تجزیےسید مجاہد علیکھیللکھاری

کرکٹ کھیل ہے ، اسے کھیل ہی رہنے دیں ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان میں اس وقت کسی محفل میں کوئی گفتگو چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی جیت کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ گرمی، لوڈ شیڈنگ اور اقتصادی مسائل کا شکار پاکستانی قوم کےلئے یہ ایک اچانک اور عظیم خوشی تھی۔ پاکستان ٹیم نے بھارتی ٹیم کو ہر شعبہ میں محدود کرکے زبردست شکست دی ہے۔ اس کامیابی پر خوشی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ کامیابی بھارت جیسے ملک اور اس کی بھاری بھر کم ٹیم کے خلاف حاصل کی گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف سرحدوں پر تصادم کی کیفیت ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے بارہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت میں نریندر مودی کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھ کر اور اس طرح پاکستان کو اس خطے میں مسائل کی جڑ قرار دے کر عالمی سطح پر اپنے نئے اور طاقتور دوستوں کے ذریعے پاکستان کو عاجز کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اسی مقصد سے ایک طرف افغانستان کو پاکستان کے خلاف اکسایا جاتا ہے تو دوسری طرف جس ملک کو پاکستان سے اختلاف ہو، بھارت بڑھ کر اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ کو اگر پاکستان سے کچھ شکایتیں ہوں تو بھارتی سفارت کار بڑھ چڑھ کر انہیں بتائیں گے کہ کس طرح پاکستان جو کہتا ہے، وہ کرتا نہیں ہے۔ ایران کو پاک سعودی تعلقات کی وجہ سے پریشانی ہو تو بھارت اسے اپنا تعاون پیش کرے گا۔ اور اگر سعودی عرب یمن جنگ میں عدم تعاون کی وجہ سے کبیدہ خاطر ہو تو بھی بھارت صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
بھارتی حکومت کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے مقابلے بند ہیں۔ نریندر مودی حکومت نے کھیل کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی افسوسناک حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں میں رہنے والے لوگ کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچ کو نہایت دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مقابلہ دیکھنے کےلئے گلیاں ویران اور بازار بند ہو جاتے ہیں۔ بھارتی پالیسی کی وجہ سے چونکہ دونوں ملکوں کی ٹیموں کو صرف عالمی مقابلوں میں ہی ایک دوسرے کا سامنا کرنے کا موقع ملتا ہے، اس لئے ان میں لوگوں کی دلچسپی بھی اسی قدر بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ روز لندن کے اوول گراؤنڈ میں چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں بھی یہی صورتحال موجود تھی۔ دو ہمسایہ لیکن ایک دوسرے سے شدید نفرت میں مبتلا ممالک کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ بھارت کی ٹیم کو اپنی شاندار بیٹنگ اور ٹورنامنٹ کے دوران شاندار کارکردگی کی وجہ سے اپنی جیت کا پورا یقین تھا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم نے اگرچہ بھارت کے ساتھ ہونے والا ابتدائی میچ ہارنے کے بعد جنوبی افریقہ ، سری لنکا اور برطانیہ کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی لیکن اسے ناقابل اعتبار اور کمزور ٹیم سمجھتے ہوئے اس کی جیت کی پیش گوئی کرنے والے بہت کم لوگ تھے۔ اگرچہ پاکستانی قوم پورے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنی ٹیم کی جیت کی خواہشمند تھی۔ یہ مقابلہ دو برابر کی ٹیموں کے درمیان نہیں سمجھا جا رہا تھا لیکن پاکستان کو دشمن کی ٹیم سے مقابلہ میں فتح حاصل کرکے اپنی قوم کو مسرت و افتخار کا موقع فراہم کرنا تھا۔
یہاں تک تو سب ٹھیک تھا۔ ملک ہوں، یا شہر جب بھی ان کی ٹیمیں دوسرے ملک یا شہر کے مدمقابل ہوتی ہیں تو اسے عزت و وقار کا سوال بنا کر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کےلئے بے بنیاد نعرے بازی اور مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے شائقین کرکٹ نے اسے کھیل کے مقابلہ کی بجائے سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ کے مماثل قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کا آغاز بھارت کے بعض کھلاڑیوں اور اداکاروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ہتک آمیز اور تکبرانہ تبصروں سے ہوا۔ جن میں بھارت کی کامیابی کو یقینی قرار دیا گیا تھا۔ مقابلہ ہونے اور پاکستان کی فتح کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا۔ بھارتی ٹیم اور اس کے شہریوں کے بارے میں نہایت نازیبا اور مخرب اخلاق تبصرے کئے گئے۔ اسی طرح ٹیلی ویژن پر خبریں و تبصرے پیش کرنے والے اینکرز جوش و جذبہ اور خوشی و مسرت میں اپنے پیشہ وارانہ کردار کو بھی فراموش کر بیٹھے۔ بھارت کے اینکرز اور بعض مبصر بھی اسی قسم کا رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے شہریوں اور خاص طور سے ان کے دانشوروں اور مفکرین کےلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کہ کس طرح کھیل کے ایک مقابلے کو گھٹیا فقرے بازی اور نسلی و مذہبی تعصب کے اظہار کا ہتھکنڈہ بنا لیا گیا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے قوموں میں ہم آہنگی اور مل جل کر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ کھیل ہر قسم کی تقسیم اور تعصب کو مسترد کرتا ہے۔ کسی ٹیم میں کسی کو اس کے عقیدہ یا رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں اور میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر کھیل کے ممتاز ترین کھلاڑیوں نے ہمیشہ ہم آہنگی، انسان دوستی اور وسیع المشربی کی حمایت کی ہے۔ کھیلوں کے مقابلوں کو نسل پرستی اور تعصب کے خاتمہ کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے مقابلہ کو نفرت پھیلانے اور تعصبات عام کرنے کےلئے ہی استعمال کرنا ہے تو ایسے مقابلے کروانے یا ان میں شامل ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
کسی مقابلہ میں ہار یا جیت کے بعد زندگی رک نہیں جاتی۔ نہ ہی وہ کسی ٹیم کی دائمی کامیابی یا شکست ہوتی ہے۔ اس کے بعد نئی کامیابیوں اور ناکامیوں کا سفر جاری رہتا ہے۔ مقابلہ میں اتری ہوئی ٹیمیں پورے جوش و خروش سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی ہیں لیکن میچ ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے کےلئے محبت اور احترام کا اظہار کیا جاتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ ہارنے والے جیتنے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور جیتنے والے ہارنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے شاندار مقابلہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہی کھیل کی اسپرٹ ہے۔ اسی سے انسانوں میں نفرتوں کو ختم کرکے باہمی احترام اور یکجہتی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ لیکن میدان سے باہر اگر ان ٹیموں کی حمایت کرنے والے لوگ کھیل کے اس بنیادی مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور جیت یا ناکامی کو عزت و وقار کو سوال بنا کر ایک دوسرے کو لفظوں کے گھاؤ لگانے کا سلسلہ شروع کرنا ضروری ہے تو یہ ایک منفی اور افسوسناک رویہ ہے۔ اور ہر سطح پر اسے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ مخالف ٹیم اور اس کے ملک کے بارے میں کسی ایک کی کامیابی کے بعد نفرت انگیز طریقے سے اپنی کامیابی یا بڑائی کا اظہار کسی بھی قوم کے لئے باعث شرم ہونا چاہئے۔ یہ رویہ تہذیبی افلاس اور اخلاقی اقدار سے تہی دست ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ان کے فروغ پانے سے کامرانی کی بجائے زوال کی طرف سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے لوگوں، ان کے لیڈروں اور مفکرین کو اس پہلو سے کرکٹ کے مقابلے اور اس کے بعد سامنے آنے والے رویوں پر غور کرنے اور انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
مثبت اور قابل قدر رویہ کی ایک شاندار مثال بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے قائم کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی ٹیم کی غلطیوں کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ’’مدمقابل اترنے والی ٹیم کی صلاحیتوں کو ماننا بھی ضروری ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کے ذریعے بھارت کو ہر شعبہ میں شکست دی ہے‘‘۔ اسی رویہ کو اسپورٹس مین شپ بھی کہتے ہیں۔ دو ٹیمیں آمنے سامنے ہوں تو ان میں سے ایک کو ہارنا اور دوسرے کو جیتنا ہوتا ہے۔ ہارنے والے اگر مدمقابل کی خوبیاں تسلیم کرنے سے انکار کریں تو ان کےلئے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آئندہ کامیابی کی طرف قدم بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ویرات کوہلی نے بھی یہی پیغام دیا ہے۔ انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے مقابلوں میں ان کی ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن فائنل میں شکست کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو پاکستانی ٹیم کی بہتر کارکردگی ہی کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ویرات کوہلی نے اس کا برملا اظہار کرکے ایک اچھے کھلاڑی اور بہت بڑا انسان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اور عالمی سطح پر کرکٹ کے کھلاڑیوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے ویرات کوہلی کے اس جذبہ کو سراہا گیا ہے۔ اس رویہ کو مضبوط کرنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کھیل کو لوگوں کو قریب لانے کےلئے استعمال کیا جائے ، اس سے فاصلے پیدا کرنے اور تعصب عام کرنے کا پیغام دینے والے نہ تو کرکٹ یا کھیل کے دوست ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کےلئے کوئی کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں۔ کھیل خوشیاں پھیلانے اور محرومیاں ختم کرنے کےلئے استعمال ہو، تب ہی کامیابی پر خوشی اور ناکامی پر افسوس کا اظہار اچھا لگے گا۔ اگر اسے نفرت اور تعصب کا جواز بنایا جائے گا تو کھیل کی روح مجروح ہوگی۔
اس صورتحال کی کسی حد تک ذمہ داری برصغیر کے سیاستدانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کھیل کو سیاسی داؤ پیچ کےلئے استعمال کرکے دونوں ملکوں میں افسوسناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان سے صرف یہ گزارش ہی کی جا سکتی ہے کہ کرکٹ صرف ایک کھیل ہے۔ اسے کھیل ہی رہنے دیں۔ اسے نفرتیں عام کرنے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔
(بشکریہ:کاروان ۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker