شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

دعوت شیراز معہ کتاب!۔۔ شاہد مجید جعفری

خواتین و حضرات موجودہ حالات کے تناظر میں کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا، مہنگائی نظر آئی جدھر دیکھا ۔اب آپ سے کیا پردہ ، یہ عظیم مقولہ جس دانشور سے منسوب ہے اتفاق سے وہ عظیم دانشور نما آدمی بندہ حقیر فقیر بلکہ پُر تقصیر، میں ہی واقع ہوا ہوں۔ ادھر ہمارے محلے میں جب سے یہ مقولہ زبان د عام ہوا ہے تو ایسے میں چند مفسد اور شر پسند عناصرکہ جن کا کام ہی معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے مارے حسد کے یہ کہنا شروع ہو گئے کہ یہ شعر اس کا اپنا نہیں بلکہ اس نے میر درد کے شعر کی پیروڈی کی ہے سو ہم نے دافعہء شر کی غرض سے یہ دندان شکن بیان جاری کردیا کہ اگر میر درد صاحب خود آ کر یہ کہہ دیں کہ یہ شعر میرا ہے تو بندہ ان کے حق میں دست بردار ہو جائے گا ۔ ہاں تو دوستو بندہ مہنگائی کے بارے میں عرض کر رہا تھاکہ باقی باتیں تو چھوڑیئے اب تو نوبت ایں جا رسید کہ جب دیسی ٹینڈوں جیسی مسکین سبزی بھی ہاتھ نہیں لگانے دیتی تو سوچیں ولائیتی ٹینڈوں کے نخرے کا عالم کیا ہوگا؟؟؟۔انہی حالات میں ہمیں خبر ملی کہ جناب حسین احمد شیرازی صاحب نے اپنی نئی کتاب” دعوت شیراز ” شائع کر وا دی ہے جس کی قیمت کا سن کر حکمرانوں کے مطابق ہمارا گھبرانا بنتا تو نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم گھبرا گئے لیکن خود کو باذوق ثابت کرنے کے لیئے ہمیں یہ کتاب پڑھنا ضرور تھی اور پڑھنے کے لیئے کتاب کا خریدنا بھی از بس ضروری تھا پھر کتاب خریدنے سے پہلے یہ خیال آیا کہ پچھلی دفعہ جناب نے “بابو نگر ” بھی تو مفت ارسال فرمائی تھی ہو سکتا ہے اس دفعہ پھر مہربانی کر دی جائے ۔اور مہربانی کر دی گئی۔۔
وہ جو کہتے ہیں نا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے استاد آخر استاد ہوتا ہے اور جناب شیرازی صاحب تو ویسے بھی ہمارے روحانی، دنیاوی ، غائبانہ حاضرانہ استاد و پیشوا اور گرو دیو ہیں سو انہوں نے از راہ عنایت ہمیں نیک تمناؤں کے ساتھ یہ کتاب ارسال کر دی (لیکن غضب یہ ہوا کہ انہوں نے ان “نیک” تمناؤں کی تفصیل ساتھ لف نہیں کی ۔اسی لیے ہم یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو ئے جا رہے ہیں کہ جانے ان کے ہاں نیک تمناؤں سے کیا مراد ہے ؟) لو جی سجنو کتاب کو مفت پا کر ہماری حالت بلکل اس غریب آدمی جیسے ہوگئی کہ جس کا اتفاق سےآخری خربوزہ میٹھا نکل آیا ہو۔
کتاب کے بارے میں کیا کہوں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات والا معاملہ ہے بہر حال یہ ہنسانے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سوچنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے (چو نکہ ہم نے سوچنا کچھ نہیں کہ سوچنے کا کام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذمہ لگایا ہے اس لیئے آپ صرف مزاح پر ہی گزارا کیجیئے گا) خیر کتاب پڑھنے کے بعد ہم نے اپنے ایک نیم دانشور دوست کو اس وعدے پر دی کہ وہ پڑھ کر واپس کر دے گا اور زرِ تلافی کے طور پر اس کی نئی خرید کردہ دو کتابیں اپنے پاس رکھ لیں۔ ویسے تو ہمارا یہ دوست بڑے آرام سے کتابیں پڑھتا ہے لیکن زر تلافی رکھوانے کی وجہ سے اس نے نہ صرف کتاب کو جلد پڑھ لیا بلکہ اسے دینے کے لیئے بقلم خود گھر آ گیا اور کتاب واپس کرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا اک بات تو بتاؤ اور وہ یہ کہ کیا شیرازی صاحب شادی شدہ ہیں ؟ تو اس پر میں اسے جواب دیتے ہوئے بولا کہ آپ کی شادی تو ہماری ہوش سے بھی پہلے ہو چکی تھی لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ اس پر وہ جیب سے نسوار نکال کر منہ میں ڈالتے ہوئے بولا اس لیئے پوچھا میرے بھائی کہ اتنا اچھا مزاح کوئی شادی شدہ بندہ (یا مظلوم شوہر ) ہی لکھ سکتا ہے کہ جس پر مشکلیں اتنی پڑیں کہ اس کا ہاسا نکل گیا ہو۔ پھر اچانک نیم دانشور میری طرف جھکا اور تھوڑے سخت لہجے میں بولا یہ بتاؤ کہ کیا شیرازی صاحب مجھے جانتے ہیں ؟ یا کبھی تم نے ان سے میرا تزکرہ کیا ہے؟اس پر میں حیرت سے بولا ہر گز نہیں، نہ تو وہ تمہیں جانتے ہیں اور نہ ہی تم اتنے جوگے ہو کہ تمہارا تزکرہ کیا جائے لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ اس پر نیم دانشور نے میرے ہاتھ سے کتاب چھینی اور ایک صفحہ نکال کر با آواز بلند پڑھتے ہوئے بولا اگر وہ مجھے نہیں جانتے تو پھر یہ انہوں نے یہ کیسے لکھ لیا۔ ” شادی کو اگر آرٹ کہا جائے تو مشکور صاحب کے لیئےیہ مارشل آرٹ ہے جس نےمار مار کر ان کو شل کر دیا ہے”(اتنا پڑھ کر نیم دانشور نے اپنی پیٹھ سہلائی جیسے کوئی پرانی چوٹ یاد آ گئی ہو) اس کے بعد اسی مضمون کی تین چار لائینیں چھوڑ کر بولا ” میں سکول میں باکسنگ کرتا تھا قسم لے لیں اتنے مکے تو مجھے باکسنگ رنگ میں نہیں پڑے تھے جتنے میں نے گزشتہ چند دنوں میں کھائے ہیں۔” اس لائن کو پڑھنے کے بعد اس نے بڑے غصے سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا اس بات کوتمہارے علاوہ اورکوئی نہیں جانتا تھا اس لیئے تم نے ہی میرا سیکرٹ آؤٹ کیا ہے اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ مزید غصے سے بولا یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ شیرازی صاحب نے نام تبدیل کر کے اسے مکالمے کے انداز میں تحریر کر دیا ہےجیسا کہ وہ لکھتے ہیں ” ہمارے دوست واجد صاحب نے اپنی شریک حیات کا تعارف “بڑی امی” کہہ کر کروایا تو ہم سوچ میں پڑ گئے کہ ان کا اتنی کم عمر خاتون کے ساتھ یہ رشتہ کیسے ہو سکتا ہے؟ہماری پریشانی بھانپ کر انہوں نےوضاحت کی کہ انہیں اتنی نصیحتیں اور جھڑکیاںاپنی والدہ سے نہیں ملی تھیں جتنی اس خاتون سے ۔۔تو پھر یہ ” بڑی امی” ہی ہوئی نا! یہ اپنی رفیقہ حیات کو “تقدیر” کہہ کر بلاتے ہیں ہم نے وجہ پوچھی تو بولےاس پر میرا کنٹرول جو کوئی نہیں”
نیم دانشور کو غصے میں دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ غصے کا بہت گدھا بلکہ سور واقع ہوا ہے اس لیئے اسے پچکارتے ہوئے بولے قسم لے لو بھائی جو میں نے شیرازی صاحب کو تمہارے بارے میں ایک لفظ بھی بتایا ہو۔ مضمون میں تمہارے ساتھ مماثلت محض اتفاق ہے ویسے بھی اس قسم کی ملتی جلتی صورت حال کہانی گھر گھر کی ہے میری بات سن کر نیم دانشور نے چونک کرسر اُٹھایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی پراسرار لہجے میں بولا کیا واقعی ہر گھر کی یہی کہانی ہے؟ میں اس کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلانے ہی لگا تھا کہ ۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker