سید مجاہد علیکالملکھاری

ٹرمپ کی جگ ہنسائی اور شاہ محمود قریشی کی خود ستائی۔۔سید مجاہد علی

گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ پونے دو برس کے دوران جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ امریکہ کی تاریخ میں کسی صدر کو نصیب نہیں ہوئیں تو اس پر ہال میں قہقہہ گونج اٹھا۔ دنیا کے 193 ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی کےسالانہ اجلاس میں نمائیندے عام طور سے بہت سنجیدگی سے عالمی لیڈروں کی باتیں سنتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کہی گئی باتوں کی کوئی قانونی حیثیت تو نہیں ہوتی لیکن وہاں پر ہر ملک عالمی امور پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرے ممالک کے ارکان اسے سمجھنےا ور اپنے قومی مفادات کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے سفارتی رپورٹرز کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شاذ ہی ایسا موقع آتا ہے کہ کسی سربراہ حکومت یا مملکت کے خطاب کے دوران ہال میں قہقہہ بلند ہو۔ اسی لئے اس اچانک ’خیر مقدم‘ پر امریکہ جیسی سپر پاور کے صدر کو بھی کہنا پڑا کہ ’ میں اس کی توقع تو نہیں کررہاتھا لیکن خیر۔۔‘
امریکی صدر نے اس خطاب میں اپنی توصیف میں قلابے ملانے کے علاوہ ہر ملک اور عالمی ادارے کو لتاڑنے کی کوشش کی۔ دنیا کے اہم اداروں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے علاوہ تیل پیدا کرنے ولے ملکوں کی تنظیم او پیک بھی صدر ٹرمپ کے سخت سست الفاظ سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ وہ اپنے قریب ترین حلیف ممالک پر مشتمل نیٹو کو بھی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ اس بار تو انہوں نے اس تقریر میں واضح کیا ہے کہ ان کے ’ امریکہ سب سے پہلے‘ ایجنڈے کے تحت صرف اسی ملک کی مدد کی جائے گی یا اس کے دفاع میں معاونت ہوگی جو امریکہ کا دوست ہو گا یا اس کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے گلوبلائزیشن اور باہمی اشتراک کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے قوم پرستی کا طرفہ اور خطرناک تصور پیش کیا ہے ۔ اسی لئے امریکی مبصر بھی امریکی صدر کے لب ولہجہ ، طریقہ گفتگو اور پالیسی کی بنیاد پر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ’صدر کسی رہنما کی بجائے بدمعاش کا کردار ادا کررہے ہیں۔‘ امریکی صدر نے اس تقریر میں دوست دشمن ملکوں کو یکساں طور سے نشانہ بنایا تاہم سال گزشتہ ان کے نشانے پر آنے والا شمالی کوریا اب محبوب ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جبکہ ٹرمپ کا سارا زور خطابت ایران کو دنیا کی تمام علتوں ، برائیوں اور مسائل کا مسکن بتانے پر صرف ہؤا۔ جس کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کی ایران مخالف باتوں کو ’عقلی استعداد کی کمی‘ قرار دیا۔
اس ناقابل اعتبار اور پوری دنیا سے لڑائی مول لینے والے امریکی صدر کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ روز ہی ایک ظہرانے میں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات گرمجوش تھی جس میں پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کا رویہ مثبت تھا۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اس گفتگومیں وزیر اعظم عمران خان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ جبکہ شاہ محمود قریشی نے اپنی جانب سے امریکی صدر کو بتایا کہ ’ تاریخی نوعیت کے پاک امریکی تعلقات کی تشکیل نو کی ضرورت ہے‘۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کشیدگی کی صورت حال میں پاکستانی وزیر خارجہ کی یہ باتیں ناقابل فہم اور مبالغہ آرائی سے لبریز لگتی ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک ظہرانے میں رسمی سلام دعا میں شاہ محمود قریشی دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا عندیہ دینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ حالانکہ ابھی تک پاکستانی عوام کے علاوہ خواص کو بھی یہ پتہ نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاب جیتنے سے پہلے سے ہی پاکستان کو امریکہ کا دشمن قرار دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی اور صدر بننے کے بعد سے امریکی حکومت کی ہر پالیسی پاکستان دشمنی کا اظہار رہی ہے۔ پاکستان کی سیکورٹی امداد بند کردی گئی ہے اور امریکی فوجی یونیورسٹیوں میں پاک فوج کے افسروں کے تربیتی پروگرام کا سلسلہ بھی بند ہو چکاہے۔ اس ماہ کے شروع میں جب امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومیو نئی دہلی جاتے ہوئے اسلام آباد رکے تھے تو اس سے پہلے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے فراہم ہونے والے 300 ملین ڈالر کی ادائیگی روکنے کا اعلان کیا جاچکا تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ کی اس دہائی کے باوجود کہ یہ کوئی امداد نہیں بلکہ پاک فوج کی سروسز کا محنتانہ ہے، امریکہ نے امداد بحال کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ تاہم شاہ محمود قریشی کو امید ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے دورہ کے دوران جب مائیک پومیو سے ملیں گے تو امریکہ کو اس امداد یا محنتانہ کی ادائیگی پر راضی کرلیں گے۔ تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی جس پالیسی کا اعلان کیا ہے ، اس کی روشنی میں شاہ محمود قریشی کی کوششیں باروآور ہونا معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ یا پاکستان کو اپنی بیان کردہ پالیسی میں امریکہ کی مرضی کے مطابق ڈرامائی تبدیلی کرنا پڑے گی۔
اس پس منظر میں صدر ٹرمپ سے شاہ محمود قریشی کی ’ملاقات‘ اور بعد میں پاکستانی سرکاری میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے ان کی طرف سے بیان کردہ معلومات اپنی حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی کامیابی کا ایسا ڈھول پیٹنے کے مترادف ہے جس کی آواز اپنے کانوں تک پہنچنے سے بھی قاصر رہتی ہے۔ پاکستانی لیڈر عام طور سے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرکے پاکستانی عوام پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا بیان بھی اسی قسم کے سیاسی پرو پیگنڈے کا حصہ ہے جس سے ملک کی خارجہ پالیسی کا اسی طرح ٹھٹھا تو ضرور اڑیا جائے گا جس کا سامنا امریکہ جیسے ملک کے صدر کو بھی عالمی نمائیندوں کی طرف سے کرنا پڑا ہے لیکن اس کے مثبت اور ملک کی خارجہ پالیسی پر بامعنی اثرات مرتب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے وزیر خارجہ کو نومبر 2016 اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی انتخابات میں کامیاب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو کا خلاصہ ضرور پڑھ لینا چاہئے تاکہ وہ بھی ویسی ہی خجالت کا سامنا کرنے سے محفوظ رہیں جس کا سامنا اس وقت نواز شریف کی حکومت کو کرنا پڑا تھا۔ نواز حکومت نے وزیر اعظم کے نو منتخب امریکی صدر کو مبارک باد کے ٹیلی فون گفتگو کا ریڈ آؤٹ جاری کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا تھا جو سفارت کاری میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بھی نواز شریف کی ذہانت اور امریکی صدر کو ’مرعوب ‘ کرنے کی صلاحیت کو سامنے لانا تھا۔
اب شاہ محمود قریشی صدر ٹرمپ کو اسی طرح متاثر کرنے کی باتیں کررہے ہیں تو انہیں یا د دلانا ضروری ہے کہ نواز شریف حکومت نے ٹرمپ سے وزیر اعظم کی باتوں پر مشتمل جو خلاصہ جاری کیا تھا وہ کچھ یوں تھا: ’ وزیر اعظم نواز شریف نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی کی مبارک باد دینے کے لئے فون کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس گفتگو میں کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف آپ کی شہرت بہت اچھی ہے۔ آپ لاجواب شخصیت ہیں۔ آپ بہت شاندار کام کررہے ہیں جو ہر طرح سے عیاں ہیں۔ وزیر اعظم صاحب میں جلد ہی آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں آپ سے باتیں کرتے ہوئے یوں محسوس کررہا ہوں جیسے میں آپ کو بہت عرصہ سے جانتا ہوں۔ آپ کے شاندار ملک میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔ پاکستانی دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ اپنے مسائل کے حل کے لئے جو تعاون بھی چاہتے ہیں میں فراہم کرنے کو تیار ہوں۔ یہ میرے لئے اعزاز ہوگا۔ اور میں ذاتی طور پر یہ کردار ادا کروں گا۔ آپ جب چاہیں مجھے فون کرسکتے ہیں۔ 20 جنوری کو عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھانے سے پہلے بھی آپ جب چاہیں مجھ سے بات کرلیں۔‘ اس ریڈ آؤٹ کے مطابق وزیر اعظم کی طرف سے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا وہ اس شاندار ملک کا دورہ شوق سے کریں گے۔ آپ بہترین ملک ، بہترین خطہ اور بہترین لوگ ہیں۔ برائے مہربانی پاکستانی عوام کو بتائیے کہ وہ باکمال لوگ ہیں۔ میں جن پاکستانیوں کو جانتا ہوں وہ سب غیر معمولی لوگ ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نومبر 2016 میں حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے اس غیر معمولی متن کو شائع کرتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ نو منتخب صدر کی ٹرانزیشن ٹیم نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں اخبار نے یاد دلایا تھا کہ 17 جنوری 2012 کو ایک ٹویٹ پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کیا تھا: ’ بات صاف ہے۔ پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔ ہم نے انہیں اربوں ڈالر دئیے ہیں۔ ہمیں کیا ملا؟ ۔۔ دھوکہ اور توہین۔۔ اب سختی کا وقت آگیا ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد سے اس ٹویٹ کے عین مطابق پاکستان کے ساتھ ’دشمنی ‘ نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ بلکہ اس سال جنوری میں بھی اپنے پہلے ٹویٹ کے 6برس بعد انہوں نے دوبارہ اسی مضمون کا ٹویٹ جاری کرکے پاکستان پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ اب شاہ محمود قریشی صدر ٹرمپ سے گفتگو کے دوران جس خیر سگالی کی نوید لے کر آئے ہیں ، اگر وہ زیب داستان اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کا ہتھکنڈہ نہیں ہے تو اس کے بر گ و بار سامنے آتے دیر نہیں لگنی چاہئے۔
پاک امریکہ تعلقات کی سنگینی اور سنجیدگی اور صدر ٹرمپ کے طرز عمل کے علاوہ ان کی گفتگو کے انداز کو پیش نظر رکھتے ہوئے البتہ پاکستان کے وزیر خارجہ کو یہی مشور ہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے حوالے سے مبالغہ آمیز باتیں کرکے خود اپنے لئے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لئے جگ ہنسائی کا موجب نہ بنیں۔ یہ دنیا تو کرہ ارض کے سب سے طاقتور شخص کہلانے والے امریکی صدر کو بھی نہیں بخشتی اور قہقہوں سے اس کی ’احمقانہ‘ تعلی کا جواب دیتی ہے۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker