رانا اعجاز محمود سے پہلی ملاقات کب ہوئی بالکل یاد نہیں۔ آخری ملاقات ہوئی یہ بھی یاد نہیں۔ بھلا مَیں آخری ملاقات کیوں یاد رکھوں کہ مجھے تو ابھی رانا اعجاز محمود سے پھر ملنا ہے۔ اور مل کے اس سے پوچھنا ہے کہ یہ جو جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ بنا ہے اس میں وہ کس عہدے پر کام کریں گے؟ مَیں رانا اعجاز محمود سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی اپنا اخبار نکالنا ہے یا کسی اخبار میں نوکری کرنی ہے۔ اس سے مَیں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ جب ہم سارے دوست چاند کی چودھویں رات کو چولستان میں رات گزارنے آئیں گے تو موسیقی کے لیے کسی اچھے گلوکار کو دعوت دے گا یا وہ اپنی آواز میں خود ہی گیت سنائے گا؟ ابھی رانا اعجاز محمود سے یہ بھی دریافت کرنا تھا کہ جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کی تشکیل کے بعد آنے والے انتخابات میں کس سیاسی جماعت کو اکثریت مل سکتی ہے؟ کرونا کی وجہ سے لوگوں کی معیشت میں بہتری کب آئے گی؟ اور اس سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ سہیل وڑائچ، وجاہت مسعود، جبار مفتی، آصف خان کھیتران، رضی الدین رضی، شوکت اشفاق، روف کلاسرہ، جمشید رضوانی، میاں غفار، سجاد جہانیہ کے ساتھ فش پارٹی کب کرے گا؟ مجھے لیہ میں تو زندگی میں کبھی کوئی کام نہیں پڑا البتہ جب سے رانا اعجاز محمود بطور ڈائریکٹر تعلقات عامہ بہاولپور تعینات ہوا تو مَیں اسے فون کر کے چھیڑا کرتا کہ سنا ہے آپ کے دفتر کے اشتہارات کا بجٹ کروڑوں میں ہے اس میں رانا اعجاز محمود کا کتنا کمیشن ہوتا ہے؟ آگے سے سدا سے دوستوں کی محبت اور اپنے چھوٹے بھائی ناصر محمود کا مالی مقروض رانا اعجاز محمود یہی کہتا کہ اگر مَیں نے یہی کچھ کرنا ہوتا تو پھر آپ کا یہ بھائی سینہ تان کے یوں نہ پورے شہر میں پھِر رہا ہوتا۔
رانا اعجاز محمود عجیب وضع کا افسر تھا اس نے ن لیگ کی حکومت کے دوران ن لیگ کے صوبائی وزراءکے ساتھ سینگ پھسائے رکھے اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کو ایک طاقتور مافیا بہاولپور سے اٹھا کر کسی ایسی جگہ تبادلہ کروا سکتا ہے۔ جہاں پر رانا اعجاز محمود کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔ تحریکِ انصاف کی جب پنجاب میں حکومت بنی تو کچھ ہی عرصے بعد بہاولپور سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں اور صوبائی وزرا کے ساتھ اس کی اَن بن ہو گئی۔ نتیجہ لاہور تبادلہ ہوا تو شوگر کا مریض رانا اعجاز محمود کہنے لگا اگر مَیں نے منتخب نمائندوں اور صوبائی وزرا سے پوچھ کے حق بات کرنی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ مَیں لاہور بیٹھ کر کام کرتا رہوں۔ پھر اُنہی صوبائی وزرا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور رانا اعجاز محمود دو دن بعد بہاولپور آرٹس کونسل کا ڈائریکٹر بن چکا تھا۔ منتخب نمائندوں نے اسے ڈائریکٹر تعلقات عامہ کے دفتر سے اٹھا کر آرٹس کونسل میں بٹھا دیا۔ گائیکی کا شوقین تو پہلے دن سے تھا اب دوستوں کی منڈلی بہاولپور آرٹس کونسل میں سجنے لگی۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے پریس کلب بہاولپور نے اُن کے اعزاز میں تابش الوری کی صدارت میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ ملتان سے آصف کھیتران اور رضی الدین رضی میرے ہمراہ تھے۔ سٹیج پر دیکھا تو رانا اعجاز محمود پینٹ کوٹ ٹائی پہنے ہوئے جناب تابش الوری سے محوِ گفتگو تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی اپنی نشست سے کھڑا ہوا سٹیج پر تین کرسیوں کی جگہ بنوائی اور یوں ہم رانا اعجاز محمود کے منکر نکیر بن کر بیٹھ گئے۔ بہاولپور کے نامور صحافی ریاض بلوچ اس تقریب کے میزبان تھے۔ مجھ سے پہلے بیشمار دوستوں نے رانا کے اوصاف روایتی انداز میں گنوائے۔ جب میری باری آئی تو مَیں نے ڈائس پر جا کر اعجاز بھائی سے کہا آج وہ تمام باتیں کرنے کو جی چاہ رہا ہے جو آپ نے اہلِ بہاولپور سے چھپا رکھی ہیں۔ رانا اعجاز محمود نے سٹیج سے بیٹھے ہوئے مجھے آواز دی کہ آج تمام راز کھولنے کی اجازت ہے۔ مَیں نے ایک مرتبہ پھر مسکراتے ہوئے رانا اعجاز محمود کو کہا کہ یہ نہ ہو کہ میری تقریر کے بعد آپ ناراض ہو جائےں۔ اعجاز بھائی کہنے لگے اب ڈرامے نہ کرو میرا پوسٹ مارٹم کرو۔ ان کا یہ جملہ سننا تھا کہ مجھے گفتگو کے لیے میدان مل گیا اور پھر مَیں نے اُن کے اور اپنے پچیس برس کے تعلق کو ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ کہیں پر اُن کی عشقیہ گائیکی تو کہیں پر ہماری بھابھی کے ساتھ اُن کی چاپلوسی، کسی جگہ پر کسی تعلیمی ادارے میں اُن کا مشکل موضوع پر لیکچر یا اپنا دل ہاتھ میں لے کر اُن کا یہ کہنا ”یہ دل کرائے کے لیے خالی ہے“ کے پس منظر میں اُن کے گفتگو کی حد تک معاشقے یہ سارے قصے مَیں بہاولپور پریس کلب کے آڈیٹوریم میں کھڑا ہو کر جب بیان کر رہا تھا تو ہال میں بےشمار حاضرین نے اس گفتگو کو اپنے موبائل فونز میں محفوظ کیا۔ تالیاں بجتی رہیں۔ رانا اعجاز محمود کے چہرے پر میری گفتگو کے دوران کسی لمحے بھی ناراضگی کا تاثر نہ آیا بلکہ وہ حاضرینِ محفل کے ساتھ مل کر مجھے داد دیتا رہا۔ اگر کوئی واقعہ مجھے درمیان سے بھول جاتا تو لقمہ دے کر مجھے یاد کروا دیتا۔
رانا اعجاز محمود کے ساتھ زندگی کے پچیس برس ایسے لگا جیسے پچیس منٹوں میں گزر گئے۔ وہ جب ملتان آتا تو یہ کبھی نہ ہوتا کہ مل کر نہ جاتا۔ آخری دنوں جب ملتان آیا تو لیہ سے ایمبولینس میں سوار ہو کر بہاولپور جانے کے لیے چوک بی سی جی پر آکسیجن سلنڈر خریدنے کے لیے رکے تو مجھے اطلاع ہوئی کہ رانا صاحب ملتان آئے ہوئے ہیں۔ مَیں نے فوراً فون پر رابطہ کیا بھابھی محترمہ نے فون اٹھایا، مَیں نے شکوہ کیا ملتان آئے تھے مجھے حکم کیا ہو تا مَیں آپ کے لیے آکسیجن سلنڈر کا انتظام کر دیتا۔ بھابی نے کہا رانا صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو مَیں نے بہاولپور جانے میں عافیت جانی۔ اگلے دن مَیں نے قائداعظم میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر جاوید اقبال سے اعجاز بھائی کی صحت کا پوچھا تو انہوں نے کہا کچھ دن لگیں گے انہیں ٹھیک ہونے میں۔ مجھے تسلی ہو گئی کہ میرا بھائی جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر پورا ایک ماہ اُن کے بھائی جاوید اور اُن کی اہلیہ کے ساتھ رابطے میں رہا۔ تین جولائی 2020 کو آصف کھیتران نے کہا مَیں اعجاز بھائی کو دیکھنے کے لیے بہاولپور جا رہا ہوں۔ مَیں نے سوچا کچھ دنوں تک مَیں بھی اُن کی عیادت کے لیے جاتا ہوں کہ 9جولائی 2020 کی سہ پہر صابر عطا اور سجاد جہانیہ کے ساتھ بیٹھے رانا صاحب کو یاد کر رہے تھے تو آصف کھیتران نے اُن کے انتقال کی خبر فیس بک پر لگائی۔ ایک لمحے کے لیے مَیں نے اُس پوسٹ کو دیکھا، پڑھا اور پھر روتے ہوئے بلند آواز میں کہا رانا صاحب چلے گئے۔ اور اس کے بعد پورا ملتان، لیہ، بہاولپور، لاہور، اسلام آباد پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ رانا اعجاز محمود کو رخصت کرنے کے لیے چوک اعظم پہنچے اور مَیں ملتان بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ ہزاروں لوگ جو رانا اعجاز محمود رخصت کرنے گئے ہیں یہ مایوس لوٹیں گے کہ ان جیسے لوگوں کو موت نہیں آتی بلکہ یہ موت کو مار کر جی اٹھتے ہیں۔ میری بات اس لیے بھی درست ہے کہ جس دن سے رانا صاحب کا انتقال ہوا ہے دوست احباب اس طریقے سے یاد کر رہے ہیں جیسے وہ مرے نہیں ایک نئی زندگی کی طرف گامزن ہیں۔ اور یہ وہ زندگی ہے جس میں ہمیں اپنے پیارے بظاہر دکھائی نہیں دیتے لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں جیسے کالم کے آغاز میں مَیں نے لکھا کہ وہ مرے نہیں زندہ ہیں کہ مَیں نے ابھی اس سے بہت سے سوالات کے جواب لینے ہیں کہ وہ چلتے پھرتے ایک ایسا گوگل تھے جو بغیر نیٹ کے سب کو معلومات دیا کرتے تھے۔ اسی لیے مَیں ان کو رانا اعجاز محمود عرف گوگل کہا کرتا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ ایسکپریس)
فیس بک کمینٹ

