2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

25 جولائی کے انتخابات جمہوریت اور آمریت میں ریفرنڈم ہوں گے/ سید مجاہد علی

پاکستان میں ایک اور وزیر اعظم کو نشان عبرت بنانے کا اہتمام کیا جا چکا ہے۔ گو کہ نواز شریف کے اس دعوے کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے کہ ان کی تقدیر کا فیصلہ پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کریں گے۔ یہ بیانیہ خواہ ملک کے معروضی حالات کے حوالے سے کسی قدر باغیانہ یا حقیقت پسندانہ ہی کیوں نہ ہو اور عدالتی نظام کے ذریعے سیاسی لیڈروں کو سزائیں دلوا کر مطعون کرنے کی خواہ کتنی ہی مذموم روایت اس ملک میں موجود نہ رہی ہو ۔۔۔ اس کے باوجود کسی بھی سیاسی لیڈر کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جرم کی تحقیقات کا کام متعلقہ اداروں یعنی پولیس، ایف آئی اے یا نیب وغیرہ کو ہی کرنا ہوتا ہے کیوں کہ ریاست اور اس کا نظام ان اداروں کو اسی مقصد کے لئے استوار کرتا ہے۔ اسی طرح ان تحقیقات کی بنیاد پر عدالتوں کو ہی سزا دینے یا بری کرنے کا فریضہ انجام دینا پڑتا ہے۔
جس طرح کوئی شخص مجمع جمع کر کے اور جلسہ منعقد کرکے اسے عوام کی رائے کا اظہار قرار نہیں دے سکتا، اسی طرح کوئی بھی لیڈر خواہ ملک کے نظام میں اس کے ساتھ کتنی ہی زیادتی کیوں نہ ہوئی ہو، یہ کہہ کر عدالتی طریقہ کار ، ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا کہ اس کے خلاف الزامات کا فیصلہ عوام کے ووٹوں سے ہو گا۔ یہ سیاسی ہتھکنڈے پاکستان جیسے ملکوں میں عام طور سے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اب ان کو مسترد کرنے اور نظام قانون کو انتقام کی بجائے انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنے کا کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے سب سیاسی لیڈر بلا تخصیص اس اصول کو تسلیم کریں کہ ملکی نظام میں اگر کچھ کوتاہیاں ہیں تو انہیں درست کرنے کی ذمہ داری بھی انہی لیڈروں پر عائد ہوتی ہے جو اسی نظام کے تحت اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
نواز شریف کے خلاف عدالتی نظام کو ہتھیار بنا کر ملک میں جمہوری طریقہ کار اور اداروں کی خود مختاری کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا ہے ، اس پر بات کرنے اور اسے مسترد کرنے کے لئے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ نواز شریف یا جو لیڈر بھی جمہوریت کی علامت بننا چاہتا ہے اور جمہوری عمل میں اداروں ، خفیہ ہاتھوں ، جرنیلوں یا ججوں کی مداخلت کو روکنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ کھل کر بات کرے اور نعرے لگانے اور سوال اٹھانے کی بجائے، ان سوالوں کا جواب فراہم کرے۔ میاں نواز شریف طویل عرصہ تک مختلف حیثتوں میں شریک اقتدار رہے ہیں۔ وہ بھی اس نظام کو اس دگرگوں حالت تک پہنچانے کی ذمہ داری سے کلّی طور سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے کہ اگر ملک کے عدالتی نظام کو بعض طاقتور طبقوں نے منتخب شخصیتوں کے خلاف استعمال کرتے ہوئے انتقام کی شرمناک مثالیں قائم کی ہیں تو اسی نظام کی یہ کمزوری بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ اس کے تحت کسی سیاست دان کو اس وقت تک سزا بھی نہیں ملتی جب تک وہ نظام چلانے والی قوتوں کا چہیتا رہتا ہے۔ عوامی عدالت کی باتیں صرف اس وقت سننے میں آتی ہیں جب کسی بھی لیڈر کی سرپرستی سے انکار کیا جاتا ہے۔
سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر ملک کے عدالتی نظام کو انصاف فراہم کرنے والےاداروں میں تبدیل کرنا ہے تو وہ انصاف سب کے لئے یکساں فراہم ہونا چاہئے اور نظام عدل کو ان طاقتوں کے چنگل سے نجات دلانا ہوگی جو اسے اپنے سیاسی یا ادارہ جاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح اس میں اتنی قوت، شفافیت اور صلاحیت بھی ہونی چاہئے کہ ہر جرم اور غلط کاری کی گرفت ہو سکے اور جرم میں ملوث شخص خواہ کتنا ہی با اثر اور طاقتور ہی کیوں نہ ہو، وہ قانون کے مطابق اپنے اعمال کا جوابدہ ہو۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو ملنے والی سزا کے خلاف اسی لئے بھی احتجاج نوٹ کروایا جا رہا ہے کہ یہ سزائیں نہ صرف ناقص قانونی فہم کی آئینہ دار ہیں بلکہ قبل از وقت ہی یہ واضح کردیا گیا تھا کہ ملک کا ’نظام‘ اپنے سابق وزیر اعظم کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہے۔ یہ فیصلہ اس اصول کا شاہکار نہیں ہے کہ ’قانون سب کے لئے برابر ہے‘ بلکہ اس حقیقت کی بد تر مثال ہے کہ ملک کے نظام کو ایک خاص ڈھب سے چند مخصوص اصولوں پر چلانے کی خواہش رکھنے والی قوتیں اب تک اپنا طریقہ اور رویہ تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سچ بھی اظہر من الشمس ہے کہ اگر 70 سال کے دوران ملک کی اسٹبلشمنٹ نے اپنا وطیرہ تبدیل نہیں کیا تو سیاست دانوں نے بھی اپنا طریقہ کار تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اس وقت بھی ملک میں اسٹبلشمنٹ کی زور زبردستی کی پالیسی کے خلاف صرف عوامی سطح پر نفرت اور احتجاج موجود ہے، سیاست دان تو کسی نہ کسی طرح مفاہمت کرنے اور مل جل کر چلنے کے طریقے پر ہی عمل کرتے ہیں۔ اس کی بدترین مثال چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف ہیں جو اپنے لیڈر کے خلاف بے بنیاد انتقامی کارروائی شروع ہونے کے بعد کھل کر ان کا دست و بازو بننے کی بجائے، مفاہمت کرنے اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کرراستہ نکالنے کا مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے ’جیپ‘ کےنشان پر انتخاب لڑنے کا اعلان کر کے اپنے ’عوامی سیاسی رویہ‘ اور ذاتی حمیت کا مظاہرہ کیا ہے تو شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر انٹرویو دیتے ہوئے قومی حکومت بنانے کا عندیہ دے کر سب اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی بات تسلسل سے کی ہے۔ پوچھا جانا چاہئے کہ جمہوریت میں عوام سے زیادہ یا ان کے علاوہ کون اسٹیک ہولڈر ہو سکتا ہے۔ انتخاب میں ووٹ ملنے کے بعد شہباز شریف کن اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وہ اختیار بانٹنا چاہتے ہیں جو عوام کسی سیاسی جماعت کو معاملات چلانے کے لئے عطا کرتے ہیں۔ شہباز شریف کی مجبوری نواز شریف کا بھائی ہونے کے علاوہ یہ سچائی بھی ہے کہ اگر انہیں تن تنہا پارٹی کی انتخابی مہم چلانا پڑی تو وہ شاید ان حلقوں سے بھی انتخاب نہ جیت سکیں جہاں سے وہ انتخابات میں طبع آزمائی کررہے ہیں۔
25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو ذاتی مقدمات میں عوامی عدالت کا درجہ دینے کی بات کرنے والے نوازشریف اور مریم نواز کو بھی یہ جواب دینا ہو گا کہ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران جب الیکٹ ایبلز تلاش کئے جارہے تھے، تو اس وقت عوام پر ان کا اعتماد اور بھروسہ کہاں تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نواز شریف نے گزشتہ جولائی میں نااہل ہونے کے بعد سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ ضرور اختیار کیا لیکن اسے ایک اصول مان کر جدوجہد کی بنیاد رکھنے کی بجائے اس کی وجہ سے ملنے والی عوامی تائید کو مصالحت کا راستہ تلاش کرنے کی کوششوں پر صرف کیا اور اسی مقصد سے شہباز شریف جیسے نظام پرست شخص کو پارٹی کا صدر بھی بنایا گیا۔
کیا وجہ ہے کہ نواز شریف یہ جان لینے کے بعد کہ ان کے خلاف ’سازش‘ تیار کرلی گئی ہے اور انہیں بہر صورت سزا دی جائے گی، مسلم لیگ (ن) کو ایک حقیقی سیاسی قوت بنانے میں ناکام رہے۔ اس پارٹی کو نہ ایک منتخب ادارہ بنایا گیا اور نہ اس میں عوام تک چند اصولوں کی بنیاد پر رسائی کرنے والے رہنماؤں کو احترام دیا گیا۔ کیا یہ رویہ یہ واضح نہیں کرتا کہ آخر دم تک یہ امید کی جاتی رہی تھی کہ کسی نہ کسی سطح پر کوئی نہ کوئی مفاہمت ہوجائے گی اور اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔ جمعہ کو احتساب عدالت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد جب راستے بند دکھائی دینے لگے تو ایک بار پھر عوامی عدالت کے فیصلوں کی یاد ستانے لگی ہے۔ اور یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ ان کے خلاف جو سازش کی گئی ہے اس میں چند جنرل اور جج شامل ہیں۔
گویا میاں صاحب اب بھی اس اصول کی بنیاد پر میدان میں نکلنے اور جد و جہد کا اعلان کرنے پر پوری طرح آمادہ نہیں ہیں کہ وہ نظام کو جمہوری اصولوں پر استوار دیکھناچاہتے ہیں۔ یا وہ عوام کے مینڈیٹ کی مدد سے سیاست میں فوج کی مداخلت اور عدالتوں کی سیاست کا خاتمہ کریں گے۔ وہ سازش کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن اس سازش کی تفصیل بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیا یہ رویہ عوام پر ان کے اعتبار کی کمزوری کو ظاہر نہیں کرتا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کا موجودہ ’باغیانہ‘ طرز عمل دراصل مفاہمت کی تلاش ہی کا سفر ہے اور جب وہ اپنی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر طاقتور اداروں کو تصادم کی بجائے صلح پر رام کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کی سیاست بھی وہی ہوگی جس پر ماضی میں عمل کرتے ہوئے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔
نواز شریف کو اگر ستر برس کے بگڑے ہوئے نظام کو تبدیل کرنا ہے اور وہ واقعی ملک کے آئین کے مطابق پارلیمانی جمہوری نظام متعارف کروانے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں اس کے لئے جد و جہد کا اعلان کرتے ہوئے، ملک کے عوام کی اکثریت کی طرح سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کو مسترد کرنا ہو گا۔ یہ اعلان انتخاب کو اپنے ذاتی مقدمات کے لئے عوامی عدالت قرار دینے سے نہیں ہو گا بلکہ اپنی پارٹی کو عوامی امنگوں اور ان کے نمائیندوں کی مدد سے مضبوط کرنے کے کام سے ہوگا۔ اس جنگ میں کامیابی کے لئے نواز شریف کو سازش کا ’انکشاف‘ کرنے کی بجائے ان عوامل کی دو ٹوک الفاظ میں نشاندہی کرنا ہو گی جو جمہوریت کو داغدار کرنے پر مصر ہیں۔ انہیں بتانا ہو گا کہ 25 جولائی کا انتخاب آزاد اور خود مختار پارلیمنٹ کے مقصد سے منعقد ہو رہا ہے۔ عوام نے اگر جمہوریت کی حمایت کرنے کی غرض سے نواز شریف کو ووٹ دئیے تو اس سیاسی طاقت کو نظام مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اسے عوامی عدالت سے بری ہونے کا اعلان قرار دیتے ہوئے انتخابات کو عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ریفرنڈم قرار نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ نواز شریف عوامی اور جمہوری لیڈر کے طور پر ایک ایسا نظام سامنے لانے کے عمل کاآغاز کریں گے جس میں قانون طاقتور اور کمزور میں تمیز کرنے کی روایت سے بالاہوسکے۔ اس طرح یہ انتخاب جمہوریت یا آمریت کے بیچ رائے کا اظہار بن سکیں۔
انتخاب نواز شریف کو عدالتی فیصلوں سے بری کرنے کا سبب نہیں بن سکتے، ان کے ذریعے ملک کے عوام کو غیر جمہوری طاقتوں کے استبداد سے نجات دلانے کی خواہش اور کوشش ہی ہر محب وطن کا خواب ہے۔ نواز شریف اس خواب کا حصہ بن کر ایک قد آور سیاسی لیڈر بن سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں گومگو کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ میدان پاکستان میں سجا ہے، اس میں فتحیاب ہونے کے لئے غیر واضح اعلانات کی بجائے نواز شریف کو فوری طور سے اپنے لوگوں کے بیچ پہنچنا چاہئے۔ ’جیل جانے کا خوف نہیں‘ کا اعلان کافی نہیں بلکہ جیل جا کر بتانا ہوگا کہ عوام جس شخص میں جمہوریت کے احیا کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ واقعی بے خوف اور ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker