شاکر حسین شاکرکالملکھاری

زرداری صاحب! بچے سیاسی بھی ہوتے ہیں ۔۔ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

عرفان اﷲ مروت کی پیپلز پارٹی میں آمد سے قبل ہمیں وہ دور یاد کرنا پڑے گا جب سندھ میں جام صادق علی وزیراعلیٰ تھا اور اس نے اپنی کابینہ میں چن چن کر ایسے لوگوں کو شامل کیا جنہوں نے بینظیر بھٹو سے لے کر پارٹی کے ہر اُس شخص کے ساتھ برا سلوک کیا جو پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ انہی دنوں پیر صاحب پگاڑا نے یہ بھی کہا تھا کہ میری پیشگوئی سن لیں ایک نہ ایک دن بلاول زرداری بھی مسلم لیگ میں شامل ہو گا تب ان کی بات کو مذاق میں لیا گیا لیکن عرفان اﷲ مروت جیسے کی پارٹی میں شمولیت کے بعد ہمیں مرحوم پیر صاحب پگاڑا بہت یاد آئے۔ کیا پیپلز پارٹی مسلم لیگ بننے جا رہی ہے؟
چند ماہ قبل جب اخبارات میں آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے اختلافات کی خبریں شائع ہوئی تھیں تو تب واقفانِ حال نے کہا تھا یہ کیسے ممکن ہے کہ زرداری کا اکلوتا بیٹا ہی اُن سے ناراض ہو جائے جو اُن کا سیاسی وارث تو ہے ہی اس کے علاوہ زرداری کے بعد بلاول ہی گھر کا بڑا ہو گا۔ اختلافات کی خبریں اتنی زیادہ منظر عام پر آئیں کہ آخرکار زرداری کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور نوجوان بلاول اپنی شرائط پر پارٹی میں کام کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ ورنہ آصف علی زرداری کا آج بھی پسندیدہ وزیراعلیٰ سیّد قائم علی شاہ ہے۔ والد کے ساتھ سیز فائر کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری نے پورے پاکستان میں رابطے شروع کر دیئے۔ تنظیم سازی کا آغاز کیا اور اس سارے کام میں زرداری صاحب کہیں پر دکھائی نہ دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے بھی بلاول بھٹو زرداری کو مشورے دینے شروع کر دیئے جس کے بعد پارٹی معاملات میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔ سندھ میں اس وقت بھی پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر کام کر رہی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی نتائج وہی رہیں گے جو گزشتہ کئی برسوں سے ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی میں جب عرفان اﷲ مروت شامل ہوئے تو پارٹی کے سنجیدہ ناقدین کو ایک دم دھچکا لگا کہ آخر آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کوئی بعید نہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں سابق سینیٹر سیف الرحمن جیسے پارٹی دشمنوں کو بھی شمولیت کی دعوت دے ڈالیں۔ ابھی عرفان اﷲ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی مہندی بھی نہیں اتری تھی کہ بینظیر بھٹو شہید کی دونوں بیٹیوں آصفہ اور بختاور نے ”بینظیر بیٹیاں“ ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ عرفان اﷲ مروت کو پیپلز پارٹی کی بجائے جیل میں ہونا چاہیے تھا۔ دونوں بچیوں نے جس انداز سے اپنے والد کے اس فیصلے پر تنقید کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے والد کے بہت سے سیاسی فیصلوں سے آنے والے دنوں میں اختلاف کر سکتی ہیں۔ بختاور بھٹو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ ”عرفان اﷲ مروت جیسے بیمار ذہنیت کے لوگوں کو جیل میں سڑنا اور پیپلز پارٹی کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے۔ ان کے گھناؤنے اور غیر قانونی اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔ “
بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کے اس بیان کے بعد ہمیں اب بلاول بھٹو زرداری کے ردِ عمل کا بھی انتظار ہے کہ وہ عرفان اﷲ مروت کے مسئلے پر اپنی بہنوں کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے والد کا۔ ایک بات تو طے ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا جھکاؤ اپنے والد کی بجائے بہنوں کی طرف ہو گا کہ وہ بہت سے معاملات میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جس پر اُن والد کا اکثر اختلاف ہو جاتا ہے۔ ہم سے کسی نے پوچھا کہ عرفان اﷲ مروت نے کب پیپلز پارٹی پر ظلم و ستم ڈھائے تھے۔ جواب میں ہم نے بتایا 6 اگست 1990ء کو جب بینظیر بھٹو کی حکومت کو غلام اسحٰق خان نے بہت سے الزامات لگا کر برطرف کیا تو ان کی برطرفی پر سب سے زیادہ خوش جام صادق علی ہوئے۔ جنہوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ بننے کے بعد سب سے زیادہ ظلم و ستم پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور خاص طور پر بینظیر بھٹو پر کیے۔ اس زمانے میں سندھ کے مشیر داخلہ عرفان اﷲ مروت تھے جن پر مبینہ طور پر وینا حیات کے ساتھ گینگ ریپ کا بھی الزام لگا۔ انہوں نے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین رہنما شہلا رضا، راحیلہ ٹوانہ اور دیگر کو گرفتار کر کے وہ ظلم و ستم کیا جس کو یاد کر کے آج بھی وہ تمام خواتین لرز جاتی ہیں۔
مقامِ شکر ہے کہ عرفان اﷲ خان مروت کے پیپلز پارٹی میں شمولیت پر سب سے پہلے زرداری کے گھر سے آواز بلند ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے غیر سیاسی نہیں ہوتے خواہ آپ انہیں سیاست میں سرگرم ہونے کی اجازت نہ بھی دیں لیکن وقت آنے پر وہ اپنا اظہار کرتے ہیں اور اظہار بھی ایسا کہ لوگ حیران ہیں کہ آصف علی زرداری کو گھر کے اندر سے اپوزیشن کا سامنا ہے۔ زندہ باد بینظیر کی بیٹیو! تم نے ثابت کیا ہے کہ تم آنے والے دنوں میں روایتی سیاست کی بجائے وہ سیاست کرو گی جس کے لیے یہاں کی عوام منتظر ہے اور اسی کا نعرہ لے کر عمران خان میدان میں موجود ہے جو کہتا ہے
شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
بختاور اور آصفہ نے اپنے حصے کی شمع جلائی اور ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں بھی وہ پارٹی میں اس طرح کے لوگوں کی شمولیت پر کلمہ حق بلند کرتی رہیں گی۔ دور کیوں جائیں خالد احمد کھرل سے ہماری چند برس قبل شادی کی ایک تقریب میں ملتان ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے زرداری سے کھلم کھلا اختلاف کیا تھا اور آج وہی چلا ہوا کارتوس پارٹی کا حصہ بن چکا ہے۔ معلوم نہیں اس طرح کے لوگوں کی شمولیت سے پارٹی کو فائدہ کیسے پہنچے گا؟ فیصل صالح حیات بھی اب پارٹی کا حصہ ہیں انہوں نے مشرف دور میں جس طرح پارٹی کو نقصان پہنچایا اس کے بارے میں ہم اپنے قارئین کرام کو پھر کبھی اَپ ڈیٹ کریں گے۔ کالم تمام کر کے 26 فروری شام پانچ بجے ٹیلیویژن کیا تو معلوم ہوا کہ عرفان اﷲ کو تو پاکستان پیپلز پارٹی کا عرفان نہیں ہوا ان کی زرداری کے ساتھ تصویر کسی نے کراپ کر کے میڈیا کو جاری کر دی جس پر بختاور اور آصفہ کو غصہ آ گیا جس کے بعد عرفان اﷲ مروت کو کہنا پڑا کہ بچے بھی سیاسی ہوتے ہیں لیکن میری پیپلز پارٹی کی سیاست سے توبہ ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker