سید مجاہد علیکالملکھاری

ادھار مانگ کر ملک کا دفاع کیسے ہو گا؟/ سید مجاہد علی

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آج جائینٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران چیئرمین جائینٹ چیفس آف اسٹاف جنرل زبیر محمود کو یقین دلایا ہے کہ قوم مسلح افواج کی تمام مالی ضروریات پوری کرے گی۔ اس موقع پر انہیں ملک کو لاحق ہونے والے کسی خطرہ کی صورت میں فوج کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس پر وزیر اعظم نے اطمینان کا اظہار کیا۔ مسلح افواج کو وزیر اعظم کی یہ یقین دہانی ایک ایسے وقت میں کروائی گئی ہے جب ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران روپے کی قدر میں دس فیصد تک کمی آچکی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران روپے کی قدر میں چار سے پانچ فیصد تک کمی، آئی ایم ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کی گئی ہے تاکہ ادائیگیوں میں عدم توازن پورا کرنے کے لئے مزید قرضہ لیا جاسکے۔
یوں تو ملک میں جس قسم کی جمہوری حکومت برسر اقتدار ہے، اس کا سربراہ فوج کی مالی ضرورتیں پوری کرنے کی حامی بھرنے کے سوا کر بھی کیا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جس میں اہم ترین فیصلے فوج کی صوابدید سے ہوتے ہیں اور وزیر خارجہ کے ہوتے ہوئے بھی اہم خارجی معاملات آرمی چیف کے دوروں میں طے پاتے ہیں۔ حکومت اپنی ’مدت‘ پوری کرنے کے شوق میں فوج کی مالی ہی نہیں تمام سیاسی اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کو بھی قبول کرتی ہے اور ان کے مطابق ہی فیصلے کرنے یا کئے گئے فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ گو کہ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ فوج ملک میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ان کے ہوتے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ جمہوری نظام کے تسلسل کی ضمانت دیتے ہیں۔ تاہم جس قسم کے جمہوری اختیار کے ساتھ شاہد خاقان عباسی وزارت عظمی کے ’مزے‘ لے رہے ہیں ، اس میں یقین دہانیاں کروانے اور فوجی افسروں کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ یوں تو ان کے پیش رو اور بقول شاہد خاقان عباسی اس ملک کے اصل وزیر اعظم ، نواز شریف بھی فوج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے قومی بجٹ آنے سے پہلے اپنے وزیر خزانہ کو جی ایچ کیو بھیج کر مطالبات اور ضرورتوں کی فہرست منگوایا کرتے تھے تاکہ شکایت کی گنجائش نہ رہے۔ لیکن پھر بھی وہ سب کو خوش نہ رکھ سکے اور بالآخر انہیں گھر سدھارنا پڑا اور اب وہ ہر کسی سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ ’مجھے کیوں نکالا‘۔
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر عام لوگوں سے جو بھونڈا مذاق کیا جارہا ہے ، ا س میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ عام آدمی کی ضرورتیں ۔۔۔ جن میں صاف پانی، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورتیں شامل ہیں ۔۔۔ پورا کرنے سے پہلے ان کی حفاظت کا انتظام کیا جائے یعنی فوج کو مضبوط کیاجائے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔ اسی شوق میں ایٹمی دھماکے کرکے قوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے اور اسی مقصد کو پانے کے لئے سات لاکھ جوانوں پر مشتمل فوج کو مسلسل پالنے اور پلوسنے کے لئے قوم کو پیٹ کاٹ کر وسائل فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شاید اس کا مقصد یہی ہوگا کہ اگر لوگ محفوظ ہی نہیں ہوں گے تو پیٹ کس کا پالا جائے گا اور علاج کس کا کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو حفاظت ضروری ہے۔ اس حفاظت کے لئے مضبوط فوج درکار ہے جسے مستحکم رکھنے اور اس کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کی یقین دہانی آج وزیر اعظم نے ایک بار پھر قوم کی جانب سے افواج کے سربراہ سے ملاقات کے دوران کروائی ہے۔ ایسے میں صرف یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ جس بھوکی ننگی قوم کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی جارہی ہے ، کیا کبھی اس سے بھی استفسار کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ عام آدمی تو شاید اس قدر کم فہم ہے کہ اس کے بارے میں باور کرلیا جاتا ہے کہ وہ ان معاملات کو کیا سمجھ سکے گا لیکن ملک میں جمہوریت کی بنیاد پر عوام کی حکمرانی قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی کہ وہ فوج کی مالی ضروریات کے بارے میں ’وعدہ‘ کرنے سے پہلے انہی ووٹوں کی بنیاد پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی سے ہی پوچھ لے اور انہیں ڈیفنس بجٹ کے سب پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرے۔
خبر ہے کہ پاکستان کی برآمدات محدود ہیں، بیرون ملک سے ترسیل زر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، قوم کی آمدنی اس کے اخراجات سے بہت کم ہے، ادائیگیوں کا عدم توازن دو کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جس میں روپے کی قدر میں کمی کرکے مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے 6.7 ارب ڈالر قرض لے کر قومی معیشت کو چار چاند لگانے کا جو منصوبہ بنایا تھا اور جسے خوش دلی سے 2016 میں مکمل کیا گیا تھا اب اس کی قسطیں دینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جو آئی ایم ایف قرض دینے کے پروگرام پر عمل کے دوران پاکستانی معیشت کے مثبت اشاریوں کے گن گاتی تھی، اب اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستانی معیشت کو لاحق خطرات کی تفصیل بتا رہی ہے۔ اور پاکستانی وزارت خزانہ کے بزرجمہر اسی آئی ایم ایف کے پاس دست سوال دراز کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ کیوں کہ اب چین بھی بنکوں کے ذریعے کمرشل قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس لئے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ اپریل کے دوران پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست لے کر جانا پڑے گا۔ یہ درخواست دائر کرنے کی پیش بندی کے طور پر روپے کی قدر میں کمی کی جارہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کو یقین دلایا جاسکے کہ حکومت معیشت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ جون تک روپے کی قدر میں مزید پانچ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔
مسلح افواج کی مالی ضرورتیں پوری کرنے والی حکومت کے سربراہ کو خبر ہوگی کہ ان کے عہدے کی مدت مئی کے آخر تک ہے۔ اس کے بعد عبوری حکومت انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ لیکن معیشت کے بارے میں پے در پے بری خبریں سامنے آنے کے بعد اور روپے کی مالیت میں کثیر کمی کے نتیجے میں عام آدمی کے بجٹ پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے، اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہو سکتا ہے عبوری حکومت کو تین ماہ سے زیادہ مدت درکار ہو۔ عین ممکن ہے کہ ملک میں سیاست دانوں کے بارے میں جو بھیانک تصویر بنا دی گئی ہے اور جمہوریت کو جس طرح چند سیاست دانوں کی ناکامیوں یا بدعنوانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کرنے کے جس منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، اس کی روشنی میں عبوری حکومت کو تین ماہ کی مدت میں توسیع کی ’درخواست‘ دائر کرنا پڑے ۔ اس درخواست کو بادل ناخواستہ قبول کرتے ہوئے ہوسکتا ہے سپریم کورٹ وہی فیصلہ کرنے پر ’مجبور‘ ہوجائے جس کی وارننگ جاوید ہاشمی تین سال سے دے رہے ہیں اور اب شیخ رشید نے اسے جوڈیشل مارشل لا کا نام دے کر اس کی ضرورت کے لئے ’مضبوط‘ دلائل بھی دیئے ہیں۔ ایسی کسی مجبوری کی صورت میں نادیدہ اسکرپٹ کے بارے میں وہ کہانیاں سچ ثابت ہو سکتی ہیں جو مختلف طریقوں سے قوم کو سنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ کہ ایک طویل المدت ٹیکنوکریٹ اور ایماندارعبوری حکومت کے بغیر نہ یہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی یہاں جمہوریت پنپ سکتی ہے۔ جمہوریت کے ضامن چونکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس ہیں لہذا اس کی حفاظت کے لئے کوئی بھی کڑوا فیصلہ ممکن ہو سکتا ہے۔
یوں بھی ملک میں اس وقت اٹھارویں ترمیم کے تحت مرکز کو کمزور اور صوبوں کو مضبوط بنانے کے ’نامناسب‘ فیصلے پر بحث زوروں پر ہے۔ اسی بحث میں ایک نکتہ یہ بھی نکالا جارہا ہے کہ اس ترمیم کی وجہ سے ساٹھ فیصد وسائل صوبوں کو مل جاتے ہیں جو اتنے وسائل کو استعمال کرنے کے ’اہل‘ نہیں۔ گویا اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی تقسیم اصل مسئلہ نہیں بلکہ اس وجہ سے مرکز کا تہی دست ہوجانا درد سر ہے۔ عارضہ لاحق ہو تو اس کا علاج تو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اب مرکز کے اختیارات، مالی معاملات، معیشت کی خرابی، قرضوں کا بوجھ، آمدنی میں کمی، صوبوں کی بد انتظامی اور فوج کی ضرورتوں کو ملاکر پڑھیں تو ایک غیر واضح تصویر ابھرنے لگتی ہے۔ اس تصویر میں رنگ بھرنے کا کام شاید عبوری حکومت کو ہی کرنا پڑے۔
سوال تو بہرصورت صرف اتنا ہے کہ اگر ملک کو مالی خسارے کا سامنا ہے تو اسے پورا کرنے کے لئے سب شعبوں کو مل کر بوجھ برداشت کرنا چاہئے یا معاشرے کے کمزور ترین حصے یعنی عوام پر بوجھ میں اضافہ کرکے فوج کو مضبوط و توانا کرنا چاہئے۔ جو ملک قرضوں پر چلایا جارہا ہو ، اس کی فوج کب تک مضبوط رہ سکتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب آج تلاش نہ کیا گیا تو کل تک یہ سوال مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker