سید مجاہد علیکالملکھاری

مذہب کے نام پر سیاست اور عالم دین کا قتل۔۔ سید مجاہد علی

جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ایک ایسے وقت میں قتل کیا گیا ہے جب ملک بھر میں ایک عیسائی خاتون کے توہین رسالت کے الزام سے بری کئے جانے پر ہنگامہ آرائی، مظاہروں اور توڑ پھوڑ کے تین روز مکمل ہو چکے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے اور ہنگاموں کا آغاز ہوتے ہی قوم سے خطاب میں مظاہرے کرنے اور فوج اور عدالتوں کے خلاف نعرے لگانے والوں کو متنبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت اس ہنگامہ آرائی سے متاثر نہیں ہوگی۔ اس کے بعد وزیر اطلاعات نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرہ کر نے والے ریاست کی طاقت کو کم نہ سمجھیں اور حکومت کی رٹ چیلنج کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ تین روز سے مظاہرین سے مذاکرات کرکے انہیں احتجاج ختم کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے ان کوششوں کے نتیجہ میں بالآخر دھرنا ختم کرنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ مولانا سمیع الحق بھی ان علمائے دین میں شامل تھے جنہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھاکہ ملک کے عوام اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں، اس لئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا فیصلہ تبدیل کیا جائے۔ تاہم وہ تحریک انصاف کے حلیف ہونے کے طور پر لبیک تحریک کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کررہے تھے ۔ لیکن اس دوران وہ خود ہی اس دہشت اور تشدد کا نشانہ بن گئے جس کو بڑھاوا دینے میں ان کا اپنا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
مولانا سمیع الحق کے نظریات اور سیاسی حکمت عملی سے اختلاف سے قطع نظر اس قتل کو ناجائز، ظلم اور سنگین جرم قرار دینا ضروری ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرہ میں جو جمہوری نظام کا دعویدار بھی ہو اختلاف کو دلیل اور مباحثہ تک محدود رکھنا بنیادی اصول ہوناچاہئے۔ مولانا نے مختلف حیثیتوں میں زندگی بھر خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ ایک سیاسی پارٹی کے صدر تھے ، ملک کے ایک بڑے مدرسے کے مہتمم تھے اور مستند عالم دین مانے جاتے تھے۔ وہ دو مرتبہ سینیٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے اور 83 برس کی عمر تک پہنچنے کے باوجود اب بھی ملکی سیاست میں متحرک تھے۔ لیکن ان کی المناک موت سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ تشدد کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر اختیار کرنے کا سبق دینے سے معاشرے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ مذاکرہ کی بجائے تصادم اور زندگی کے احترام کی بجائے موت کا راستہ معاشرہ میں کی ترقی و خوشحالی کا سبب نہیں بن سکتا۔
معمر مولانا سمیع الحق کو جس شخص نے بھی چاقو کے وار کرکے ہلاک کیا ہے ، اس کی سفاکی و شقاوت اور اس کے پس پردہ عناصر کی سنگدلی اور شدت پسندی سے انکار ممکن نہیں ۔ 83 برس کے بوڑھے شخص کو چاقو کے وار کرکے ہلاک کرنا کسی بھی طرح درست اور قابل قبول فعل نہیں ہوسکتا۔ لیکن ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے موجودہ ماحول میں ایسی حرکتوں کے سوا اور کیا امید کی جاسکتی ہے۔ جب لوگوں کو یہ سبق ازبر کروا دیا جائے کہ توہین رسالت کا الزام لگنے کے بعد جھوٹا الزام لگانے والا گناہ گار اور سزا کا حقدار نہیں ہوتا بلکہ جس بدبخت پر الزام لگ جائے، اسے ہلاک کئے بغیر حرمت رسول کی سربلندی کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا توخوں ریزی اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کا راستہ ہی ہموار ہوگا۔ بدنصیبی سے مولانا سمیع الحق اپنے ان ہی خیالات کی وجہ ساری زندگی متنازعہ رہے ۔ انہوں نے طالبان کی دہشت گردی اور شدت پسندی کی حمایت کرنے میں نام کمایا۔ لیکن بالآخر اسی مزاج کی وجہ سے ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ،جسے پیدا کرتے ہوئے انہوں نے کبھی یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اسلام یا مسلمانوں کو خوں ریزی اور ہلاکت کے راستے پر لگا کر پاکستان کی کئی نسلوں کو صراط مستقیم سے گمراہ کردیا گیا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ مولانا سمیع الحق کے اچانک اور وحشیانہ قتل کے ملک کی موجودہ ہنگامہ خیز صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کے نتیجے میں تشدد پر آمادہ گروہ انتقام اور خوں ریزی کا راستہ چنیں گے یا مولانا سمیع الحق کے خیالات سے گل چینی کرنے والے اور ان کے سیاسی سفر کا ساتھ دینے والے بالآخر اس بات کا احساس کریں گے کہ اب اس ملک کی بھلائی امن قائم کرنے اور ایک دوسرے سے اختلاف کو دلیل اور مباحثہ کی بنیاد پر حل کرتے ہوئے آگے بڑھنے میں ہی ہے۔ یہ قتل ایک نازک وقت میں ملک کے لئے ایک نئے بحران کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ سڑکوں پر نکلنے والے اور آسیہ کیس میں دھمکیاں دینے کے علاوہ ججوں کے قتل اور فوج کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی باتیں کرنے والا گروہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہے جبکہ مولانا کا مسلک دیوبندی تھا۔ بریلوی مکتب فکر کے پیدا کردہ بحران کے بیچ مولانا سمیع الحق کا قتل خطرے کی علامت بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے ان دونوں فرقوں کے درمیان مخاصمت اور دوری میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس لئے مولانا کے قتل سے چند گھنٹے کے بعد ہی لبیک تحریک نے مظاہرے اور دھرنے ختم کرنے کے لئے حکومت سے معاہدہ کرکے شاید اس تصادم سے بچنے کی کوشش کی ہو جو مولانا سمیع الحق جیسے قد آور طالبان دوست لیڈر کی اچانک اور پراسرار موت کی وجہ سے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ تاہم اب بھی فرقہ پرستی کے شکار معاشرہ میں یہ قتل تفرقہ پیدا کرنے اور تشدد کے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔
تھوڑی دیر پہلے حکومت نے دھرنا اور احتجاج ختم کروانے کے لئے لبیک تحریک کے قائدین سے 5 نکاتی معاہدہ کیا ہے۔ ان نکات میں دھرنا اور احتجاج ختم کروانے کے لئے حکومت نے آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی قانونی کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ روز ہی اس قسم کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کی حکومت آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا اقدام نہیں کرے گی۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میں اگر حکومت اس اعلان سے مکرتی ہے اور آسیہ بی بی کے ملک سے باہرسفر کرنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اسے حکومت کی پسپائی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جائے گا۔ معاہدہ کے مطابق حکومت سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل پر معترض نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تحریک میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ معاہدہ میں ان لوگوں کو ’شہید‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس ہنگامہ آرائی اور مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار ہونے والوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی تسلیم گیا ہے۔ معاہدہ کے آخری نکتہ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ’اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے‘۔ وفاقی وزیر مذہبی امور اور پنجاب کے وزیر قانون کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر سے متصادم ہے جس میں قانون شکنی کرنے اور ریاست کو للکارنے والوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
معاہدہ میں لبیک تحریک کے سرپرست پیر افضل قادری اور مرکزی ناظم محمد وحید نور نے بظاہر حکومت کی اشک شوئی کے لئے لوگوں کی دل آزاری یا تکلیف پر معافی مانگی ہے۔ لیکن پیر افضل قادری خود سپریم کورٹ کے ججوں اور فوج کے بارے میں جو زبان استعمال کرتے رہے ہیں وہ آئینی شقات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تحریک لبیک کے لیڈروں نے اس موقع پر بھی اور اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ کے ججوں اور پاک فوج کی قیادت کے بارے میں سخت اور ہتک سے بھرپور الفاظ استعمال کئے اور دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں خود بتایا تھا کہ مظاہرین چیف جسٹس کے قتل کا فتوی دے رہے ہیں۔ ملک کے منصف اعلیٰ کے خلاف اس قسم کی مجرمانہ زبان درازی کرنے والے گروہ کے لیڈروں کی باز پرس کرنے کی بجائے، ان سے باقاعدہ معاہدہ کرکے دھرنا ختم کروانے کا اہتمام کروانا تحریک انصاف کی نوعمر حکومت کے لئے سیاسی طور سے مشکلات کا سبب بنے گا۔
اس سے پہلے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے فوج کے خلاف بد زبانی پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کا اس معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے تاہم فوج آئین شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ ملک کا آئین فوج کی عزت و وقار کا تحفظ کرتا ہے۔ تاہم میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس معاملہ کو پر امن طریقے سے حل کر لیا جائے تو سب کے لئے مناسب ہوگا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا یہ انٹرویو بھی کئی لحاظ سے چشم کشا تھا۔ ایک تو یہ کہ اگر امن و امان کی بحالی سول حکومت کی ذمہ داری ہے اور فوج ریاست کے ایک ادارہ کے طور پر بر وقت ضرورت امداد کےلئے طلب کی جاسکتی ہے تو ہنگامہ آرائی کے سنسنی خیز ماحول میں فوج کے ترجمان کو رائے دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر فوج یہ سمجھتی ہے کہ لبیک تحریک کے لیڈروں نے فوجی قیادت کے خلاف بدزبانی کے ذریعے آئین شکنی کی ہے تو اس کی چارہ جوئی کے لئے صرف افسوس کا اظہار یا حکومت کے ساتھ مل کر انتظامی کارروائی کرنا ہی کیوں واحد حل سمجھا جارہا ہے۔ فوج اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت صدیقی کی آئی ایس آئی پر الزام تراشی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہے۔ اب بھی اس کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ملک کی کسی عدالت میں اپنے کمانڈروں کے خلاف کسی فرد یا جماعت کے لیڈروں کی بدکلامی کے خلاف درخواست دائر کرے تاکہ ملک کی عدالتیں قانونی چارہ جوئی کرسکیں۔ فوج اگر اس راستہ کو نظر انداز کرنے پر اصرار کرتی ہے تو اس سے صرف یہ تاثر قوی ہوگا کہ فوج بھی ملک کے انتہا پسند عناصر کو چیلنج کرنے اور ان کی شدت پسندی کا قلع قمع کرنے کے لئے آخری حد تک جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔
اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس توہین عدالت کے سوال پر اس قدر حساس رہے ہیں کہ وہ بعض لوگوں کی طرف سے معافی مانگنے کے باوجود توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ چلانے پر اصرار کرتے رہے ہیں۔ دیگر لوگوں کے علاوہ وہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے خلاف توہین عدالت کے علاوہ آئین کی شق 62 (1)ایف کے تحت کارروائی کرنے کا انتباہ بھی دے چکے ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ لبیک تحریک کے لیڈروں کی دھمکیوں اور ہتک آمیز بیانات پر چیف جسٹس آسیہ کیس میں فیصلہ کی ’وکالت‘ کرنے کے علاوہ کوئی اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔
لبیک تحریک کے ساتھ معاہدہ میں حکومت کی پسپائی کے علاوہ فوج اور سپریم کورٹ کی مصلحت کوشی سے ملک کے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ممکن نہیں ہے۔ ایک سال کے اندر ملک کی دوسری حکومت کے ساتھ غیر قانونی اور ناجائز دھرنا ختم کرنے کا معاہدہ کرکے لبیک تحریک نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی حکومت اور ریاستی ادارے کو جھکانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورت میں ریاست کی رٹ، حکومت کا اختیار، اور اداروں کا وقار بے معنی الفاظ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker