2018 انتخاباتشاکر حسین شاکرکالملکھاری

کیا مظفر گڑھ ؟ کی خواتین ہارون سلطان کو جوب دیں گی ؟ (2): کہتا ہوں سچ/ شاکر حسین شاکر

سیّد ہارون سلطان بخاری آنے والے انتخاب میں ن لیگ کے ٹکٹ پر دو حلقوں سے اُمیدوار ہیں۔ دونوں حلقوں میں اُن کا مقابلہ کانٹے دار ہے۔ ان کے خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے والے بیان نے اگرچہ انہیں مشکلات میں ڈال رکھا ہے لیکن وہ بھی تو سچے ہیں کہ وہ جن علاقوں سے انتخابات میں کھڑے ہیں وہاں پر گزشتہ کئی انتخابات میں وہ خود اُن کا بھائی یا اُن کے والد سیّد عبداللہ شاہ بخاری مرحوم منتخب ہوتے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بخاری خاندان کے یہ آبائی حلقے ہیں۔ لوگ ان کو پیروں کی طرح پوجتے ہیں اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان کا اُمیدوار عورتوں کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے انہی کو ووٹ دے آتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ 25 جولائی 2018ءکو سیّد ہارون سلطان بخاری کے حلقے کی خواتین آنکھیں کھول کر ووٹ دینے کا حق استعمال کریں اور اس کو ووٹ نہ دے کر یہ ثابت کریں کہ وہ باشعور ہو چکی ہیں۔ مذہب کے نام پر بلیک میلنگ کا ہتھیار اب متروک ہو چکا اور جب 25 جولائی کی شام کو اُنہی کی بھابھی سیّدہ زہرا باسط بخاری رکن قومی اسمبلی بن کر اپنے دیور کو مٹھائی بھجوائیں گی تو وہ منظر کتنا شاندار ہو گا۔
قارئین کرام یہ صورتحال تو سیّد ہارون سلطان بخاری کے حلقے کی ہے لیکن خوشاب کے حلقہ NA93 کے دو گاؤں ایسے ہیں جہاں پر قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کسی خاتون کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ اس حلقے میں خواتین ووٹرز کو پولنگ سٹیشن جانے پر آمادہ کرنا الیکشن کمیشن کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق یونین کونسل سندرال کے علاقہ گھگھ کلاں اور گھگھ خورد میں قیامِ پاکستان سے لے آج تک کسی بھی خاتون نے ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا۔ بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات 70 سال سے زائد عرصے سے یہ انوکھی روایت قائم ہے کہ انتخابات کے دن سارا زمانہ آپ کو باہر دکھائی دے مگر خواتین کے اس دن گھر سے باہر آنے پر پابندی ہوتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حلقے سے مسلسل تین مرتبہ پاکستان مسلم لیگ ن یا پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف سے سمیرا ملک بھاری اکثریت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتی رہی ہیں اور اس مرتبہ بھی وہ اسی حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کی اُمیدوار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے کوئی آفیشل پالیسی متعارف نہیں کروائی گئی کہ جس کے تحت خواتین انتخابات کے دن یا تو گھر سے باہر نہ آئیں یا اُن کے اُمیدوار یہ مہم چلائی کہ خواتین کو ووٹ دینا حرام ہے۔ یعنی ایک جانب ن لیگ کا اُمیدوار خواتین کو ووٹ دینے پر فتویٰ جاری کرتا ہے تو دوسری جانب ن لیگ کی خاتون اُمیدوار خواتین کے ووٹ لیے بغیر اسمبلی میں پہنچ جاتی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کسی بھی سیاسی پارٹی کا اپنے اُمیدواروں پر کوئی بھی کنٹرول نہیں۔ اگر سمیرا ملک خاتون ہو کر اپنے حلقے کی لاکھوں خواتین کو اپنے لیے ووٹ کاسٹ کرنے پر گھر سے باہر نہیں نکال سکیں تو ہارون سلطان بخاری حق بجانب ہے کہ وہ اپنے بھائی اور بھابھی کی دشمنی میں خواتین کے بارے میں جو مرضی کہتا رہے۔ ایسے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی اتھارٹی کہاں ہے؟ انہوں نے اب تک ان دونوں حلقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کیا نوٹس لیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ نے ان دونوں اُمیدواروں کو بلوا کر کوئی کارروائی کی؟ اسی بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اپنے طاقتور سیاستدانوں کے سامنے کتنے بے بس ہیں۔ کاش اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو جس میں تمام شہریوں کے حقوق یکساں ہوں اور یہ سب باتیں تو اپنی جگہ پر بڑی خوبصورت لگتی ہیں کہ ہم خواتین کو ان کے حقوق دے دیں۔ ہم کامیاب ہونے کے لیے ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں جس کو مہذب معاشرے میں کسی اچھے نام سے نہیں یاد کیا جاتا۔ لیکن جب حقوق دینے کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے ہی خواتین کا سب سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔ دور کیوں جائیں اس مرتبہ انتخابات کے دوران کاغذاتِ نامزدگی میں ذاتی معلومات کے خانے میں جب شادیوں کا ذکر آیا تو معلوم ہوا بے شمار سیاستدانوں نے خفیہ طور پر ایک عرصے سے شادیاں کر رکھی ہیں لیکن اُن کو انہوں نے کبھی معاشرتی طور پر وہ مقام نہیں دینا چاہا جس کی وہ حقدار ہیں۔ ہمارے اسی رویے سے سیاستدان، عوام اور ہم خود جھوٹ کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ غلط بات پر آواز کوئی بھی بلند نہیں کرتا کہ من حیث القوم ہم اتنے بد دیانت ہو چکے ہیں کہ ہمیں کسی اور کی بددیانتی بھی ایمانداری لگتی ہے۔ شہباز شریف کا منہ بولا بیٹا ہو یا خود شہباز شریف ہوں ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا منہ بولا بیٹا خواتین کو ووٹ دینا حرام کیوں سمجھتا ہے جبکہ شہباز شریف مسلسل شادیاں کر کے سیاست دانوں کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔ جی تو چاہ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن سے اُن تمام سیاست دانوں کے کاغذاتِ نامزدگی کو مشتہر کرنے کا مطالبہ کریں جو اس انتخابات سے قبل اپنے گھر میں ایک ہی بیگم کی چاپلوسی کر رہے تھے اور جیسے ہی انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں دوسری، تیسری اور چوتھی بیگم کا ذکر کیا تو ان کی حالتِ زار کو بھی دیکھنا چاہیے۔ بہرحال یہ تمام باتیں تو ازراہِ تفنن درمیان میں آ گئیں۔ اصل میں تو ہم یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ 2018ءکے انتخابات میں ن لیگ جہاں عدلیہ کے مختلف فیصلوں کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے وہاں پر کہیں منہ بولے بیٹے کا جادو سر چڑھ ن لیگ کو تباہ کر رہا ہے تو کہیں پر نواب آف کالاباغ کی نواسی سمیرا ملک کا حلقہ بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بظاہر تو یہ ایک ایسا لطیفہ ہے جس پر ہنسنے کی بجائے رونے کو جی چاہتا ہے لیکن اب کیا کریں اس ملک کی سیاسی صورتحال پر جتنے بڑے لطیفے رونما ہو رہے ہیں ہم ہنس ہنس کر آنکھوں میں آنسو لے آتے ہیں کہ اب یہی آنسو ہماری آبرو ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker