عمران عثمانیکھیللکھاری

سنیل گاواسکر پاک بھارت ٹیسٹ سیریز کے کیسے حامی ہو گئے ،تازہ ترین انٹرویو:عمران عثمانی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سنیل گاواسکرنے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے شیڈول اور پوائنٹس ٹیبل پر کڑے سوالات اٹھادیئے ہیں اور ساتھ ہی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاک بھارت مقابلے کو لازمی قرار دیتے ہوئے موجودہ شیڈول کو حقیقی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے دور قرار دیدیا ہے۔انہوں نے کہا عبد القادر کا سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ وہ ہم میں نہیں ہیں،مزید کہا کہ پاکستان نے ورلڈ کپ 1992جیتا ،میں اکیلا اس لئے ٹیم کے بارے میں پر امید تھا کہ یہ ٹیم ہی حقیقی ٹیم تھی۔
پنجاب اور خاص کر لاہور کے لوگوں نے میرانا م گاواسکر سے گوواسکر بنادیا،مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں گووا سے آیا ہوں،اچھی یادیں ہیں مگر دلچسپ بھی ہیں۔پاکستان کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ کمنٹیٹر رمیز راجہ سےگفتگو میں انہوں نے بہت سے موضوعات پر بات کی جن میں کورونا سے لیکر ماضی،حال اور مستقبل کی باتیں بھی شامل تھیں۔
سنیل گاواسکر نےبتایا کہ 1981-82 کے دورہ پاکستان میں عمران خان نے ایک سیریزمیں 40 وکٹیں لے لی تھیں،سرفراز اور عمران نے کمال گیندیں کیں مگر ریورس سوئنگ نے حد کردی،نئی گیند سے کھیلنے میں کوئی مشکل نہیں تھی مگر ایک گھنٹہ کے بعد پرانی گیند کھیلنا بڑا ٹیسٹ تھا تو پاکستان نے ریورس سوئنگ کرکے خاصا پریشان کیا،اس دور میں رچرڈ ہیڈلی اور ویسٹ انڈین بائولرز کو کھیلنا خاصا مشکل تھا،اچھے بیٹسمین کے لئے اچھا ٹیمپرامنٹ اورتوجہ کا ہونا ضروری ہے،1986کی سیریز میں عمران خان کی بائولنگ پر سنیل گاواسکر ڈٹ جاتے تو کپتان عمران خان غصے میں آکر اگر اپنے پلیئرز کو کچھ بول بھی دیتے تھے تو اس پر سابق بھارتی کپتان نے کہا کہ اس ڈانٹ میں پیار ہوتا تھا اور اچھے کی کوشش کی تلقین ہوتی تھی۔
سنیل گاواسکر کہتے ہیں اگر سارے کرکٹ بورڈ متفق ہوں تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لئےالگ ونڈو نکالی جاسکتی ہے لیکن بورڈز کو اپنا ڈومیسٹک اور انٹر نیشنل سیزن پیارا ہوتا ہے لیکن اگر تمام بورڈز اس پر اتفاق کرلیں تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو مسلسل ایک ہی ونڈو میں کرلیناچاہیے،ایک تو اس سے تمام توجہ حاصل ہوگی اور دوسرا ٹیسٹ کرکٹ کوفروغ ملے گا کہ جس کے لئے یہ چیمپئن شپ ہونے جارہی ہے،اصل میں کرکٹ ہے ہی ٹیسٹ کرکٹ،جس میں کھلاڑی کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے اور آخر میں پھر جاکر بات ٹیسٹ کی پرفارمنس کی بنیاد پر ختم ہوتی ہے۔
سابق بھارتی کپتان نے اس میں ایک اور بات بھی کردی،بھارتی عوام کے رویہ سے چونکہ آگاہ ہیں اس لئے فاصلہ رکھ کر پاک بھارت ٹیسٹ سیریز کا اشارہ دیا،گاواسکر کہتے ہیں کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کرانی ہے تو کم سے کم ہر ٹیم کو دوسری ٹیم سے ایک ٹیسٹ سیریز تو ضرور کھیلنی چاہیے،تب ہی اصل ورلڈ چیمپئن شپ کا معلوم ہوگا،ورلڈ کپ 2019مجھے اس لئے پسند آیا کہ اس میں ہر ٹیم نے دوسرے کے خلاف کھیلا تو یہ کیسی ٹیسٹ چیمپئن شپ ہے کہ مخصوص سیریز کھیل کر آپ 2 ٹاپ ٹیسٹ ٹیموں کا فائنل کروادیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ اس سے اصل چیمپئن کا تعین ہوسکے۔ایک بار ضرور دوسری ٹیم سے ایک بار تو ضرور کھیلے،کم سے کم ایک بار تو ضرور کھیلے،گاواسکر کی اس بات کا مطلب یہی تھا کہ پاک بھارت مقابلے کے بغیر ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے۔
سنیل گاواسکر نے کہا کہ بھارت میں پچز اچھی بنتی ہیں اس لئے بیٹسمین اچھے تیار ہوتے ہیں،پاکستان سے ہمیشہ اچھے فاسٹ بائولرز اور بھارت سے اچھے بیٹسمین آگے آتے ہیں،رول ماڈل بھی چونکہ بنتے ہیں اسلئے سب دیکھ کر آگے بھی بلے باز بنتے ہیں،بھارت میں اشتہار بھی بیٹسمینوں کو ملتا ہے،گیند باز کم دکھائی دیتے ہیں۔
سنیل گاواسکر نے کہا کہ اس وقت بھارت دنیا کی بہترین بیلنس ٹیم ہے،ایسے ہی جیسے پاکستان 1980کے عشرے کی ٹیم تھی بلکہ پاکستان ہی اصل ورلڈ چیمپئن تھا جس نے ویسٹ انڈیز،بھارت اور انگلینڈ و آسٹریلیا میں سب سے اچھی پرفارمنس پیش کی ،پھر ورلڈ کپ بھی جیتا ،پاکستان اس لئے ورلڈ چیمپئن رہا کیونکہ اس کے پاس بیلنس ٹیم تھی ،7ویں نمبر پر عمران ،8ویں پر وسیم اکرم کھیلتے تھے،پھر بیٹنگ ،بائولنگ اور اسپن ڈیپارٹمنٹ لاجواب تھا،بائوجی(عبد القادر)کی کیا بات تھی تو پاکستان حقیقی معنوں میں اصل ورلڈ چیمپئن تھا،آج بھارت کی ٹیم ویرات کوہلی کی قیادت میں ویسی ٹیم ہے
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز ضرور ہونی چاہئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ لاہور میں برف باری کے امکانات تو زیادہ ہیں لیکن باہمی سیریز کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔آئی پی ایل کے امکانات خاصے کم ہیں اگر ہوجائے تو میں بھی تیار ہوں کہ اس مرتبہ اپنا نام دیدوں کیونکہ لاک ڈائون میں وزن کم کرلیا ہے۔
( بشکریہ : کرک سین ڈاٹ کام )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker