سید مجاہد علیکالملکھاری

ریاست ناکام کیوں ہے؟۔۔سید مجاہد علی

وزیر اعظم عمران خان نے تھوڑی دیر پہلے دورہ چین کے دوران بیجنگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک سے غربت اور کرپشن کے خاتمہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کوئی ملک ان دو علتوں کو ختم کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ‘ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن بدعنوان قیادت نے ملک کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے‘ اس بیان کی سیاسی ضرورت سے قطع نظر حال ہی میں ان کی حکومت نے جس طرح تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں، اس کی روشنی میں پوچھا جاسکتا ہے کہ جب حکومت ریاست کا اختیار ہارنے پر تیار ہوجاتی ہے تو وہ کس اتھارٹی کے تحت ان بلند بانگ سیاسی وعدوں پر عمل کرے گی جس کا اعلان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے عام طور سے کیا جاتا رہا ہے۔ اور اب وزیر اعظم نے چین کے دارالحکومت میں اسی منشور کا اعادہ کیا ہے۔
حکومت جب بلوائیوں اور ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے چند ہزار مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرنے اور ایک ایسا معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوجائے جسے ملک کے معتبر انگریزی اخبار ڈان نے بھی ’حکومت کی شکست‘ قرار دیا ہے تو وہ کس طرح اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بہتر مقاصد کے لئے صرف کرنے کا مقصد پورا کرے گی۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت کی ناکامی اور ریاست کی کمزوری کے آئینہ دار تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو واحد پر امن راستہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حکومت کی شکست نہیں ہے۔
فواد چوہدری اس تواتر سے غلط بیانی کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود جب وہ اس معاہدہ کو ’فائر فائیٹنگ ’ قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت اس مسئلہ کا حتمی حل تلاش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس برائی اور کمی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
آسیہ بی بی کیس میں لبیک تحریک کی قیادت کے ساتھ معاہدہ نما شکست کے بعد حکومتی ترجمان کا یہ بے بنیاد بیان دراصل خفت کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ حقیقت حال تو یہی ہے کہ حکومت نے نہ صرف قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور منت سماجت کرکے انہیں مظاہرہ اور دھرنا ختم کرنے پر راضی کیا۔ بلکہ اس نام نہاد معاہدہ کے تحت ایسے امور پر وعدہ کرنے کا حوصلہ بھی کیا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
یعنی آسیہ کیس میں نظر ثانی کی اپیل میں رکاوٹ نہ ڈالنا۔ یہ اپیل پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے اور حکومت تو پہلے بھی اس معاملہ میں استغاثہ کے طور پر موجود رہی ہے۔ اسی طرح آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں ڈالنے کا وعدہ بھی شاید حکومت کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے ایک سنگین الزام سے آسیہ بی بی کو بری کیا ہے۔ نظر ثانی اپیل کی روشنی میں سپریم کورٹ ہی یہ طے کرسکتی ہے کہ اس دوران آسیہ کا ملک میں رہنا ضروری ہے یا وہ بیرون ملک سفر کرسکتی ہے۔
آسیہ کے شوہر عاشق مسیح پہلے ہی اپنے خاندان کی زندگی کو لاحق خطرہ کی بنیاد پر مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ میں آسیہ کا دفاع کرنے والے وکیل سیف الملوک بھی گزشتہ روز اپنے اہل خاندان کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ روانگی سے پہلے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ نہ ان کے لئے بطور وکیل کام کرنا ممکن رہا ہے اور نہ ہی ان کی اور ان کے اہل خاندان کی زندگیاں محفوظ ہیں۔ اس صورت میں ان کے لئے ملک سے باہر جانا ہی واحد آپشن ہے۔ ایڈووکیٹ سیف الملوک نے یہ بھی کہا کہ وہ نظر ثانی اپیل میں آسیہ بی بی کی پیروی کرنے کے لئے ’زندہ‘ رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسی صورت سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے لئے پاکستان آئیں گے اگر فوج ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری قبول کرے گی۔
ماضی میں بھی توہین رسالت کے مقدمات میں بری ہونے والے اکثر لوگوں کو اپنی سلامتی کے لئے ملک سے باہر جانا پڑا تھا۔ بلکہ بعض صورتوں میں فیصلہ کرنے والے زیریں عدالتوں کے ججوں کو یا تو قتل کیا گیا یا انہیں ملک سے باہر پناہ لینا پڑی۔ ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دینے والے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج بھی فیصلہ کا اعلان کرنے کے فوری بعد سعودی عرب روانہ ہو گئے تھے۔ کوئی حکومت اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا اقدام نہیں کرسکی۔
اس طویل مقدمہ میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کے بارے میں بھی کوئی واضح اطلاعات موجود نہیں ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تو دعویٰ کیا ہے کہ ’آسیہ بی بی کو ہرممکن سیکورٹی فراہم کی جائے گی‘ لیکن کوئی حکومتی عہدیدار یا اہلکار یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران سپریم کورٹ کے واضح حکم کے بعد کیا انہیں رہا کیا گیا ہے یا کسی نہ کسی عذر پر وہ ابھی تک جیل میں ہی بند ہیں۔ سوشل میڈیا پر آسیہ کے بیرون ملک روانہ ہونے کے بارے میں افواہیں گردش کررہی ہیں تاہم اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات موجود نہیں۔ وزیر اطلاعات کو اس بارے میں حکومت کی پوزیشن واضح کرنے کے علاوہ بتانا چاہیے تھا کہ آسیہ بی بی کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اگر حکومت انہیں سیکورٹی کے نام ہر کسی خفیہ مقام پر ’محبوس‘ رکھنے پر مجبور ہے تو یہ بھی ریاستی اختیار اور اتھارٹی کی ناکامی ہے۔
گزشتہ بدھ کو آسیہ بی بی کو بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد فوری طور سے توڑ پھوڑ اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسند گروہوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ مظاہرین ریاست کے اختیار کو چیلنج کرنے کی کوشش نہ کریں ورنہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ عمران خان کے اس بیان کی ہر طرف سے تحسین کی گئی تھی کہ بالآخر ایک وزیر اعظم نے انتہا پسندوں کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرکے مذہب کے نام پر معاشرہ کو جزو معطل بنانے والے عناصر سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔
لیکن اس اعلان کے تیسرے روز تحریک انصاف کے ایک وفاقی اور ایک صوبائی وزیر کے دستخطوں کے ساتھ ہونے والے نام نہاد معاہدہ کے پانچ نکات میں وزیر اعظم کے اس حوصلہ و عزم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اب ملک میں بڑے بڑے اقدامات کرنے کا اعلان کرنے والے عمران خان کو پہلے یہ جواب دینا ہے کہ جو حکومت چند ہزار مظاہرین اور بدزبانی کرنے والے مٹھی بھر ملاؤں سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں رکھتی، وہ کوئی بڑا اقدام کرنے کا اختیار کیسے استعمال کرسکے گی۔ کوئی نہ کوئی مجبوری اسے اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کردے گی۔ تحریک لبیک کے معاملہ پر حکومت کی پسپائی پر شرمندگی اور لاتعلقی کا اعلانکیے بغیر عمران خان کی کسی بات کا یقین کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ، تحریک لبیک کے احتجاج، عمران خان کے خطاب اور حکومت کے معاہدہ سے وجود میں آنے والے مربع میں دراصل مملکت پاکستان کے ریاستی اختیار کی حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ سوچنا چاہیے کہ پاکستان کو اس حالت تک پہنچانے والے کون سے عوامل ہیں۔ جمعہ کے روز وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری اور تحریک لبیک کے سرپرست پیر افضل قادری کے درمیان ہونے والا معاہدہ دراصل یہ اعلان کررہا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور ان مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہے جو آئین پاکستان کے تحت مقررکیے گئے ہیں اور جن کے لئے مختلف اداروں کو اختیارات اور حقوق تفویضکیے گئے ہیں۔
دیکھنا چاہیے کہ اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں۔ اس معاملہ کو تحریک انصاف یا عمران خان کی ناکامی قرار دے کر آگے بڑھنے سے مسئلہ حل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے تمام اسٹیک ہولڈرز یعنی ریاست کے چار ستونوں پارلیمنٹ، حکومت، عدالت اور میڈیا کے کردار کا جائزہ لینا اور ان کی ناکامی کا احاطہ کرنا اہم ہے۔ ملک میں جمہوریت کا چرچا ہونے کے باوجود عملی طور سے پارلیمنٹ جزو معطل بن چکی ہے۔ کوئی اہم فیصلہ نہ پارلیمنٹ کی مرضی سے ہوتا ہے اور نہ ہی اس فورم کو قومی پالیسی تشکیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بجائے فوج ملکی نظام میں چوتھے اور سب سے اہم ستون کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس لئے موجودہ صورت حال میں بات کرتے ہوئے حکومت، عدالت اور میڈیا کے ساتھ چوتھے ستون کے طور پر فوج کا ذکر ہی فطری اور ضروری ہوگا۔
تحریک لبیک کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی احتجاج کے حوالے سے حکومت کا کردار تو سب پر واضح ہے۔ ملک کی سپریم کورٹ نے آسیہ کیس میں ضرور حوصلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جس طرح اپنے فیصلہ پر معذرت خواہانہ انداز میں وضاحتی ’بیان‘ دینا ضروری سمجھا ہے، وہ اس ادارے کی کم ہمتی اور غیر فعال ہونے کی دلالت کرتا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس کسی ہائی پروفائل کیس میں فیصلہ کی وضاحت کرنے والے شاید دنیا کے پہلے اور واحد چیف جسٹس ہوں گے جنہیں کسی دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ کہنا پڑا کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند تھے۔
کیا یہ بات اظہر من الشمس نہیں ہونی چاہیے کہ عدالتیں شہادتوں و شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ بعد از فیصلہ ایک دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ وضاحت دینے پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام گنیز بک آف ریکارڈز میں تو شامل ہو سکتا ہے لیکن اس سے سپریم کورٹ کے اختیار، احترام اور وقار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح چیف جسٹس نے لبیک تحریک کے افضل قادری اور خادم رضوی کی بدکلامی، دھمکیوں اور باغیانہ بیانات کو تواتر سے نظر انداز کرکے دراصل یہی واضح کیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی ان فسادی اور شر پسند عناصر سے خوف زدہ ہے۔
گزشتہ نومبر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کے دوران فوج کے کردار سے شبہات پیدا ہوئے تھے۔ موجودہ دھرنا ختم ہونے سے پہلے بھی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مظاہرین کے بارے میں مفاہمانہ اور دھیما لب و لہجہ اختیار کیا تھا۔ یہ کہنا گمراہ کن ہوگا کہ فوج دو تین ہزار مظاہرین سے خوف زدہ ہوگئی لیکن احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ فوج نے اس سلسلہ میں مناسب کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔
ملک کے مذہبی گروہوں سے عسکری اداروں کی راہ و رسم کی تاریخ کی روشنی میں ایک نئے مذہبی گروہ کی حوصلہ افزائی سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اب نئے حالات میں کسی خاص مقصد سے تحریک لبیک کو بھی ایک نئے ’اثاثہ‘ کے طور پر بچا کر رکھا جارہا ہے تاکہ بروقت ضرورت کام آسکے۔ اثاثوں کے بارے میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس قسم کا کوئی فیصلہ مہلک اور قومی سلامتی کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہوگا۔
ریاست کے غیرسرکاری چوتھے ستون میڈیا کو خود ریاستی اداروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران محدود اور مجبور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔ اس وقت دیانت دارانہ رائے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ میڈیا میں ایسے عناصر نے قوت پکڑی ہے جو مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس رویہ کو ریاست کے موجودہ قومی مفاد کے تصور سے متصادم نہیں سمجھا جاتا۔ اسی لئے اس طرز عمل کی روک ٹوک نہیں کی جاتی۔
اس طرح میڈیا متوازن رائے بنانے کے کردار سے محروم ہوتا جارہا ہے بلکہ معاشرہ میں شدت پسندانہ مزاج کے فروغ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ میڈیا کا کوئی ایسا خود مختار ادارہ موجود نہیں ہے جو اس صورت حال کا جائزہ لے کر اسے تبدیل کرنے کے لئے کردار ادا کرسکے۔ میڈیا مالکان سیلف سنسر شپ اور سرکار کو راضی کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ عامل صحافی بے بس مالکان اور خود سر انتہا پسندوں کے نرغے میں اپنی جان اور روزگار بچانے کی جد و جہد کر رہا ہے۔
ریاست کی ناکامی کے مظاہر بالکل واضح ہیں۔ انہیں سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یا عدالت افضل قادری اور خادم رضوی کے آئین شکنی اور بغاوت کا پرچار کرنے والے بیانات پر کارروائی کرتے ہوئے، انہیں کٹہرے تک لانے کا حوصلہ نہیں کرتی تو یہ نظام چند ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہی رہے گا۔ لبیک تحریک کو جولائی میں ہونے والے انتخاب میں 22 لاکھ ووٹ ملے تھے لیکن وہ 22 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرکے ریاستی اختیار اور حکومتی استحقاق کے لئے خطرہ بنے ہوئی ہے۔ عوام کی حمایت سے اقتدار سنبھالنے والی پارٹی کو اس صورت حال کو تبدیل کرنا ہے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker