شوکت اشفاقکالملکھاری

ملتان قرنطینہ کیمپ کے طبی عملے کےلئے نامکمل حفاظتی کٹس ۔۔ شوکت اشفاق

حکومت کہیں نہیں جا رہی مگر یہ وقت ہے کہ تمام سماجی ،سرکاری و غیر سرکاری ادارے خصوصاً عوام مل کر اس بین الاقوامی عفریت کا مقابلہ کریں کیونکہ یہ کوئی مقامی مسئلہ ہے اور نہ ہی الزام تراشی سے یہ قابو آئے گا، چین نے اگر اس کے پھیلاﺅ کو روک لیا ہے تو اس کے پیچھے ان کی حکومت کے وہ اجتماعی اقدامات تھے جو انہوں نے ‘ سیاسی اور سماجی تعصب سے بالاتر ہو کر اٹھائے تھے اس دوران انتہائی خاموشی سے”کام “کر کے قابو پایا اور پھر دنیا کو حقیقت بتائی آج اگر دنیا ان کی تعریف اور تعاون کیلئے پکار رہی ہے تو اس کے پیچھے ان کی وہ اجتماعی قومی حوصلہ اور بروقت کام تھا مگر آج دنیا کی اکلوتی زمینی سپر پاور امریکہ کے کاسموپولٹین شہرنیو یارک کا میئر یہ دہائی دے رہا ہے کہ اس کے کثیر الاقوامی شہر میں میڈیکل اور دوسری سہولتیں محض دس دن کی ہیں جو یقیناً ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ دنیا بھر کو اپنی ٹیکنالوجی اور طاقت کے بل بوتے پر دبانے والے کا خود کیا حال ہے ترقی یافتہ کے دعوے دار مغربی ممالک اس وقت اس عفریت کے نرغے میں ہیں لیکن بے بس ہیں کہ ہر بیماری کے علاج کا دعویٰ کرنے والے کتنے بے بس ہیں جس کا اندازہ ابھی لگانا انتہائی مشکل ہے ہاں جو بچ جائے گا تو شاید کبھی اس پر تحقیق ہو کہ زمینی مخلوق کے ساتھ یہ کیا ہوا تھا یہ ٹیکنالوجی کی مارتھی یا پھر قدرت کا انتقام تھا کیونکہ قدرتی ماحول اور زندگی کے ساتھ کھیلنے والے اپنے آپ کو زمینی خدا تصور کر بیٹھے تھے مگر اب انہیں یہ سمجھ بھی نہیں آ رہا کہ صحت کے بین الاقوامی ادارے کی طرف سے دئیے جانے والے نام کووڈ 19کی شروعات کہاں سے ہوئیں چین بضد ہے کہ ووہان میں بین الاقوامی مقابلوں میں شامل امریکی فوجی یہ وائرس چھوڑ کر گئے ہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ماضی کے صدور کے نقش قدم پر ابھی بھی میڈیا وار میں مصروف اور اسے چائنیز وائرس قرار دینے پر مصرہے اور انہی الزام تراشیوں کے کھیل کھیل میں یہ موذی وباءدنیا کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے کاروباری زندگی تقریباً معطل ہو چکی ہے دنیا کو گلوبل ویلج بنانے میں تمام ذرائع نا کام ہوتے نظر آ رہے ہیں سماجی رابطوں کو ختم کرنے کا واحد حل تلاش کیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کیلئے دنیا کے ان ممالک نے بھی شہروں میں فوج کی مقامی انتظامیہ اور پولیس کی مدد کیلئے طلب کر رکھا ہے جہاں شہری علاقوں میں فوج کا تصور بھی نہیں تھا۔
جنگ عظیم دوئم کے بعد سرمایہ دارانہ نظام متعارف کرنے والوں کے حشر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وال سٹریٹ جہاں دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج کا کام دھڑلے سے ہوتا تھا کہ کسی بھی ملک کے معاشی نظام کو کنٹرول کرنے کیلئے ادارے کام کر رہے تھے مگر آج وہی وال سٹریٹ تنزلی کے تاریخی عمل کا شکار ہے اب بھی شاید یہ وقت ہے کہ اگر آمرانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ رکھنے والے اپنی سوچ تبدیل کر لیں اور انسانوں کو انسان سمجھ کر برتاﺅ شروع کر دیں تو انسانوں اور ان کی مٹی کے ساتھ کھیل بند کر دیں تو قدرت کے انتقام سے بچا جا سکتا ہے۔اور ایسی آفتوں کا دنیا میں پہلے بھی واسطہ پڑ چکا ہے جس سے کروڑوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن وہ دور آج کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھا اب ہمیں اس ترقی کو اس پر قابو پانے میں لگانی ہو گی ہم پاکستانی اب بھی اس کو سنجیدہ لینے کو تیار نہیں مگر اب قوم بن کر حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور پابندیوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا کیونکہ وطن عزیز اس وقت انتہائی تشویش ناک صورتحال میں ہے ۔
چین یا کوئی دوسرا ملک ہمارے لیے مشکل پیدا نہیں کر سکتا ۔تاہم دوسری طرف اس عفریت پر قابو پانے کیلئے موثر میڈیسن کی تیاری کیلئے بھی دن رات کام ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ جس طرح تمام دنیا کے ریسرچر اس پر کام کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں کہ ماضی کے وبائی امراض کی طرح اس کی بھی دوا تیار کر لی جائے اور اس پر قابو پا کر انسانوں کو خوف اور دہشت کے اس مرحلے سے نکال لیا جائے اور قدرت کا شاہکار بستا رہے لیکن اس کیلئے مختلف اقوام کیلئے مصنوعی لاک ڈاﺅن ختم کرنا ہوں گے ورنہ یہ حقیقی لاک ڈاﺅن انہیں مزید تباہ کر دے گا ۔
ادھر وطن عزیز میں بھی شاید پہلی مرتبہ یہ سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن رہنما اکٹھے ہو رہے ہیں گو اس کا تمام تر کریڈٹ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو جاتا ہے جنہوں نے اس عفریت کا ملکر مقابلہ کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ کیا کہ اس وقت اس وباءسے بچاﺅ کا واحد طریقہ سماجی رابطوں پر مکمل پابندی یعنی لاک ڈاﺅن ہے ۔گو وفاقی حکومت نے اس کی نہ صرف حمایت سے انکار کیا بلکہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا وزیراعظم کے طور پر ان کی شاید یہ پہلی تقریر تھی جس میں انہوں نے اپوزیشن کو دھمکیاں دینے کی بجائے کوئی پالیسی بیان دیا گو انہیں اس بیان پر بھی یوٹرن لینا پڑا مگر اب معاشی پیکج کیلئے بات کر رہے ہیں یہ تبدیلی صرف 24گھنٹوں میں ہوگئی ہے اگر یہ اتنی جلدی ہو سکتا ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ وہ تمام تجربہ کار سیاستدانوں کو ساتھ بٹھائیں جو ماضی میں حکمران رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر اس قدرتی آفت پر قابو پانے کا ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ ذرا ہمت کا کام ہے جو چند روز تک شاید انہیں آ جائے کیونکہ ابتدائی سطح پر اگر باہم مشورہ اس کو کنٹرول کرنے کیلئے حقیقی اقدام اٹھا لیے جاتے تو ایسا نقصان نہ ہوتا جو نظر آ رہا ہے خصوصاً تفتان بارڈر کے ذریعے زائرین اور دوسرے ممالک سے بذریعہ ہوائی جہاز آنے والوں کو صحیح طریقے سے چیک اور ڈیل کر لیا جاتا اب بھی شنید ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں زائرین ایران میں موجود ہیں جو اپنے ملک آئیں گے ان کیلئے پالیسی ضروری ہے کیونکہ یہ اس وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور جگت بازی کا نہیں ہے اقتدار کی نیند سے بیدار ہونے کا وقت ہے کیونکہ کرونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ۔
دس ہزار سے زیادہ زائرین ایران کے راستے واپس آ کر ملک بھر میں پھیل بھی چکے ہیں خصوصاً تفتان بارڈر سے قرنطینہ منتقل کیئے گئے زائرین جن میں مثبت بھی ہیں ملتان کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں مزدوروں کیلئے بنائے گئے فلیٹس میں ساڑھے بارہ سو سے زیادہ زائرین ہیں۔ خیال رکھنے والوں ڈاکٹروں کیلئے مکمل کٹس نہ ہونا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے تاہم ایک بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ اس وقت تمام طبقات بشمول سیاسی جماعتیں متحد ہو کر اس آفت کے خلاف کام کر رہی ہیں جو ملک کے آئندہ کیلئے نیک شگون ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں اور ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ 1956 ءکے بعد بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یوم تجدید عہد 23مارچ کی تقریبات منعقد نہیں ہو سکیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker