سید مجاہد علیکالملکھاری

پاناما کیس اور گوئبلز کے فلسفے پر کھڑا نیا پاکستان۔۔سید مجاہد علی

وزیراعظم عمران خان کا کمال یہ ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکتے۔ جو دل میں آتا ہے سیاسی عواقب کی پرواہ کیے بغیر منہ پر دے مارتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے آج آبادی پر قابوپانے کے لئے منعقد ہونے والے سمپوزیم میں چیف جسٹس کو سامنے بٹھا کر بتا دیا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ہی دراصل ’نئے پاکستان‘ کی بنیاد رکھی ہے۔ اس تقریر میں ملک کے وزیر اعظم نے آبادی پر کنٹرول کے لئے حکومتی پالیسی کے سوا ہر موضوع پر بات کی۔
یونان سے لے کر رومن دور تک کی تاریخ بیان کی اور پاکستان کی تاریخ میں کیڑے نکالتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کے آمر جمہوریت پسند ہونے کا ڈھونگ کرتے رہے ہیں جبکہ جمہوری لیڈروں نے آمر بننے کی کوشش کی۔ اسی لئے وہ اب مدینہ کی ریاست قائم کرنے کا نسخہ سامنے لا رہے ہیں تاکہ اس دور کی طرح خلیفہ قاضی کی عدالت میں پیش ہو اور انصاف کو قبول کرے۔ خلیفہ کا منصب قائم ہونے تک البتہ قاضی اپنی باری آنے کا انتظار کریں۔
باتوں اور دعوؤں سے اگر کسی ملک کا نظام ٹھیک ہوسکتا ہو تو پاکستان اس معاملے میں عمران خان سے پہلے بھی خود کفیل تھا لیکن ان کے سیاست میں آنے اور حکومت میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد خود ستائی کے علاوہ دوسروں کے ہر کام میں کیڑے نکال کر عمران خان اور ان کے تربیت یافتہ ہرکارے پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانے میں تقریباً کامیاب ہوچکے ہیں جب نہ صرف بیرون ملک کام کرنے والے ستر اسّی لاکھ پاکستانی وطن واپس آکر خوشحال اور کامیاب زندگی گزاریں گے بلکہ اتنی ہی تعداد میں دوسرے ملکوں کے مجبور اور ضرورت مند لوگ بھی پاکستان آکر یہاں کی معاشی ترقی یعنی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے دنیا بھر کے پاکستانی سفارت خانوں کے باہر قطاریں لگائے کھڑے ہوں گے۔
تاہم فی الوقت یہ ’سچائیاں‘ چونکہ جھوٹے سچے خواب ہی کی حیثیت رکھتی ہیں اس لئے عمران خان بھی مدینہ ریاست کے ماڈل پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈالر اینٹھنے کا کوئی نہ کوئی حیلہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ڈیم بنانے کے نام پر ان کی حب الوطنی کو للکارا جاتا ہے اور کبھی ترسیلات میں سہولتیں دینے کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو یہ خواب دکھایا جاتا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم 20 ارب ڈالر سالانہ سے بڑھ کر 30 ارب ڈالر ہوجائیں گی۔ اس طرح قومی معیشت کو ہر سال دس ارب ڈالر کے جس خسارہ کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے جھولی پھیلانا پڑتی ہے، اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ملک اپنے اخراجات میں خود کفیل ہو گا۔
یہ دعوے بھی دراصل عمران خان کی صاف گوئی کا شاہکار ہی ہیں کیوں کہ وہ پہلے دن سے یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت دوست ملکوں یا آئی ایم ایف سے قرضوں کی تگ و دو تو سابقہ حکومتوں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے کرتی رہی ہے۔ یہ حکومت تو بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں اضافہ کرکے قومی معاشی مسائل کو حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی کمی بیشی رہ گئی تو وہ موجودہ حکومت کے دور میں منی لانڈرنگ کو روک کر پوری کرلی جائے گی۔
کیوں کہ یہ بھی ہمارے وزیراعظم کی سیاسی ڈاکٹرائن ہے کہ منی لانڈرنگ دراصل بدعنوان سیاست دانوں کی طرف سے اپنی ناجائز دولت بیرون ملک بھجوانے کے نتیجے میں معرض وجود میں آتی رہی ہے۔ اب جبکہ ملک کو ایک پارسا وزیر اعظم اور نہایت نیکو کار کابینہ میسر آچکی ہے تو منی لانڈرنگ کا ازخود خاتمہ ہوجائے گا۔ بس قباحت یہ ہے کہ عالمی ادارے اور امریکی صدر ہمارے وزیر اعظم کے عزم اور دیانت کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کی بجائے اسے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا انتظار کر رہا ہے۔ اور آئی ایم ایف قلیل المدت قرضہ دینے کے لئے بھی نت نئی شرائط منوانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسد عمر اسٹیٹ بنک کے ساتھ مل کر ان شرائط کو پورا کرنے کی جد و جہد میں لگے ہیں تاکہ ان کی وزارت بھی بچی رہے اور پارٹی میں عقاب کی نگاہیں رکھنے والے سیاسی مخالفین کے ہاتھوں عزت بھی محفوظ رہے۔
عمران خان کے اقتصادی پروگرام میں قومی پیداوار میں اضافہ کرنے کا کوئی منصوبہ شامل نہیں ہے بلکہ یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ ایماندار وزیراعظم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مملکت کے معاملات ازخود طے ہونا شروع ہوجائیں گے۔ ترسیلات میں اضافہ ہوجائے گا اور منی لانڈرنگ رکنے سے قومی وسائل ملک کے اندر ہی موجود رہیں گے جو اس حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی تکمیل میں کام آسکیں گے۔ اس نعرے بازی میں البتہ یہ سمجھنے کا وقت نکالنا مشکل دکھائی دیتا ہے کہ قومی پیداوار میں اضافہ کیے بغیر وہ وسائل کہاں سے دستیاب ہوں گے جنہیں منی لانڈرنگ سے محفوظ رکھ کر دیانت دار وزیر اعظم غریبوں کے مکان بنانے اور روزگار دینے میں صرف کریں گے۔
سچ بولنے کی لگن میں وزیر اعظم یہ سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے کہ ان کے اقوال حقیقت کا روپ کیسے دھاریں گے۔ مثلاً جب ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول ہی نہیں ہوگا، تجارتی شعبہ زوال پذیر ہوگا، مارکیٹ کا اعتماد دگرگوں رہے گا تو ان ایک کروڑ لوگوں کے لئے روزگار کہاں اور کیسے فراہم کیا جائے گا جو عمران خان کے وعدے کے انتظار میں ’اپائنٹمنٹ لیٹر‘ کا انتظار کررہے ہیں۔ یا وہ انسانی وسائل کے ارتقا کے لئے سرمایہ کاری کا جو خواب دکھاتے ہیں خواہ وہ تعلیم کے شعبہ میں ہو، صحت کی سہولتوں کے لئے ہو یا تحقیق و جستجو کے میدان میں امکانات تلاش کرنے کا کام ہو، اس کے لئے مالی وسائل کہاں سے فراہم کیے جائیں گے۔
اسی راست گوئی کا مظاہرہ وزیراعظم نے دو روز قبل میڈیا کے نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے بھی کیا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے بعض ریمارکس پر افسوس ہے کیوں کہ میرا دامن تو صاف ہے اور میں نے کبھی ’اقربا پروری‘ نہیں کی۔ میرے ایک دوست کی تقرری پر چیف جسٹس کو ایسے ریمارکس نہیں دینے چاہئیں تھے۔ چیف جسٹس جو آج بڑے رسان سے آبادی کنٹرول سمپوپزم میں وزیر اعظم کے ارشادات سن رہے تھے، چند گھنٹے پہلے کمرہ عدات میں وزیر اعظم کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے زلفی بخاری کی تقرری کو اقربا پروری کا شاہکار قرار دینے پر اصرار کر رہے تھے۔
یوں تو وزیر اعظم بھی خلفائے راشدین کے ماڈل کا ذکرکرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح خلفائے راشدین میں سے دو کو قاضی کے سامنے پیش ہونا پڑا تھا لیکن وہ خود کسی عدالت اور قاضی کو نہیں مانتے۔ وزیر اعظم کا استثنیٰ ملنے سے پہلے 2014 کے دھرنا کے موقع پر پی ٹی وی حملہ کیس میں انہوں نے کسی عدالت کو خاطر میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب بھی وہ خود کو ہر اس عدالت سے بالا سمجھتے ہیں جو ان کے نئے پاکستان کے منشور کی توثیق کرنے پر تیار نہ ہو۔
بنی گالہ کی رہائش گاہ کی باقاعدہ منظوری کا معاملہ بھی ان چند انتظامی یا عدالتی معاملات میں سے ایک ہے، جو اس نئے پاکستانی انصاف کا شاہکار ہے۔ وزیر اعظم مدینہ ریاست بنانے کا عزم تو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس کے اصول انصاف پر عمل کے لئے شاید اس وقت کا انتظارکررہے ہیں جب یہ ریاست قائم ہوجائے گی۔ اس وقت تک وہ دوستوں کو نوازنے یا ناجائز گھر میں رہنے کو درست سمجھتے رہیں گے کیوں کہ یہ فیصلے تو بدعنوان سیاست دانوں کے بنائے ہوئے قوانین و قواعد کے تحت ہورہے ہیں۔ ان کے اچھے برے ہونے سے عمران خان کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔
میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح وزیر اعظم نے صاف گوئی سے بتا دیا تھا کہ فوج تحریک انصاف کے منشور کے مطابق چل رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے آج کے سمپوزیم میں چیف جسٹس کو صاف بتا دیا کہ ڈیم بنانا یا آبادی کنٹرول کرنا اگرچہ حکومتوں کا کام تھا۔ ماضی کی حکومتوں نے اسے نہیں کیا تو اچھا ہے کہ چیف جسٹس نے کام اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ اس صاف گو وزیر اعظم کو البتہ یہ جواب دینے کی ضرورت ہرگز نہیں کہ حکومت کے کرنے کے کام اگر سابقہ حکومتیں نہیں کرسکیں تو موجودہ حکومت ہی ان کو نمٹانے کا قصد کر لے۔
لیکن عمران خان کے پاس کہنے کو اتنا بہت کچھ ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو مصروف دیکھ کر ہی مطمئن ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ فوج کو تحریک انصاف کا منشور ازبر کروا کے اب عمران خان نے سارا کام ان اداروں کے سپرد کر دیا ہے تاکہ وہ خود اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرنے میں تساہل کا شکار نہ ہو جائیں۔
صاف گو وزیر اعظم کی غلطیوں کی نشاندہی ہو تو ان کے حامی بڑے یقین سے یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان کی غلطیوں کی پرواہ نہ کریں بلکہ ’ان کی دیانت داری اور پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی تڑپ‘ کو دیکھیں۔ اگر زبانی جمع خرچ والی دیانت داری اور حب الوطنی کا سوال ہے تو ملک کے دیہات کی ہر چوپال اور گلی محلے کی ہر دکان کے تھڑے پر بیٹھے ہوئے کروڑ ہا لوگ اس قسم کی دیانتداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ لوگ پھر بھی کسی لیڈر کو ووٹ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی فہم اور کوشش سے ملک کے حالات کودرست کرسکے۔ اگر ووٹ لینے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ایمانداری کا معجون ہی فروخت کرنا ہے تو یہ بھی بتا دیاجائے کہ ملک کے مسائل کون حل کرے گا۔ نعرے لگانے کا کام تو آپ دھرنا کے کنٹینر پر چڑھ کر بھی بخوبی سرانجام دے رہے تھے۔
ملک میں بدعنوانی کو اس قدر رگیدا گیا ہے کہ ایمانداری بھی ایک بے معنی استعارہ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کو اپنے وسائل سے زیادہ اثاثے رکھنے کے ’جرم‘ میں سزا دی گئی ہے۔ حالانکہ نہ ان سے وسائل دستیاب ہوئے ہیں اور نہ ان پر اثاثے رکھنے کا الزام ثابت ہو سکا ہے۔ کچھ ایسے ہی الزامات میں اب شہباز شریف کو کئی ہفتوں سے نیب نے قید کررکھا ہے۔ ان ’بے ایمانوں‘ کے مقابلے میں عمران خان دیانت دار ہیں۔
کیوں کہ سپریم کورٹ نے جن دو سیاستدانوں کو ’صادق و امین‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے ان میں شیخ رشید اور عمران خان ہی شامل ہیں۔ دیانتداری ایک نعرہ اور ’پیا من بھائے‘ کا استعارہ بن چکی ہے۔ اسی لئے عمران خان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی معقول آمدنی کے بغیر وہ کیوں کر ایک شاندار گھر میں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ نہ ہی انہیں خود یہ توفیق ہوگی کہ اپنے گھر کے ماہانہ اخراجات مع پانی و بجلی کے بل کے عوام کے سامنے پیش کرسکیں۔ اور بتائیں کہ ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع کیا ہیں۔
نازی دور کے چانسلر جوزف گوئیبلز سے منسوب یہ بیان آج بھی تیر بہدف ہے کہ جھوٹ اس تسلسل سے بولا جائے کہ وہ بالآخر سچ لگنے لگے۔ دور حاضر میں دیانتداری کی بحث پر بھی اس مقولہ کو منطبق کیا جاسکتا ہے۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker