شاکر حسین شاکرکالملکھاری

حسین سحر کی زندگی کی شام!۔۔ کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

وقت کا پہیہ بظاہر اتنی تیزی سے گھومتا ہوا دکھائی تو نہیں دیتا لیکن آج کا کالم لکھتے ہوئے احساس جاگزیں ہورہا ہے کہ وقت گزرنے کی رفتار بہت تیز ہے ۔ 15 ستمبر 2016ء سے 15 ستمبر2020ء کا عرصہ بظاہر چار برس کا ہے لیکن یہ تو پل بھر میں گزر گیا۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کی آواز سنے چار سال ہو گئے‘ اُن کے ساتھ کسی تقریب میں شرکت کئے ہوئے 1460 دن سے زیادہ ہوگئے جب سے ستمبر کا آغاز ہوا ہے تب سے سوچ رہا تھا کہ حسین سحر کی برسی پر کالم کا آغاز کیسے کروں؟ سمجھ نہیں آ رہا کہ کالم کا تانا بانا کس طرح بنا جائے کہ حسین سحر کی یاد بھی تازہ ہو جائے اور آنکھیں بھی نہ چھلکیں۔ اسی خیال میں کئی دن گزر گئے لیکن کالم کےلئے پہلی لائن نہیں مل رہی! بڑی مشکل آن پڑی ہے ایسی کیفیت کبھی نہیں ہوتی۔ اُس کی شاید یہ وجہ ہے کہ ُان کا میرا ساتھ اتنا ہی پرانا ہے جتنی میری زندگی ہے۔ رشتے میں وہ میرے چچا اور خالو تھے لیکن میں نے اُن کو ہمیشہ اپنے استاد کا درجہ دیا۔ گھر میں اگر اُن کے ہمراہ ہوتا تو وہ سب سے الگ تھلگ ہو کر مجھ سے محو کلام ہوتے کہ ہم دونوں نے خاندانی معاملات کے ساتھ دنیا جہان کے تمام موضوعات پر بات چیت کرنا ہوتی تھی۔ وہ نامور شاعر‘ ادیب‘ ماہر تعلیم‘ نقاد‘ مرثیہ گو‘ نعت گو اور بچوں کے ادیب و شاعر تھے لیکن وہ اپنی تمام کتب کو ایک طرف رکھ کر کہتے کہ میری بخشش کےلئے میرا کیا ہوا منظوم ترجمہ قرآن ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے زندگی کے آخری 25 برسوں میں انہوں نے دینی ادب پر زیادہ توجہ دی۔
پروفیسر حسین سحر اُس اعتبار سے بہت خوش قسمت تھے کہ انہوں نے زندگی میں جس چیز کی خواہش کی وہ خواہش اُن کے بچوں نے پوری کر دی۔ اُن کی سب سے اہم خواہش یہی ہوتی تھی کہ سال میں ایک کتاب لازمی منظر عام پر آئے۔ یوں اُن کی یہ خواہش اُن کے مرنے کے بعد بھی بچوں نے ان کی خود نوشت شام و سحر پہلی برسی پر شائع کر کے پوری کی۔ وہ اردو ادب کے استاد تھے جس کی وجہ سے اُن کے شاگرد پورے ملتان تو کیا‘ پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوری زندگی سوائے پڑھانے اور ادب تخلیق کرنے کے اور کچھ نہیں کیا۔ اُن کاموں میں اتنے مصروف رہے کہ نہ اُن کو پوری زندگی گاڑی چلانی آئی اور نہ ہی موٹر سائیکل۔ اُس کے باوجود وہ پورے شہر میں متحرک دکھائی دیتے۔ ملتان کی سیاست‘ ثقافت اور ادب کا وہ چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ ہر شخص کے بارے میں اُن کے پاس اتنی معلومات ہوتیں کہ یوں لگتا جیسے انہوں نے ملتان کے لوگوں کو حفظ کر رکھا ہے۔ اُن میں یہ خوبی اس لیے تھی کہ وہ پاکستان بنتے ہی ملتان آ گئے تھے اور ملتان سے محبت کا اظہار کچھ یوں بھی ہوا کہ مرنے کے بعد اُن کو ملتان کی مٹی ہی نصیب ہوئی۔ پروفیسر حسین سحر نے پرائمری کے زمانے سے ہی بچوں کےلئے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ انہی دنوں اُن کی ملاقات نامور شاعر اقبال ارشد سے ہوئی جو بعد میں ایک ایسے رشتے میں تبدیل ہوئی کہ دونوں ہر جگہ پر لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے۔ 1956ء میں ”بزمِِ طلوعِ ادب“ کے تحت ٹاؤن ہال گھنٹہ گھر ملتان میں زندگی کا پہلا مشاعرہ پڑھا جبکہ آخری مشاعرہ اپنی موت سے چار دن پہلے ملتان لا ءکالج میں پنجابی اکیڈیمی کے زیراہتمام بطور صدرِ محفل کے پڑھا۔
ملتان کے ادبی منظرنامے میں حسین سحر نے تقریباً 60 برس تک رنگ بھرے۔ حسین سحر نے شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ نثر لکھی‘ تقریبات کرائیں‘ ادبی رسائل جاری کیے‘ بچوں کےلئے شاعری کی‘ ریڈیو کےلئے ڈرامے اور فیچر لکھے۔ انہوں نے ملتان میں سب سے پہلے کسی کتاب کی تقریب رونمائی کرائی۔ ملتان میں پہلا نعتیہ مشاعرہ بھی انہی کے حصے میں آیا۔ اقبال ارشد اور حسین سحر‘ ہر ادبی تقریب کے منتظمین میں شامل ہوتے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے زیادہ وقت اپنے بیٹوں کے ساتھ گزارا۔ پاکستان موسمِ سرما میں آتے تو اپنے ساتھ کسی نہ کسی کتاب کا مسودہ ضرور لاتے۔ اُسی آنکھ مچولی میں انہوں نے ایک یہ فیصلہ کیا کہ وہ مستقل ملتان میں رہیں گے۔ اب اُن کے دن کبھی ملتان اور کبھی اسلام آباد میں گزرنے لگے۔ اگست 2015ء میں انہوں نے اپنے پوتے کی شادی میں شرکت کی اور14 ستمبر 2015ء کو اُن کی اہلیہ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ شریک ِحیات کی موت کا صدمہ انہیں موت کے قریب کرتا گیا۔ اُس دوران ایک مرتبہ جب وہ ڈاکٹر سید ابوالحسن نقوی کے گھر سالانہ محفلِ مسالمہ میں سلام پڑھ رہے تھے کہ سلام کے اشعار پڑھتے پڑھتے اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور ہاتھ کانپنے لگے۔ میں نظامت کر رہا تھا انہیں فوراً پانی دیا لیکن اُس کیفیت کے بعد انہوں سٹیج چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ اُن کی اہلیہ کے انتقال کے تقریبا ڈیڑھ ماہ بعد کا ہے۔میری چچی جان کی جدائی کے غم کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ہر وقت اُن کی یادوں میں کھوئے رہتے کہ اپنی اہلیہ کی برسی کے ایک دن بعد (جس دن اُن کی اہلیہ کی تدفین ہوئی) علی الصبح دل کا دورہ پڑا اور انتقال کر گئے۔
پوری زندگی ہر محفل کو گل و گلزار بنانے والے حسین سحر اپنی زندگی کے آخری سال ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ تمام بچوں نے پورا سال دلجوئی کی لیکن اب اُن کا دنیا میں جی نہیں لگ رہا تھا کہ ستمبر کی ایک صبح خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے۔ جنازے میں لوگوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ پہلی برسی پر جب اُن کی لکھی ہوئی سوانح شام و سحر شائع ہوئی تو ملتان ٹی ہاؤس میں ایک بار پھر وہی منظر تھا جو اُن کی موت کے بعد اُسی جگہ پر ریفرنس کے موقع پر تھا۔ تقریب میں موجود ہر شخص کی آنکھ پر نم تھی۔ تلاوت کی جگہ پر اُن کی آواز میں قرآن پاک کا ترجمہ سنوایا گیا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے وہ ابھی ہال میں آ جائیں گے اور اپنی خود نوشت دیکھ کر اپنے بیٹوں مہزاد اور شہزاد کو داد دیں گے لیکن یکم ستمبر 2017ء کو ملتان ٹی ہاﺅس کے آڈیٹوریم میں” محبانِ سحر“ اُن کے بیٹوں کو داد دے رہے تھے کہ انہوں نے یہ کتاب شائع کر کے اہلِ ملتان پر احسان کیا ہے اور میں تقریب میں آخری نشستوں پر بیٹھے اُس دن بھی ہال کے دروازے پر نظریں لگائے ہوئے تھا کہ وہ ابھی تقریب میں آ جائیں گے! میں اُن کو سٹیج تک لے جاؤں گا اور پھر ایسے میں….۔
قارئین کرام! آپ مجھے بتائیں میں حسین سحر کی برسی پر کالم کیسے لکھ سکوں گا کہ میں نے ابھی تک اُن کی موت کو تسلیم ہی نہیں کیا‘ سو! یہ کالم بغیر کسی آغاز کے ختم ہو رہا ہے جس طرح 15 ستمبر 2016ء کو جب سحر صاحب کا انتقال ہوا تو صبح صادق کو مجھے ملتان کے ادبی منظرنامے کی شام ہوتی دکھائی دی۔ یہ کالم بھی اپنی شام کی طرف بڑھ رہا ہے کہ سحر کے بعد شام تو لازمی ہونی ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker