شاہد راحیل خانکالملکھاری

ریاست مدینہ کو حملہ آوروں سے بچانے کےلئے حفاظتی اقدامات ۔۔ شاہد راحیل خان

وزیر اعظم عمران خان کی بنائی ہوئی ریاست مدینہ کو حملہ آوروں سے بچانے کے لئے ریاست کے حکام سر گرم عمل ہوگئے ہیں۔پہلے پہل خبر آئی تھی کہ اس خیالی بلکہ ہر قسمی قانون و ضابطے سے خالی ریاست مدینہ کے مرکز اسلام آباد کے ارد گرد یا شہر میں داخلے کے اہم مقامات پر خندق کھودی جائے گی ۔ جس کی چوڑائی چھ فٹ اور گہرائی پانچ فٹ ہو گی۔اور اس کے دونوں اطراف میں کانٹے دارجھاڑیاںبچھا کر، بزبان شاعر حملہ آوروں کو پیغام دیا جائے گاکہ۔انہی”جھاڑیوں“پہ چل کر اگر آسکو۔تو آﺅ“۔



اس کے بعد امکان غالب تھا کہ بنی گالہ میں ایک خصوصی دعا کا اہتمام کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو ئی ایسا طوفان باد و باراں بھیجے ۔اندھی ،اندھیریوں کے ایسے جھکڑ چلیں،جس سے حملہ آوروں کے خیمے اکھڑ جائیں اور ایسی بھگدڑ مچے کہ وہ الٹے پاﺅں بھاگ جائیں۔مگر یہ خبر دوسری بار سننے میں نہیں آئی اور بات کنٹینروں سے راستے بند کرنے پر آگئی ہے۔



اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جانا چاہئے کہ بنی گالہ میں خصوصی دعا کے اہتمام کا پروگرام بھی اس سے متاثر ہو گا۔دھرنا، ناکام یا ختم ہونے کے بعد آپ دیکھئے گا کہ وزیر اعظم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتر کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بنی گالہ میں خلوص نیت سے دعا کرنے اور کرانے والوں کا بھی خصوصی طور پرشکریہ ادا کریں گے۔جن کی اکثریت نے ”فریدی چولے“پہنے ہوئے ہوں گے۔



ہمارے وزیر اعظم بادشاہ طبیعت کے مالک ہیں۔اب آپ اسے سرائیکی زبان والا”بادشاہ“سمجھیں تو آپ کی مرضی۔وزیر اعظم بننے کا شوق پورا ہونے کے بعد عمران خان کو پتہ چل گیا ہے کہ۔۔شہر دے لوگ”کج ظالم“نئیں”بڑے ظالم“ہیں۔اب ان کے دل میں کبھی کبھی امیرالمونین بننے کا خیال آتا ہے (عالم اسلام کی رہنمائی کا تاج تو ان کے مداحوں نے انہیں پہنا ہی دیا ہے) تو کبھی سعودی شاہوں جیسا بادشاہ بننے کی خواہش جنم لیتی ہے ( یہ شہزادہ سلمان سے جپھیاں ڈالنے کا اثر ہے) تاکہ ان کی پانچ سو لوگوں کو پھانسی پر لٹکانے جیسی تمنا کی تکمیل ہو سکے۔



عمران خان پاکستان کے سابق صدر ایوب خان کے صدارتی نظام سے بھی بہت متاثر ہیں تو وہ سوچتے تو ہوں گے ، چلیں اور کچھ نہیں کم ازکم انہیں صدر ایوب ہی بنا دیا جائے۔تاکہ وہ پانچ سو نہ سہی ،سو ،پچاس کو تو پھانسی کے پھندے پر جھولتا ہوا دیکھ سکیں۔دراصل عمران خان کو وزیر اعظم بنانے والے خان صاحب کی ترجیحات اور خواہشات کو صحیح طور پر بھانپ نہیں سکے۔



خیر ۔ ہم بات کر رہے تھے کہ اسلام آباد کو حملہ آوروں کی یلغار سے بچانے کے لیئے حفاظتی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی حکومت کی طرف سے کسی ادارے کو ہدایات یا احکامات دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔تمام اداروں میں ابھی واضح اکثریت ان افراد کی موجود ہے ، جنہوں نے سابقہ دھرنے میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔وہ جانتے ہیں کہ موٹر وے پر پشاور سے آنے والے پرویز خٹک کے قافلے کو کیسے روکا تھا اور اب جے یو آئی کے احتجاجیوں سے کیسے نمٹنا ہے۔اور اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے نئے پاکستان میں کچھ نہ کچھ نیا ہی کرنا ہے تو موجودہ وزیر داخلہ پر سب کچھ چھوڑ دیں۔موصوف ، چوہدری نثار سے کسی طرح کم نہیں۔اور وزیر اعظم عمران خان بنی گالہ کی چوٹی پر بیٹھ کر آنسو گیس ، لاٹھی چارج اور بچوں کے مقبول کھیل ”چور سپاہی“ جیسے انہی مناظر سے اسی انداز میں محظوظ ہوں ، جیسے پرویز خٹک اور ان کے ساتھیوں کوسن چودہ میں پشاور سے اسلام آباد آتے ہوئے ، موٹر وے پر ان کی درگت بنتے ہوئے دیکھ کر پرویز خٹک کو ہلاشیری دے دے کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔زیادہ پرجوش ہوں تو یہ گیت گانا شروع کر دیں۔۔مست ملنگ چا کیتائی۔۔ ڈھڈا دل تنگ چا کیتا ئی۔۔دے جا دیدار۔۔ میرے یار۔۔میری توبہ توبہ۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker