سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

راحت وفا ۔۔۔ ایکسیوزمی! : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

نام راحت۔ تخلص وفا۔ مشغلہ افسانہ نگاری و کالم نگاری۔ مصروفیت درس و تدریس۔ راحت وفا سے ہمارا پہلا تعارف امروز کے مختلف ایڈیشنوں کے ذریعے ہوا۔ جب وہاں پر افسانہ نگاری کیا کرتی تھیں۔ ان کے افسانوں کی وجہ سے گھروں میں اکثر لڑائی ہوتی ہے۔ فساد ہوتا ہے کہ بیویاں راحت وفا کے افسانے پڑھتی رہتی ہیں اور ہنڈیا جلتی رہتی ہے۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے لوگ بھی ان سے جلتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ راحت وفا اتنی مقبول کیوں ہے؟
راحت وفا صاحبِ کتاب ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ وہ صاحبِ وفا ہے۔ اس کی پہلی کتاب اُس زمانے میں آئی جب لڑکیاں گڑیوں سے کھیلا کرتی ہیں۔ وہ خود کہتی ہے کہ میرا بچپن گڈا گڈی کی بجائے اخبار اور بچوں کے رسالے پڑھنے میں گزرا۔ اسی لیے جب اُس کی پہلی کتاب ”بارش میری سہیلی“ شائع ہوئی تو اسے بارش بہت اچھی لگتی تھی۔ سہیلیوں نے شکوہ کر کے کہا ”تمہاری عمر تو گڑیوں سے کھیلنے کی تھی۔ تم نے بارشوں سے دوستی کر کے اچھا نہیں کیا۔“ جواب خاموشی رہی اور دوسری کتاب ”گڑیا“ کے نام سے لے آئی۔ گڑیا جب منظرِ عام پر آئی تو لوگوں نے کہا راحت وفا نے اپنا نک نیم ”گڑیا“ رکھ لیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ راحت وفا کو دیکھیں تو وہ گڑیا ہی لگتی ہے۔ راحت وفا جب بولتی ہے تو سامنے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔ آواز اتنی خوبصورت ہے کہ اگر کبھی راحت بانو کا گلا خراب ہو جائے تو راحت وفا یہ کمی پوری کر سکتی ہے۔
راحت وفا کی یہ خوبی ہے کہ اُس کی تحریر کی طرح اُس کی تصویر بھی ہمیشہ تر و تازہ آتی ہے۔ اس سے پڑھنے والی بچیاں اپنی ماؤ ں سے جا کر فرمائش کرتی ہیں ماں جی! آپ ہماری مس کی طرح تر و تازہ نظر کیوں نہیں آتیں۔ کلاس روم میں جب اکثر راحت وفا کو غصہ آتا ہے تو ان سے پڑھنے والی لڑکیاں یہ کہہ کر غصہ ٹھنڈا کرتی ہیں ”معاف کیجئے گا مس“ وہ اپنے ادارے میں اتنی مشہور ہے جتنا کسی بھی ادارے میں ”شریف بدمعاش“ مشہور ہوتے ہیں۔
ریڈیو پر ڈرامے بھی لکھتی ہے۔ اس بارے میں کہتی ہے کہ لوگ ٹی وی پر ڈرامے کرتے ہیں جبکہ مَیں ریڈیو پر ڈرامہ کراتی ہوں۔ اکثر ڈرامے اتنے حقیقی ہوتے ہیں کہ لوگ سنتے سنتے اتنا روتے ہیں کہ سننے والے یوں محسوس کرتے ہیں کہ وہ شاید مجلسِ عزا میں مصائب سن رہے ہوں۔ خود قہقہہ اتنی زور سے لگاتی ہیں کہ ہمسائے اس وقت سوتے ہیں جب اُس کے قہقہوں کی آواز آنا بن ہو جاتی ہے۔ خوش لباس اتنی ہیں کہ دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ راحت وفا کتنی خوشحال ہے۔ گھر میں کھانا اپنے ہاتھوں سے خود پکاتی ہیں۔ اس کے متعلق یہ کہتی ہے کہ اگر میرے ہاتھوں کی انگلیاں خوبصورت کالم، ڈرامے اور افسانے لکھ سکتی ہیں تو پھر انہی ہاتھوں سے لذیذ کھانا کیوں نہ تیار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے مہمان یہی کہتے ہیں راحت وفا معاف کیجئے گا ذرا بریانی اور لائیے گا۔
راحت وفا کی صحت ایسی ہے کہ اگر ریل گاڑی سے آج بھی آدھے ٹکٹ پر سفر کرے تو کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔ وہ اکثر سفر کرتے ہوئے پریشان نہیں ہوتی کیونکہ سمارٹ بندے کو ہر جگہ پر سیٹ مل جاتی ہے۔ اپنے گھر میں اتنی مقبول ہے کہ رات کو مقبول صابری کی قوالیاں سنتے سنتے سو جاتی ہے۔لیٹ نائٹ بیٹھ کر لکھنے کا کام کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اُس کی تحریروں میں خوابوں کا تذکرہ زیادہ ملتا ہے۔ کسی نے راحت وفا سے پوچھا تمہارا پسندیدہ گانا کون سا ہے؟ فوراً کہنے لگی:
بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے
کبھی دل لگانے کی کوشش نہ کرنا
اس گانے میں ”حسن والے“ سے مراد راحت وفا خود ہے۔ اسی لیے یہ گانا اکثر اپنی گاڑی پر لگا کر لانگ ڈرائیو پر نکل جاتی ہے۔ان سے پڑھنے والی ایک بچی نے ان سے پوچھا کہ مس آپ کے سمارٹ رہنے کا راز کیا ہے؟ کہنے لگی جو کچھ شیخ سلیم ناز کھاتے ہیں مَیں اُس سے پرہیز کرتی ہوں۔ پسندیدہ جگہ کے بارے میں کہتی ہیں کالج کا وہ کمرہ جہاں سے ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے۔ وہ جگہ ان کو بہت پسند ہے۔ سخی اتنی ہیں کہ پوری تنخواہ بعد میں آتی ہے خرچ پہلے کر دیتی ہیں۔ البتہ یہ فارمولا دل کے معاملے میں مختلف ہے۔ راحت سے کسی نے پوچھا کہ جہاں وفا ہوتی ہے وہاں راحت نہیں ہوتی۔ آپ نے کس طرح راحت اور وفا کو اکٹھے رکھا ہوا ہے۔ ہنس کر صرف یہی کہا:
وفا میں منافع ڈھونڈتے ہو
وفا میں خسارا بھی بہت ہے
راحت وفا کی نئی کتاب ”ماہیا“ کے بیک ٹائیٹل پر جو تصویر شائع ہوئی ہے اس کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے کہا یہ تصویر اگر 2000/- روپے میں بھی ہوتی تو سستی تھی۔ دیکھنے والوں نے یہ قیمت ماہیا کی لگائی ہوتی تو اس ناول کی قیمت کم از کم دو لاکھ ضروری لگاتے۔
پرہیزگار اتنی ہے کہ اگر اس کے گھر چلے جائیں تو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر عشاءکی نماز پڑھنے چلی جاتی ہے۔ مہمان نواز اتنی ہے کہ اگر اس کے دسترخوان پر نواز شریف بھی آ جائے تو کبھی ملک چھوڑ کر سعودی عرب جانے کا ارادہ نہ کرے۔اُردو اتنی خوبصورتی سے بولتی ہے کہ یوں لگتا ہے لکھنؤ کا کوئی بانکا گفتگو کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ تعلیم ایم اے ہے لیکن قابلیت کابل تک مشہور ہے۔ ملتان میں اگر کوئی ان کا گھر ڈھونڈنے نکلے تو شاید ہی کوئی ان کے گھر کا پتہ چلا سکے۔ شہرت اتنی ہے کہ ہر ڈائجسٹ پڑھنے والی خاتون ہر نماز میں اس کی درازی عمر کے لیے دُعا مانگتی ہے۔ خود بھی اپنی درازی عمر کے لیے رو رو کر دُعائیں خدا سے مانگ کر یہی کہتی ہے میرے پروردگار میری عمر چاہے اَسی سال کی ہو جائے لیکن میری شکل اور آواز تیس سال کی رکھنا۔ راحت وفا کی دُعا کئی سالوں سے پوری ہو رہی ہے۔ البتہ یہ بات صیغہ راز میں ہے کہ وہ دُعا کتنے سالوں سے مانگ رہی ہے۔ اگر کوئی دوست راحت وفا سے اس کی عمر پوچھ لے تو صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتی ہے:
”ایکسیوز می…….. معاف کیجئے گا۔ یہ بات بچوں کو بتانے کی نہیں۔“

( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker