سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

عرش صاحب لوٹ آئیں ، دسمبر آ گیا ہے : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

اس مرتبہ ابھی نومبر تمام نہیں ہوا تھا کہ یار لوگوں نے سوشل میڈیا پر دھڑادھڑ دسمبر کے بارے میں پوسٹیں لگانا شروع کر دیں کہ اگر کسی نے ہمیں دسمبر کے بارے میں کوئی شاعری ٹیگ کی تو ہم اسے بلاک کر دیں گے کہ لوگوں کو دسمبر کے آتے ہی اس مہینے کی شاعری کا ایسا  ہیضہ ہوتا ہے کہ الحفیظ و الامان۔ ہمیں آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آخر یہ شاعری کی اتنی کرم نوازی دسمبر پر ہی کیوں ۔ جون جولائی پر غصہ کیوں نہیں آتا۔ بہرحال یار لوگوں کی دھمکیوں کا یہ فائدہ ہوا کہ اس سال ابھی تک دسمبر کی شاعری نہ ہونے کے برابر پڑھنے کو مل رہی ہے۔ البتہ دسمبر کے آتے ہی اہلِ ادب کو عرش صدیقی کی مشہورِ زمانہ نظم یاد آ جاتی ہے جس کا عنوان ”اسے کہنا“ ہے۔ دس مصرعوں پر مشتمل یہ نظم انہوں نے 1972ءمیں کہی۔ اس کی مقبولیت دسمبر میں پورے جوبن پر ہوتی ہے کہ عرش صاحب جب تک زندہ رہے (تاریخ وفات 8اپریل 1997 ء ) خاص طور پر وہ دسمبر میں کسی مشاعرے میں شریک ہوتے تو شائقینِ ادب ان سے ”اسے کہنا“ کی لازمی فرمائش کرتے۔


عرش صاحب سے فرمائش تو ایک بہانہ ہوا کرتا تھا کہ اِدھر مائیک پر آ کر عرش صدیقی صرف پہلا مصرعہ پڑھتے ”اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے“ ان کے دوسرے مصرعہ پڑھنے سے قبل ہی حاضرین کے لبوں پر یہ مصرعے  آ جاتا:اس مرتبہ ابھی نومبر تمام نہیں ہوا تھا کہ یار لوگوں نے سوشل میڈیا پر دھڑادھڑ دسمبر کے بارے میں پوسٹیں لگانا شروع کر دیں کہ اگر کسی نے ہمیں دسمبر کے بارے میں کوئی شاعری ٹیگ کی تو ہم اسے بلاک کر دیں گے کہ لوگوں کو دسمبر کے آتے ہی اس مہینے کی شاعری کا ایسا  ہیضہ ہوتا ہے کہ الحفیظ و الامان۔ ہمیں آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آخر یہ شاعری کی اتنی کرم نوازی دسمبر پر ہی کیوں ۔ جون جولائی پر غصہ کیوں نہیں آتا۔ بہرحال یار لوگوں کی دھمکیوں کا یہ فائدہ ہوا کہ اس سال ابھی تک دسمبر کی شاعری نہ ہونے کے برابر پڑھنے کو مل رہی ہے۔ البتہ دسمبر کے آتے ہی اہلِ ادب کو عرش صدیقی کی مشہورِ زمانہ نظم یاد آ جاتی ہے جس کا عنوان ”اسے کہنا“ ہے۔ دس مصرعوں پر مشتمل یہ نظم انہوں نے 1972ءمیں کہی۔ اس کی مقبولیت دسمبر میں پورے جوبن پر ہوتی ہے کہ عرش صاحب جب تک زندہ رہے (تاریخ وفات 8اپریل 1997 ء ) خاص طور پر وہ دسمبر میں کسی مشاعرے میں شریک ہوتے تو شائقینِ ادب ان سے ”اسے کہنا“ کی لازمی فرمائش کرتے۔ عرش صاحب سے فرمائش تو ایک بہانہ ہوا کرتا تھا کہ اِدھر مائیک پر آ کر عرش صدیقی صرف پہلا مصرعہ پڑھتے ”اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے“ ان کے دوسرے مصرعہ پڑھنے سے قبل ہی حاضرین کے لبوں پر یہ مصرعے  آ جاتا:دسمبر کے گزرتے ہی برس اِک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گاپھر اُس کے بعد نظم کچھ یوں مکمل ہوتی  اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی دیوار وں میں لرزاں ہے اسے کہنا
شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے اُسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا تو کیسے برف پگھلے گی اسے کہنا کہ لوٹ آئےعرش صاحب یہ نظم سناتے سناتے چلے گئے۔ دوست احباب انہیں دسمبر کے ساتھ ساتھ پورا سال یاد کرتے ہیں اور دبے لفظوں میں کہتے ہیں:اسے کہنا کہ لوٹ آئےاُسے کہنا دسمبر آ گیا ہےعرش صاحب نے نہ آنا ہوتا ہے نہ وہ آئیں گے البتہ دسمبر ہر سال آتا ہے۔ آنکھوں کو نم کرتا ہے۔ یادوں کے آنگن میں گزری ہوئی کہانیاں سناتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ دسمبر کتنا سفاک مہینہ ہے ۔ جنوری سے لے کر دسمبر تک یادوں کی گٹھڑی اپنے سر سے اترنے نہیں دیتا۔ دسمبر اتنا حوصلے والا مہینہ ہے کہ پورے سال کے دُکھ سُکھ اپنے مَن میں سموتا ہے۔ 31


دسمبر اپنے دن پورے کرنے کے بعد یکم جنوری کو پھر جنم لیتا ہے۔ نئی کہانیاں، نئے فسانے پرانے عشق میں انڈیلتا ہے۔ نئے روپ سروپ میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ہم جیسے سادہ لوح اپنے عشق کی داستان اس کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہم اپنی کتھا سناتے ہیں۔ سردی گرمی، بہار خزاں سب موسموں سے گزرنے کے بعد جب ہم دسمبر تک جاتے ہیں تو ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے دستک دیتا ہے۔اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہےکوئی خاموشی سے خودکلامی کرتے ہوئے کہتا ہے تو کوئی اپنے ساتھی سے کہتا ہے دسمبر آ گیا ہے اور تم ابھی تک مجھ سے دور ہو۔ دسمبر کی کہانی میں جدائی کا مرکزی کردار ہے۔ دسمبر کے دنوں میں موسم سرد لیکن جذبات گرم ہوتے ہیں۔ دسمبر کی راتیں لمبی، دن مختصر ہوتے ہیں لیکن زندگی کے دُکھ رات کو زیادہ اور زیادہ طویل بنا دیتے ہیں اسی لیے تو عرش صاحب نے کہا تھا:دسمبر کے گزرتے ہی برس اِک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گاجی ہاں جب زندگی کا ایک سال صرف ایک تاریخ کے تبدیل ہوتے ہی ماضی کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہماری بہت سی یادیں بھی دفن ہو جاتی ہیں جس میں ہمارے کچھ قہقہے، آنسو ایسے بھی ہوتے ہیں جو بڑی مشکل سے ہم حاصل کرتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لیے ہم بڑی محنت کرتے ہیں یہ غم اور آنسو کے لیے کون تگ و دو کرتا ہے۔ زندگی کا حسن ہی اس میں ہے کہ خوشیوں کے ساتھ غم بھی زندگی کا احساس دلاتے ہیں یہی وجہ ہے زندگی میں جب جمود طاری ہوتا ہے تو حرکت بند ہو جاتی ہے یعنی سرد ہواؤں سے رگوں میں جب خون جمتا ہے تو ہرچیز پر برف کی چادر تن جاتی ہے۔ ایسے میں ہم اپنے محبوب کو آواز دیتے ہیں۔ سورج کو یاد کرتے ہیں جو اپنی گرمی سے زندگی میں واپس لاتے ہیں۔ برف آہستہ آہستہ پگھلتی ہے تو پھر اسے آواز دینے کو جی چاہتا ہے۔ لوٹ آؤ  کہ دسمبر آ گیا ہےدسمبر آ کر چلا جاتا ہے۔ لیکن جانے والے پھر واپس نہیں آتے۔ اسی لیے ہم ماہ و سال کی گنتی میں اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ کبھی ان کو آواز دیتے ہیں لیکن ہماری وہ آواز کہیں راستے میں کھو جاتی ہے اور ہم خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ دسمبر ہر سال آ کے چلا جاتا ہے لیکن ہر دسمبر پر ہمیں عرش صاحب بھی یاد آتے ہیں۔ جو نظم، غزل اور دوہا کہنے میں کمال رکھتے تھے انہوں نے ایک نظم اپنی نومولود بیٹی منزہ کے لیے کہی۔ وہ نظم انہوں نے اپنی بیٹی کی زندگی میں کہی جو ہر باپ کے ذہن میں رخصتی کے موقعہ پر ہوتی ہے۔ کچھ عرصے کے بعد منزہ کی وفات ہو جاتی ہے تو اس نظم کو ایک نئی معنویت مل جاتی ہے۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ دُعائے نیم شبی کو دو مرتبہ پڑھیں۔ پہلی بار یہ سوچ کر مطالعہ کریں کہ یہ نظم ایک نومولود کے لیے کہی گئی۔ جب آپ دوسری بار یہ نظم دیکھیں تو یہ سوچ لیں کہ منزہ کا جب انتقال ہوتا ہے تو اس کی عمر سوا پانچ سال تھی۔دُعائے نیم شبیفضا چپ ہے اور نصف شب جا چکی ہےمَیں اک فکرِ فردا لیے جاگتا ہوںمری ننھی بچی منزہ، کہ جس کوابھی اس کی امّی بہت پیار کرتے ہوئے سو گئی ہےمجھے، میرے ماضی کی قندیل لے کرکسی آنے والے زمانے کی تصویر دکھلا رہی ہے!مجھے یاد ہے اِک برس اس کے آنے سے پہلےمجھے اس کی امّی سے کوئی تعلق کوئی واسطہ تک نہیں تھامَیں اس کے لیے غیر تھا، اجنبی تھامگر ایک سیّال لمحے نے اُس کواس اجنبی کی، اسی غیر کی ہر خوشی کا خدا کر دیا تھامَیں اِک اجنبی دُور سے آنے والاوہ اِک دوسرے شہر کی رہنے والینہ مَیں نے اسے تپتے صحرا میں ڈھونڈانہ اس نے مجھے میٹھے سپنوں میں دیکھامگر ہم نے اک دوسرے کی نظر میںسکون و محبت کا وہ راز پایاکہ ہم اپنے بختِ رسا پر ہیں نازاں!مری ننھی بچی، منزہ، کہ جس کوابھی اس کی امیبہت پیار کرتے ہوئے سو گئی ہےمجھے، میرے ماضی کی قندیل لے کرکسی آنے والے زمانے کی تصویر دکھلا رہی ہےکہ ہو کر جواں جبوہ امی کے حسنِ سکوں بخش کی یاد تازہ کرے گیتو اِک اجنبی جانے کس شہر سے کون سے راستے سےسجائے ہوئے اپنے ماتھے پہ تاروں کا سہرالیے ہاتھ میں تازہ پھولوں کا گجرامرے پاس آئے گا اپنے مقدر کا زور آزمانےمَیں اس کی خوشی کے لیے زندگی کے اثاثے کو قرباں کروں گاوہ ہنستا ہوا، مسکراتا ہوا، میری تسکینِ جان کومرے لختِ دل کو مرے مرکزِ آرزو کونہ جانے کہاں، کون سے دیس کی کونسی وادیوں میں مقید کرے گامَیں اس آنے والے زمانے کی تصویر ہر شبدریچوں میں، کمروں میں، صحنوں میں سجتی ہوئی دیکھتا ہوںاور اپنے خدا سے(مِرا ہو کے مجھ سے جدا رہنے والے خدا سے)فقط اِک دُعا ایک اتنی دُعا مانگتا ہوںکہ اس اجنبی کا بھی میرا سا دل ہو!! یہ نظم عرش صدیقی نے 1958ءمیں کہی اور آج دسمبر 2017ءمیں ان کی یہ دونوں نظمیں معنویت کے اعتبار سے کتنی مکمل ہیں۔ واقعی شاعر کو تخلیقی اظہار کا سکون سے موقعہ ملے تو وہ بڑا تخلیق کار ہو سکتا ہے جیسے عرش صدیقی اپنے عہد کے بڑے افسانہ نگار، نقاد اور شاعر تھے۔( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker