سید مجاہد علیکھیللکھاری

پی ایس ایل کا فائنل: درست یا احمقانہ فیصلہ ؟ ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان سپر لیگ کے ناک آؤٹ میچ کے بعد فائنل کے لئے کوالی فائی کرنے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پانچ غیر ملکی کھلاڑیوں نے فائنل کھیلنے کے لئے لاہور نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران پی ایس ایل کے فائنل کے لئے ٹکٹ چند گھنٹوں کے اندر فروخت ہو گئے ہیں اور شائقین کسی بھی قیمت پر ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دو مختلف قسم کے رویے ہیں۔ پاکستان کے عوام کا حوصلہ اور جوش و خروش اس ملک میں آباد لوگوں کا وہ ولولہ ہے جو بالآخر دہشت گردی کو شکست دینے کا سبب بنے گا۔ جبکہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑیوں کی طرف سے لاہور کا سفر کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ بھی قابل فہم ہے۔ اس تناظر میں یہ مباحث بھی سامنے آ رہے ہیں کہ پنجاب حکومت اور پی ایس ایل کی طرف سے سیزن ۔2 کا فائنل لاہور میں کروانے کا فیصلہ کس حد تک ہوشمندانہ تھا۔ اس رائے کے مطابق اس طرح پاکستان کی سیکورٹی کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار ملک کی شہرت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔
اگرچہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی طرف سے اچانک لاہور میں فائنل میچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ افسوسناک ہے لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ فروری کے دوران ملک میں اچانک بڑی تعداد میں ہونے والے دہشت گرد حملے ہیں۔ جبکہ پنجاب حکومت نے فائنل کروانے کے معاملہ پر غیر ضروری تاخیر کا مظاہرہ کر کے ان اندیشوں میں اضافہ کیا تھا جو پاکستان میں سکیورٹی کی وجہ سے ظاہر کئے جا رہے تھے۔ جب صوبے کی حکومت ہی حفاظتی انتظامات اور سکیورٹی صورت حال کے بارے میں شش و پنچ کا شکار ہوگی تو بیرون ملک مقیم لوگوں کے شبہات کو لازمی طور سے تقویت ملے گی۔ پی ایس ایل کے آغاز میں فائنل میچ لاہور میں کروانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پی ایس ایل اور پنجاب حکومت کو اس فیصلہ کے بارے میں غیر یقینی رویہ کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ منتظمین کو حالات کے سامنے اپنے انتظام اور نگرانی کا طریقہ بہتر کرنے کی ضرور کوشش کرنی چاہئے لیکن اس قسم کا بڑا ایونٹ صرف دہشت گردی کے اندیشہ کی وجہ سے شکوک و شبہات کا شکار کرنے سے گریز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح پی ایس ایل کی انتظامیہ کو شروع میں ہی حکومت پاکستان سے حتمی منظوری لینے کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔ تاکہ تمام ٹیمیں غیر ملکی کھلاڑیوں سے معاہدہ کرتے ہوئے یہ واضح کردیتیں کہ فائنل کے لئے انہیں لاہور جانا پڑے گا۔ اس حوالے سے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا جو اب فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں اور پاکستان میں کرکٹ کے شائقین کے لئے پریشانی اور مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے بعض سیاستدانوں نے گزشتہ ہفتہ کے دوران پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلہ کو ’پاگل پن‘ قرار دیاتھا۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ سابق کرکٹر اور ملک کے ممتاز سیاست دان کی طرف سے اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان غیر ملکی کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنا ہو گا۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کا فیصلہ دہشت گردی کے سامنے کھڑے ہونے اور عزم و ہمت کا مظاہرہ کرنے کے نقطہ نظر سے بے حد اہم تھا۔ اگرچہ اس فیصلہ تک پہنچنے میں پنجاب حکومت ، پی ایس ایل اور دیگر لوگوں نے جو غلطیاں کی ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان کی سکیورٹی کے معاملات پر یقین پیدا ہونے کی بجائے شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم صرف اس وجہ سے اس فیصلہ کو غلط قرار دینا درست نہیں ہے۔ البتہ اس سے سبق سیکھنے اور مستقبل میں ایسی غلطی نہ کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکام اس سے پہلے کرکٹ کی عالمی کونسل اور فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کو پاکستان میں کرکٹ کی حوصلہ افزائی پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے فیصلہ کو اس پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔
اس کے برعکس لاہور اور پاکستان کے شہریوں نے فائنل میچ دیکھنے کے حوالے سے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے ، اس سے اس قوم کی بلند ہمتی کا اظہار ہوتا ہے۔ پاکستان کے لوگ مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر رہنے کے باوجود اپنے معمولات ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جو کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔

(بشکریہ:کاروان)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker