قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں مسلسل تین روز تک گھمسان اور مارکٹائی کے بعد اچانک ایسا ہوا کہ حکومتی بنچوں اور اپوزیشن نے نہ صرف ”اچھے بچوں“کی طرح چپ سادھ لی بلکہ دونوں اطراف سے یہ اعلامیے بھی جاری کردئیے گئے کہ رواں سیشن میں نہ تو کوئی ہلا گھلا ہوگا اور نہ ہی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی بجٹ پر تقریر میں کوئی رخنہ ڈالا جائے گا بظاہر یہ ایک اچھی جمہوری روایت ہے مگر اس روایت کو یاد کروانے والا کون ہے ہنوز اس بارے میں راوی خاموش ہے کہ عوامی نمائندوں کی ”اصل“پر پردہ ڈالا گیا ہے ورنہ اندرون سمیت بیرون ملک میں اخلاقیات اور عدم برداشت پر جو سبکی ہوئی یا اس کاجو اثر ہوا ہے وہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگا کیونکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی نے جس قسم کی حرکات کا مظاہرہ اور جو غلطیاں کی ہیں وہ شاید رائیگاں نہ جائیں کہ ان ارکان اسمبلی کو عوام نے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں کم از کم اس لئے تو نہیں بھیجا کہ وہ ذاتیات پر اترا کرالزامات لگائیں اور جھگڑا کریں انہیں تو مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے منتخب کیا گیا تھا جو وہ بھول کر ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے پر وقت ضائع کررہے ہیں ہاں البتہ اس شور شرابے پر تمام تر عوامی توجہ ادھر مرکوز تھی جس کا فائدہ حکومت نے یوں اٹھا لیا کہ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرلیا جس کے بارے میں صرف ایک رو ز قبل وزیر خزانہ شوکت ترین نے واضع کیا تھا کہ ان میں اضافہ نہیں ہوگا،ایل پی جی قیمتوں میں اضافے سمیت گند م کی پروڈکٹس پر ڈیوٹی عائد کرنے پر بجٹ کے نفاذ سے قبل ہی آٹا مہنگا ہوگیا،بجٹ میں کچھ ٹیکسوں کی چھوٹ کے بارے میں بتایا گیا۔
لیکن دوسری طرف مزید ٹیکس عائد کرکے مہنگائی میں اضافے کو موقعہ فراہم کیا گیا توقع تھی کہ آٹو موبائل پر توجہ کی جائے گی مگر یہ بھی نظر انداز ہوگیا اور اب حالت یہ ہے کہ آٹو اسمبلرز قیمتوں میں من مانا اضافہ کررہے ہیں اون یعنی بلیک رقم اس کے علاوہ ہے۔بجٹ میں کئی اہم اور بنیادی مسائل کو سرے سے ہی نظر انداز کردیا گیا جو آنے والے وقتوں میں ملک میں مہنگائی کا ایک مزید بڑا طوفان لانے کا موجب بن سکتے ہیں۔ادھر پنجاب کے بجٹ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کیلئے الگ بجٹ کاپی تو شائع کردی گئی ہے جس میں کل بجٹ کا 34فیصد حصہ مختص کیا گیاجبکہ جنوبی پنجاب کے متعدد شہروں میں نئی یونیورسٹیاں،کالجز اور سکولوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے،خطہ کیلئے الگ بجٹ مختص کرنا خوش آئند بات ہے مگر اس کے ساتھ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس بجٹ کو خرچ کرنے کیلئے تربیت یافتہ اور پلاننگ کرنے والے موجود ہیں کیونکہ قبل ازیں اس خطے میں بجٹ آتے رہے ہیں جو انتظامی اور پلاننگ کی نااہلی کی وجہ سے خرچ ہونے سے رہ جاتے تھے کیا اب بھی ایسا ہوگا؟یا پھر جن منصوبوں کیلئے اعلان کیا گیا ہے وہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ پائیں گے یا ماضی کی طرح بد انتظامی کا شکار ہوجائیں گے کیونکہ پنجاب حکومت نے بوجوہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے عوام کو کنفیوزاور پریشان کررکھا ہے کبھی بجٹ میں ملتان سیکرٹریٹ کیلئے رقم مختص ہوتی نظر آتی ہے اور کبھی بہاولپور سیکرٹریٹ کی تعمیرکا اعلان ہوتا ہے اس بارے میں ایک واضع لائحہ عمل نہ صرف انتظامی امور میں بہتری کا موجب ہوگا بلکہ اس خطے کے عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے کوئی راہ بھی مل سکے گی،کیونکہ حکومت کا عذر تھا کہ الگ صوبے کیلئے قانون سازی کیلئے ان کے پاس اکثریت نہیں ہے البتہ الگ سیکرٹریٹ کیلئے انتظامی امور واضع کرنے کیلئے اختیار تو موجود ہیں جو شاید وہ استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے اور یہی وجہ ہوگی کہ اس خطے کو تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا بجٹ اور منصوبوں پر خرچ نہ ہونے کا خدشہ رہے گا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے اس خطے کے مختلف شہروں میں مزید نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اب اس کیلئے بجٹ میں فنڈز کس قدر اور کیسے مختص ہوتے ہیں اس بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کیونکہ پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کے انتظامی امور کیلئے فنڈز تو ایک مسئلہ ہی رہا ہے مگر ریسرچ کے حوالے سے بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔خصوصا زراعت کے حوالے سے تو یہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں پہلے سے موجود پبلک سیکٹر کی متعدد یونیورسٹیوں میں اس وقت جو وائس چانسلرز موجود ہیں ان کے بارے میں آئے روز مالی بدانتظامی اور بدعنوانیوں کی شکایات عام ہیں بلکہ ایک یونیورسٹی تو ایسی ہے کہ جس کے وائس چانسلر کی تعیناتی کا حکم بھی مشکوک ہے ایسی صورت میں بہتر ہوتا کہ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے ساتھ حکومت پہلے سے موجود ان اداروں کی مناسب دیکھ بھال کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیتی کیونکہ ان وائس چانسلرز حضرات نے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق سینڈیکٹ میں ہم خیال اور غیر متعلقہ لوگوں کو رکن بنا رکھا ہے جو ہائر ایجوکیشن کیلئے انتہائی تشویش ناک اور خطرناک ہے کہ ان اداروں سے ڈگری حاصل کرنے والے بین الاقوامی سطح پر کیسے مقابلہ کرسکیں گے،ضروری ہے کہ ایسے الزامات کی چھان بین کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے کیونکہ جنوبی پنجاب کی کچھ یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقی تمام ایسے ہی مسائل کا سامنا کررہی ہیں جہاں سمسٹر سسٹم کی وجہ سے طالب علموں اور سینڈیکٹ سے ٹیچرز کو دبا دیا جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پبلک سیکٹر نہیں بلکہ یہاں تعینات وائس چانسلرز کی ذاتی پرائیوٹ یونیورسٹیاں ہیں اگر اس پر توجہ نہ کی گئی تو نئی قائم ہونے والی یونیورسٹیاں بھی اس نقش قدم پر چل پڑیں گی اور ہائر ایجوکیشن کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا کیونکہ پہلے ہی ریسرچ میں ہم بہت پیچھے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

