نکل گئی اور پھر میں اور ببلو نے باہمی اتفاقِ رائے سے بیوپاری کو اس بکرے کی قیمت بتائی جسے سن کر بیوپاری کا ہاسا نکل گیا اور وہ ہم سے مخاطب ہو کر بڑے طنزیہ لہجے میں کہنے لگا کہ شکر کرو کہ تمہاری بتائی ہوئی رقم بکرے نے نہیں سنی ۔۔ورنہ اس نے تم دونوں پر ہتکِ عزت کا دعوٰی دائر کر دینا تھا پھر سنجیدہ ہو کر کہنے لگا ویسے بھائی لوگ آپ غلط جگہ پر آ گئے ہو ان پیسوں کے حساب سے آپ کوئی اچھا سا مرغا خرید لو۔
ہم بیوپاری کی ہرزہ سرائی سن کر خاصے بے مزہ ہوئے اور پھر وہاں سے کسی دوسرے بکرے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہر چند کہ مارکیٹ میں ایک سے بڑھ کر ایک بکرا موجود تھا ۔۔ لیکن وہ بات کہاں جو کہ مولوی مدن ۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس بکرے میں تھی ۔ اس لیئے ادھر ادھر پھرنے کے بعد ایک بار پھر ہم اسی بیوپاری کے پاس پہنچ گئے اور مطلوبہ بکرے کے پاس کھڑے ہو گئے ہمیں بکرے کے پاس کھڑا دیکھ کر اس پہلوان نما بیوپاری نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کہ میں نہ کہتا تھا باؤ کہ پوری منڈی کا چکر لگا لو اس جیسا بکرا تمہیں کہیں نہیں ملے گا ا س کی بات ختم ہوتے ہی میں نے اس سے بکرے کی قیمت پوچھی ۔تو اس نے دوبارہ سے وہی قیمت بتا دی جو کہ وہ پہلے ہی بتا چکا تھا جیسے ہی اس نے اپنی قیمت دہرائی تو اس پر میں نے بھی اسے اپنی پرانی قیمت بتا دی۔ میرے منہ سے پرانی قیمت کا سن کر جیسے ہی اس نے قہر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے جھٹ سے کہا چلو آپ دس روپے اوپر لے لو میری پہلی والی قیمت پر اس کا ہاسا نکلا تھا تو اس دفعہ دس روپے اوپر کا سن کر اس کا رونا نکل گیا اور وہ بڑے غصے سے ببلو کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔اوئے ڈڈو اس سے پہلے کہ میں کچھ کروں تم فوراً اس نمونے کو لے کر یہاں سے دفعہ ہو جاؤ اور اگر یہ بندہ دوبارہ نظر آ گیا تو اس کے ساتھ ساتھ تمہاری بھی خیر نہیں ہو گی۔ اس پہلوان نما بیوپاری کا خون خوار لہجہ سن کر میری طرح ببلو بھی سہم گیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر وہاں سے لے آیا۔
ایک بار پھر ہم نے پوری بکر منڈی کا چکر لگایا لیکن کوئی بکرا پسند نہ آیا۔ وجہ شاید وہی تھی کہ میرا دل ابھی تک اسی بکرے پر اٹکا ہوا تھا چنانچہ جب ہم بکر منڈی میں پھر پھر کر تنگ آ گئے تو میں نے ببلو سے کہا آخری ٹرائی کے طور پر کیوں نا ایک دفعہ پھر اس بکرے کے بارے میں پوچھ لیا جائے ؟ یہ فیصلہ کرتے ہی ہم دوبارہ اسی پہلوان نما بیوپاری کے پاس جا پہنچے دیکھا تو ابھی تک اس کا ایک بھی بکرا نہیں بکا تھا چنانچہ میں نے جاتے ہی اس پہلوان نما بیوپاری سے کہا کہ اس سے پہلے میں نے بکرے کے دس روپے بڑھائے تھے اب اس میں پندرہ روپے مزید شامل کر لو۔ میری بات سنتے ہی اس نے کھا جانے والی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر آواز لگاتے ہوئے بولا اوئے شیدے میدے پپو سارے ادھر آ جاؤ اس باؤ کو بکرا دینا ہے ۔ بیوپاری کی بات سنتے ہی تین چار کن ٹٹے آئے اور آتے ساتھ ہی ایک نے مجھے بازو سے پکڑ ا جبکہ دوسرے نے اڑنگا دے کر نیچے گرا دیا ۔اور پھر ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے مجھے منڈی کے باہر پھینک آئے ۔ان کی اس نازیبا حرکت پر مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن تین چار بندوں کو دیکھ کر مصلحت آمیز دڑ وٹ لی اور اپنی خودی کو بلند کرتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔اور پھر گھر آتے ہوئے ببلو سے بار بار ایک ہی سوال کرتا رہا کہ مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا ۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker