2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

یہ انتخاب پاکستان کے لوگوں کا امتحان ہے/ سید مجاہد علی

اب سے چند گھنٹے بعد ملک بھر میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے انتخابی مہم ختم کردی ہے اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد کروانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سامنے آنے والی اطلاعات ، سیاسی صورت حال پر عدالتی فیصلوں کے اثرات، الیکشن کمیشن کے معاملات میں اعلیٰ عدالتوں کی مداخلت اور یوم انتخاب پولنگ اسٹیشنوں پر فوجی افسروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کی وجہ سے ہر طرف سے ان انتخابات کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ انتخابات میں اداروں کی مداخلت، انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی درپردہ کوششوں کے الزامات، الیکٹ ایبلز کی طرف سے پارٹیوں کی تبدیلی کے علاوہ بڑی تعداد میں آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں اور انتخابی نشان کے طور پر جیپ کی مقبولیت سے پیدا ہونے والے سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ملک میں 10 کروڑ 60 لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔ حتمی فیصلہ بہر صورت ملک کے ووٹروں کو ہی کرنا ہے۔ مختلف اداروں یا عناصر کی کچھ خواہشات اور کوششیں ضرور ہو سکتی ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں سے انتخابات کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں بھی ضرور کی گئی ہوں گی لیکن اگر عوام کی اکثریت سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس روز زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے باہر نکلتی ہے تو سامنے آنے والے نتائج غیر متوقع بھی ہو سکتے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بارے میں شبہات اور اندازوں یا تجزیوں و تبصروں کی بنیاد ماضی میں ووٹ ڈالنے کی شرح اور پیٹرن کو بنایا جاتا ہے۔ عام طور سے انتخابات میں 50 فیصد لوگ ووٹ ڈالتے ہیں اور باقی نصف نظام اور انتخابی عمل سے مایوسی کے سبب گھر بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ اگر سیاسی کارکن ، میڈیا یا سامنے آنے والے مباحث، ان خاموش تماشائی ووٹروں کو متحرک کرنے کا سبب بن گئے اور لوگ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں ووٹ دینے کے لئے گھروں سے باہر نکلے تو اس کا انتخابی نتائج پر گہرا اور فیصلہ کن اثر مرتب ہو گا۔ تاہم اگر ووٹ ڈالنے والوں کی شرح پہلے جیسی یا اس سے کم رہی تو انتخاب کے نتائج بھی وہی ہوں گے جن کا قیاس سامنے آچکا ہے اور جسے اس وقت اسٹبلشمنٹ کی خواہش اور متوقع نتیجہ سمجھا جارہا ہے۔ یعنی پارلیمنٹ میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی ۔ اس طرح معلق پارلیمنٹ وجود میں آجائے جس میں موجود ہر پارٹی حکومت بنانے کی تگ و دو میں کوئی بھی مفاہمت یا سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو۔ آزاد ارکان اپنی منہ مانگی سیاسی قیمت وصول کرسکیں اور اگر کسی پارٹی کی قیادت کسی اصول کی بنیاد پر سیاست کرنے کی کوشش کرے تو اس میں فارورڈ بلاک بنوا کر مسئلہ کو حل کرلیا جائے۔
ان انتخابات میں تحریک انصاف کے عمران خان کو مقبول ترین رہنما کی حیثیت حاصل ہوئی ہے لیکن وہ بھی حال ہی میں اس اندیشہ کا اظہار کرچکے ہیں کہ منتخب پارلیمنٹ شاید معلق ہو گی۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں وہ خود مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے ساتھ اشتراک کرنے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے۔ یہ دعویٰ بظاہر سہانا اور جمہوری عمل کے لئے خوشگوار لگتا ہے لیکن اسی نوے نشستیں جیتنے کی صورت میں عمران خان کے لئے اس دعویٰ کو پورا کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اگر انہوں نے خود پیپلز پارٹی یا دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت کا سربراہ بننا پسند نہ کیا تو تحریک انصاف سے کوئی دوسرا امیدوار چنا جاسکتا ہے یا فارورڈ بلاک کا ہتھکنڈا اس پارٹی پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ خاص طور سے اگر مسلم لیگ (ن) غیر متوقع طور سے اتنی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ وہ مخلوط حکومت بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں چلانے لگے تو کھیل کو بچانے اور شریف خاندان کو انجام تک پہنچانے کے لئے شاید اس پارٹی کے حصے بخرے کرکے اور ان ٹکڑوں کو تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔
ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ شہباز شریف بھی چونکہ ان حلقوں کے لاڈلے ہیں جہاں سے عمران خان کو طاقت حاصل ہوتی ہے ، اس لئے قابل ذکر کامیابی کی صورت میں ان کی ’لاٹری‘ بھی نکل سکتی ہے اور وہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھول کر چلو حکومت کرو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مفاہمت یا سودے بازی کا حصہ بننے پر آمادہ ہوں گے۔ اس صورت میں عمران خان کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ وہ لب بام اقتدار تک پہنچ کر اپنی ضد پر قائم رہیں یا آگے بڑھ کر مخلوط ہی سہی، حکومت کا حصہ بننے کی کوشش کریں۔ ایک تیسری صورت پیپلز پارٹی کی کامیابی اور آصف زرداری کی صورت میں بھی سامنے آسکتی ہے۔ وہ خود وزیر اعظم بننے کے لئے تیار ہیں اور اسٹبلشمنٹ کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے اپنی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کرچکے ہیں۔ آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو تحریک انصاف یا کسی بھی دوسرے گروہ کے ساتھ اتحاد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا تاہم اگر پچاس یا اس سے زیادہ نشستیں ملنے کے باوجود انہیں اقتدار سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس مقصد کے لئے شہباز شریف سے بھی تعاون پر آمادہ ہو جائیں گے۔ یوں تو موجودہ بحرانی صورت حال میں ملک کی دو پرانی اور سرد و گرم چشیدہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان سیاسی اتحاد ملک کے سیاسی اور آئینی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرسکتا ہے لیکن ایسا اتحاد شاید انتخابات کو متنازعہ اور مشکوک بنانے کی حد تک لانے والی قوتوں کو منظور نہ ہو۔ کیوں کہ یہ دونوں پارٹیاں ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایسے اقدامات کرسکتی ہیں جن میں جمہوری قوتیں مضبوط ہوں اور اسٹبلشمنٹ کا کردار کمزور ہوجائے۔ یہ انتظام ملک کے عدالتی نظام میں اصلاح کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ تاکہ منصف اعلیٰ صرف انصاف فراہم کرنے کا کام کریں اور ملک کا انتظام چلانے کی خواہش کو دبا کر رکھیں۔ تاہم ماضی کے تجربات کی روشنی میں دیکھا جائے تو سیاسی پارٹیاں شاید اب بھی اس بالغ النظری کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یوں بھی بڑی محنت سے کسی بھی پارٹی کے لئے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کا راستہ روکنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے اس قسم کی صورت میں سنجرانی فارمولا قسم کا کوئی حل زیادہ قابل بھروسہ ہوگا تاکہ کوئی بے نام اور کمزور شخص وزیر اعظم بن جائے جسے پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت برقرار رکھنے کے لئے ہر وقت پریشان رہنا پڑے۔ اور ملک کے اصل محافظ دل جمعی سے قومی مفادات کا تحفظ کرتے رہیں۔
ان تمام آپشنز کے بارے میں کل کے انتخابی نتائج آنے کے بعد مباحث اور اندازوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ تاہم ایسا صرف اسی صورت میں ہو گا اگر ووٹنگ کا کلاسیکل طریقہ ہی دیکھنے میں آیا اور نصف کے لگ بھگ لوگ ہی اپنی برادری، گروہ یا کسی لیڈر سے شیفتگی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے گھروں سے باہر نکلے۔ اس کے برعکس اگر دس یا بیس فیصد خاموش ووٹر اس بار اپنی خاموشی توڑنے پر آمادہ ہو گیا تو وہ انتخابی نتائج کے ہر اندازے کو غلط ثابت کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کی رائے کسی جائزے اور اندازے میں شمار نہیں کی جاتی۔ درحقیقت ملک کو اس وقت ایسی ہی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو ووٹ کی اہمیت اور قدر و قیمت کو پہنچانے اور کل گھر میں ٹی وی پر تماشہ دیکھنے کی بجائے اپنا قومی فریضہ اداکرے۔ ووٹ صرف ان معنوں میں ہی امانت نہیں ہے کہ اسے ضمیر کی آواز کے مطابق سب سے اہل اور دیانت دار امیدوار کو دیا جائے بلکہ ووٹ دینا قومی فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو لوگ ووٹ نہ دے کر سیاست سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں وہ دراصل ملک میں جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور اسے سازشوں اور جوڑ توڑ کی آماجگاہ بننے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اب موقع ہے کہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے رائے دے کر تبدیلی کے لئے عملی قدم اٹھایا جائے۔
ان اندازوں سے قطع نظر کل کے انتخاب میں ایک غیر متوقع صورت یہ بھی سامنے آسکتی ہے کہ کوئی ایک پارٹی جن میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کو سر فہرست سمجھا جاسکتا ہے ، ووٹروں کی اچانک بیداری اور حالات بدلنے کی امنگ کی وجہ سے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت یا بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اس صورت میں بھی ملک کے لئے کئی قباحتیں ہوں گی اور یہ کہنا مشکل ہو گا کہ ملک جمہوریت کی طرف آسان سفر کا آغاز کرسکے گا۔ تحریک انصاف کو اگر قومی اسمبلی کی 272 میں سے نصف نشستوں پر کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو انتخابات سے پہلے دھاندلی کے بارے میں شبہات کو تقویت ملے گی اور ملک میں نیا سیاسی بحران دیکھنے میں آئے گا ۔ اس بحران میں تمام سیاسی پارٹیاں حسب مقدور اپنا حصہ ڈالیں گی۔ بصورت دیگر اگر مسلم لیگ (ن) کو غیر معمولی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو یہ ان حلقوں کے لئے ناقابل قبول پیش رفت ہوگی جو اس پارٹی کو اقتدار سے علیحدہ کرکے اب نئے سیاسی انتظام کی ضرورت محسوس کررہے ہیں۔ ایسی کامیابی کی صورت میں بھی ویسے ہی احتجاج کا ایک نیا سلسلہ دیکھنے میں آسکتا ہے جو 2014 کے دھرنوں کی صورت میں دیکھا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں سیاسی انتظام کمزور اور آہنی ہاتھ مزید مضبوط ہوئے تھے۔
2018 کا تقابل 1970کے انتخابات سے کیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں انتخابات میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ پاکستان کو 1970میں انتخابی نتائج کو قبول نہ کرنے کا خمیازہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ ان انتخابات کے منصفانہ ہونے کے بارے میں دو رائے نہیں ہیں۔ لیکن 2018 کے انتخابات کے بارے میں پہلے سے ہی شبہات موجود ہیں۔ اور قوم کو انتخاب سے پہلے ہی اس بحران کا سامنا ہے جو 1970 میں انتخابات کے بعد مشرقی حصے میں عوامی لیگ اور مغربی حصے میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے نتیجے میں پیدا ہؤا تھا۔ موجودہ انتخابات کو مینیج کرنے اور ایک خاص پارٹی کو جتوانے اور دوسری کی سیاست محدود کرنے کے الزامات عام ہیں۔ اس لحاظ سے کل جب پاکستان کے ووٹر رائے دینے کے لئے گھروں سے نکلیں گے تو انہیں خبر ہونی چاہئے کہ ان کا ووٹ ملک کو انتشار سے نکال بھی سکتا ہے اور اس کی مشکلات میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔ اسی طرح انتخابات کا انعقاد کروانے والے اور ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کو خبر ہونی چاہئے کہ مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوششوں سے ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
اس ملک میں جمہوریت کا راستہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اس لئے جمہوریت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی فکری اور عملی کوششیں ختم ہو نی چاہئیں۔ 25 جولائی کو ملک کے عوام کے پاس یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ جمہوریت کو سرفراز کرنے کے لئے اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔ عوام کی طاقت ہر مشکل اوربحران کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم ووٹ کے ذریعے اس کا اظہار ہی سب سے مؤثر اور بہتر طریقہ ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ پاکستانی عوام کل اپنے سیاسی شعور کا عملی مظاہرہ رائے دہی میں بڑی تعداد میں حصہ لے کر کریں گے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker