شاکر حسین شاکرکالملکھاری

سعدیہ دہلوی ، نشیب و فراز کی داستان : کہتا ہوں سچ/ شاکر حسین شاکر

یہ زمانہ 1986ء کا ہے جب میں کچھ عرصہ کیلئے سعودیہ گیا تو وہاں پر وقت گزارنے اور اپنی مطالعہ کی عادت کا نشہ پورا کرنے کےلئے بڑے بھائی طاہر اور بھائی مظاہر سے پوچھا کہ جدہ میں اردو اخبارات و رسائل خریدنے کےلئے کہاں جانا ہو گا؟ بھائی مظاہر نے بتایا کہ جدہ میں اردو اخبارات و رسائل کا کوئی باقاعدہ بکسٹال نہیں ہے ایک انڈین گراسری سٹور ہے وہاں پر پاکستان اور بھارت کے اخبارات و رسائل آتے ہیں میں تم کو وہ سٹور دکھا دوں گا تاکہ تمھاری مطالعہ کی عادت پوری ہوتی رہے۔ اگلے دن بھائی کے ساتھ گراسری سٹور گیا تو علم ہوا کہ ان کے پاس پاکستان و بھارت کے تمام اہم اخبارات و رسائل آتے ہیں۔ میری دلچسپی پاکستانی اخبارات و جرائد میں تھی البتہ وہاں پر بھارت کی دیگر مطبوعات کے علاوہ ماہنامہ شمع دیکھا تو اسے بھی خرید لیا کہ ماہنامہ شمع میں فلم،ادب اور دیگر اصناف ادب کے بارے میں بہت کچھ شائع ہوتا تھا کہ دیار غیر میں اردو کا کوئی معیاری رسالہ مل جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا ۔
اب مجھے دیار غیر میں پاکستانی مطبوعات اور ماہنامہ شمع دستیاب ہونے لگے ۔اگر کبھی مجھے اس سپر سٹور جانے میں دیر ہو جاتی تو اخبار ات اور ورسائل فروخت ہو چکے ہوتے ۔میں جب تک سعودیہ رہا تب تک شمع میری خریداری میں شامل رہا۔ شمع کی مقبولیت کی ایک اور وجہ اس کا معما بھی تھا جس پر لاکھوں روپے کے انعامات دیئے جاتے ۔ 1986ء کے آخر میں ، میں مستقل پاکستان واپس آ گیا تو پاکستان کے تمام اخبارات و رسائل سے ناتا جڑ گیا اور شمع سے رابطہ ختم ہو گیا کہ ملتان میں شمع نہیں ملتا تھا ۔ ان دنوں اخبارات و رسائل آن لائن بھی نہیں ہوئے تھے لیکن سعودیہ میں قیام کے دوران “شمع” کے ساتھ جو قلبی تعلق قائم ہوا وہ آج بھی قائم ہے کہ اب بھی کسی جگہ پر شمع کے حوالے سے کچھ دستیاب ہوتا ہے اسے دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔
1986ء سے لےکر2020ء تک گاہے گاہے شمع سے وابستہ خاندان کی خبریں ملتی رہتیں کہ وہ بھارت کا ایک بڑا اشاعتی گروپ تھا جس میں صرف ماہنامہ شمع کی اشاعت ایک لاکھ سے زیادہ تھی باقی رسائل جن میں کھلونا، بانو اور مجرم شامل ہیں ان کا پرنٹ آڈر شمع کے قریب تھا۔ شمع کے بانی حافظ یوسف دہلوی کے انتقال کے بعد یونس دہلوی نے شمع کی ادارت سنبھالی جن کا انتقال گزشتہ برس ہوا ان کی زندگی میں شمع کی ادراتی ٹیم میں یوسف دہلوی خاندان کی تیسری نسل کی نمائندگی کرنے والی صحافی، کچن کی ماہر، مصنفہ، کالم نگار اور سماجی خدمتگار سعدیہ دہلوی بھی شامل ہو گئی تھیں جن کا انتقال گزشتہ دنوں کینسر کے باعث ہوا ۔سعدیہ دہلوی کے پسماندگان میں والدہ زینت کو ثر دہلوی اور بڑے بھائی وسیم دہلوی ہیں۔ مرحومہ بالترتیب حافظ یوسف دہلوی اور یونس دہلوی کی پوتی اور بیٹی تھیں۔
سعدیہ دہلوی کی پہلی شادی کلکتہ کی مشہور سماجی شخصیت اور محمد جان ہایئر سکنڈری اسکول کے بانی خان بہادر محمد جان کے بیٹے محمد عثمان سے ہوئی تھی جو نبھ نہ سکی اور جلد علیحدگی ہو گئی۔ سعدیہ دہلوی نے اس کے بعد 1990ء میں ایک پاکستانی شہری رضا پرویز سے شادی کی۔ دونوں نے کچھ وقت کراچی میں گزارا جہاں 1992ء میں ان دونوں کا بیٹا ارمان پیدا ہوا۔پاکستان میں قیام کے دوران دونوں میاں بیوی پر ملک دشمن ہونے کا الزام بھی لگا، جس کے بعد دونوں پاکستان چھوڑ گئے اور پھروہ واپس ہندستان آگئیں۔ اس شادی کا بندھن بارہ سال کے بعد اس وقت ختم ہوا جب ان کے خاوند نے بذریعہ ای میل انہیں تین مرتبہ طلاق لکھ کر بھیجی ۔ بھارت میں برقی تیکنک سے طلاق کا یہ پہلا واقعہ تھا۔
سعدیہ دہلوی اجمیر کے خواجہ غریب نوازؒ اور دہلی کے حضرت نظام الدین اولیاؒ کی بہت عقیدت مند تھیں۔ سعدیہ دہلوی نے انہی بزرگان دین سے متاثر ہو کر 2009ء میں صوفی ازم پر کتاب لکھی جس کا نام ”صوفی ازم اور اسلام کا دل “ ہے۔ ان کی دوسری کتاب ”صوفی کا آنگن“ فروری 2012ء میں شائع کی گئی۔ 1989ء میں انہیں بہترین صحافی کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا ۔ یہ ساری تفصیل لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ادب‘ صحافت‘ تصوف‘شوبز کے حوالے سے ایک بڑی شخصیت سعدیہ دہلوی پر جب زوال آیا تو کسی کے یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یکم اگست 2020ء کو اُن کا بیٹا ارمان اپنے سوشل میڈیا کے اکاﺅنٹ پر اپنی ماں کا ایسا مرثیہ لکھے گا کہ سب کی آنکھیں نم ہو جائیں گی ۔
”سب کوعید مبارک!یہ ہمارے لئے ایک مشکل گھڑی ہے۔ امی اسپتال میں ہیں اگر ممکن ہو تو برائے مہربانی اُن کے علاج کےلئے دل کھول کر امدادکیجئے۔ شکریہ۔ “
جس نوجوان کی طرف سے مدد طلب کی گئی تھی، وہ کسی معمولی خاندان کا چشم وچراغ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے خوشحال گھرانے کا بیٹا تھا، جہاں کسی زمانے میں ہر عید الاضحی پر تقریباً 100 بکرے ذبح ہوتے تھے اور ہر سال جاڑوں کے موسم میں غریبوں کو بانٹنے کےلئے سینکڑوں لحاف تیار کئے جاتے تھے۔ اس کی پرورش ایک ایسی کوٹھی میں ہوئی تھی کہ جب اسے فروخت کیا گیا تو اس کی قیمت75کروڑ روپے ملی‘جوتین بھائیوں میں تقسیم ہوئی۔ ان میں سب سے بڑے بھائی کا نام یونس دہلوی تھا‘ جو مشہور زمانہ فلمی اور ادبی رسالہ شمع کے ایڈیٹر تھے۔ سعدیہ دہلوی 5 اگست 2020ء کو جب کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے موت کی وادی میں اتری توتب اُن کی عمر 63 برس ہوچکی تھی۔ سعدیہ دہلوی کی خواہش تھی کہ اُن کو درگاہ حضرت نظام الدینؒ کے قریب واقع اُس قبرستان میں دفن کیا جائے جہاں وہ اکثر جمعرات کو جایا کرتی تھیں، لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ انھیں خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت نظام الدین اولیاؒ سے بڑی عقیدت تھی اور اسی عقیدت نے انھیں تصوف کی طرف مائل کیا تھا۔ دہلوی خاندان کے قریبی دوست معصوم مراد آبادی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا۔
سعدیہ دہلوی کا تعلق پرانی دہلی کے ایک قدامت پسند مذہبی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا یوسف دہلوی حافظ قرآن تھے اور وہ سفید براق کرتا پائجامہ پہنتے تھے۔ انھوں نے 1939ء میں پرانی دہلی کے پھاٹک حبش خاں سے شمع کی اشاعت شروع کی تھی، جسے ان کے بڑے بیٹے یونس دہلوی نے بام عروج تک پہنچایا۔
پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ شمع اور اس کے مالکان کے کیسے جلوے تھے۔شمع ادبی معموں نے ان پر دولت کی کیسی بارش کی تھی اور دہلی میں ان کا کیسا طوطی بولتا تھا۔ شمع کی اشاعت ایک لاکھ کاپیوں تک پہنچ گئی تھی اور اس میں بڑے بڑے کاروباری اداروں کے اشتہارات شائع ہوتے تھے۔ ہر فلمی ستارہ اس میں شائع ہونا اپنے لئے باعث فخر سمجھتا تھا۔ واجدہ تبسم جیسی کئی ادبی ہستیوں کو اسی سے شہرت اور دولت ملی۔ لیکن آج جب کبھی میں آصف علی روڈ سے گزرتا ہوں تو شمع کے کھنڈر نما دفتر کو دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔شمع‘ سشما‘ کھلونا‘بانو اور شبستاں کے بورڈ وہاں آج بھی آویزاں ہیں لیکن اُن پر وقت کی اتنی گرد جم چکی ہے کہ انھیں پہچاننا مشکل ہے۔مجھے یہ لکھتے ہوئے رنج ہورہا ہے کہ شمع کے بند ہونے کے بعد یونس دہلوی‘ ادریس دہلوی اور الیاس دہلوی نے گمنامی کی زندگی گزاری اور وہ آہستہ آہستہ لوگوں کی یادداشت سے محو ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ ادریس دہلوی اور الیاس دہلوی کے بارے میں لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ اُن کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہوئے؟ اگر یونس دہلوی کے انتقال کی خبر مجھ تک نہیں پہنچتی تو شاید اُن کے بارے میں بھی لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا۔
نامور صحافی خشونت سنگھ کا سعدیہ سے قریبی تعلق تھا۔ اپنی ایک انگریزی تصنیف خشونت سنگھ نے سعدیہ کے نام معنون کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعدیہ دہلوی کے نام‘ جس نے مجھے اس قدر محبت اور بدنامی دی جس کا میں سزا وار نہ تھا۔ خشونت سنگھ نے اپنی ایک کتاب میں سعدیہ دہلوی کی تصویر سرورق پر استعمال کی اور اس میں ان پر ایک باب بھی لکھا تھا۔
سعدیہ دہلوی زندگی کے نشیب و فراز دیکھ کر چلی گئی لیکن جاتے ہوئے بہت سے سوالات چھوڑ گئی کہ ہر عروج نے ہمیشہ زوال کی طرف آنا ہوتا ہے‘ خاص طور پر جب اُن کے بیٹے نے اُن کے علاج معالجہ کے لیے درخواست کی تو دنیا میں کیا کوئی شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ کروڑوں روپے میں کھیلنے والا خاندان ہاتھ پھیلانے کےلئے کبھی مجبور بھی ہو سکتا ہے؟ کیا بھارت میں اردو کے چاہنے والوں کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے یا اُن کو بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک منصوبہ بندی کے تحت ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

( بشکریہ : روزنامہ خبریں )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker