اختصارئےصہیب اقباللکھاری

اقلیتیں غیر محفوظ کیوں ؟ ۔۔ تحریر : صہیب اقبال

پرانے وقتوں میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے تھے مختلف مذاہب ، مسالک اور ذاتوں کے لوگوں سے ملتے تھے مختلف ممالک ، ریاستوں اور علاقوں میں جاتے تھے ان کے حال احوال اور طرز زندگی کےبارے میں جانتے تھے۔ اب آدمی نے ترقی کرلی ہے جبکہ انسانیت تنزلی کی طرف جارہی ہے ، چلیں چھوڑیں یہ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ اب دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے فاصلے مٹ چکے ہیں اب دنیا کے کس کونے میں کیا کچھ ہورہا ہے، پتہ چل جاتا ہے ۔



دوسرا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے
سماجی رابطوں کی پی ویب سائٹ پر بھارت میں انتہا پسندی کے حوالے سے بحث چل رہی تھی ، بھارتی شہری راجیو کمار سے میری بحث ہو گئی ، میں نے راجیو کمار سے کہا کہ تمہارا معاشرہ شدت پسند ہوچکا ہے۔ آپ کے ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں خاص طور پر آر ایس ایس کی حکومت آنے کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے، آئے روز مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہے ہے میری پوری بات راجیو نے سنی اور پھر کہا کہ آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن ان یہ صورت حال صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ آپ کا ملک بھی اقلیتوں کے لیے محفوظ ہے ، یہاں بھی غیر مسلموں کی بستیاں ہی جلا دی جاتی ہیں ، غیر مسلم بچوں پر توہین مذہب کے الزامات لگادیے جاتے ہیں خاندانوں کو جلتے آگ کے بھٹے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔



حال ہی میں گھوٹکی کا واقعہ دیکھ لیں جس میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کو مارا پیٹا گیا ہے اس کے علاوہ سینکڑوں واقعات ہیں آپ کے ملک میں بھی شدت پسندی اور انتہا پسندی عروج پر ہے۔



اگر ہمارے ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں تو آپ کے ملک میں بھی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔راجو نے کہا برصغیر کی تاریخ دیکھ لیں اب کے مذہب کے حملہ آوروں نے یہاں حملہ کیا ہماری عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا آپ کے ایک حملہ آور نے ہمارے ایک تاریخی مندر پر سترہ حملے کیے آپ نے ایک ہزار سال حکومت کی ہم پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ توڑے ہم نے صبر کیا آج ہم ٹیکنالوجی اور دیگر چیزوں میں ہم آپ سے آگے ہیں تو آپ اپنے پرکھوں کا کیا دھرا برداشت کریں ۔



میں نے کہا آپ نے کشمیر پر ظلم ستم کیا وہاں آرٹیکل 370 لگایا ان کے حقوق سلب کیے وہاں کرفیو لگا کر ان کا جینا محال کردیا ۔ راجیو نے کہا آپ نے ہم پر ایک ہزار سال حکومت کی ہم پر پر روز 370 لگایا ہم پر کرفیو لگا یا ہمارے حقوق پر قبضہ کیا آج اگر ہم نے اپنی طاقت لگائی تو آپ کی چیخیں ہیں ۔



اس نے کہا کہ آپ کے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی ہم سے زیادہ ہے میں نے کہا وہ تو آپ کے ملک میں بھی ہے اس نے کہا کہ آپ تو ہم سے علیحدہ بھی مذاہب کہ بنیاد پر ہوئے اس سے بڑی انتہا پسندی کیا ہوسکتی ہے ؟ ایک ایسا ملک جو مذہب کی بنیاد پر بنا ہو وہاں انتہا پسندی اور شدت پسندی ہی ہوگی ۔
راجیو نے کہا کہ آپ نے انتہا پسندی کو گلے لگائے رکھا ہم سیکولر رہے اس وجہ سے آج ہم ترقی کرگئے اور چاند تک جانے کے راستے تک پہنچ گئے ہے اور آپ ابھی تک وہیں زمین پر ڈینگیں مار رہے ہیں۔



میں نے بحث کو بڑھانے کی بجائے رجیو کو گڈ بائے کہا اور اب تک اس کی باتوں کو سوچ رہا ہوں کہ ہم اب کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا صرف بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں ؟ کیا برصغیر میں صرف آر ایس ایس شدت پسند تنظیم ہے ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker