سید مجاہد علیکالملکھاری

مثالی عدلیہ داغدار ماضی اور بدعنوان نظام عدل سے نجات حاصل کرے۔۔سید مجاہد علی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جوڈیشل اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سب کچھ گڑبڑ ہے۔ معیشت، سیاست، پارلیمنٹ یا کھیل کا میدان سب بحران کا شکار ہیں۔ کسی بھی شعبہ پر نگاہ ڈالیں ناکامی و پریشانی کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ ایسے میں عدلیہ ہی ایک ایسا ادارہ ہے جو ’ماڈل عدالتوں‘ کے ذریعے انصاف فراہم کر رہا ہے اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
جسٹس کھوسہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس ہیں اور وہ اس سال کے آخر تک اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہیں گے۔ ان کا کہا حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی باتوں کو مسترد یا غلط قرار دینے والا توہین عدالت کا مرتکب بھی قرار پاسکتا ہے یا بدترین صورت میں اسے ملکی آئین کا ’غدار‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے عام طور سے چیف جسٹس صاحب جو فرما دیں، اسے سن لینے اور تدبر کی بات نہ کرنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے۔ بصورت دیگر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی باتوں پر یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی کا اجلاس نہ تو ان کا کمرہ عدلت ہے جہاں وہ ’ریمارکس‘ کے نام پر کوئی بھی بات کریں لیکن اس پر سوال کی گنجائش موجود نہ ہو۔
کیوں کہ ججوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ چبھتے ہوئے، پیچیدہ اور مشکل سوال کرکے کسی معاملہ کو سمجھنے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح کمرہ عدالت سے باہر کی جانے والے باتیں بھی اعلیٰ عدالت کا کوئی جج یا چیف جسٹس خواہ ذاتی حیثیت میں ہی کرے لیکن یہ جج کے آئینی کردار سے بالا نہیں ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس صاحب کو عدالت عظمیٰ کی سربراہی کا منصب نصیب ہؤا ہے لیکن ملک کی معیشت یا سیاست پر تبصرہ کرنا ان کے منصب کے شایان شان نہیں ہو سکتا۔
یہ درست ہے کہ اس ملک کے شہری کے طور پر ملک کا چیف جسٹس بھی سیاسی، معاشی، سماجی معاملات یا کھیلوں کے بارے میں رائے رکھ سکتا ہے لیکن اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی پبلک پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے منصب کی نزاکت کا خیال رکھے اور سیاسی معاملات کو زیر بحث لانے سے گریز کیا جائے۔ ملک کے کسی بھی عہدے پر فائز کسی شخص کو عقل کل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ عالم فاضل اور بصیرت سے مالا مال ہو سکتے ہیں لیکن اپنے عہدے کی وجہ سے ان سے لفظوں کو تول کر بولنے اور ایسے کسی اظہار سے گریز کی توقع کی جاتی ہے جس سے جانبداری یا ٹھوس سیاسی رائے دینے کا تاثر راسخ ہوتا ہو۔ بدنصیبی سے چیف جسٹس کی زیر بحث تقریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومت، معیشت دانوں اور کھلاڑیوں، سب کی کارکردگی سے مایوس ہیں بس عدلیہ کی کامیابی پر نازاں ہیں۔
اس تقریر میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’ٹی وی لگائیں تو پتہ ہوتا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال آئی سی یو میں ہے تو کبھی بتایا جاتا ہے کہ ملکی معیشت آئی سی یو سے باہر آ گئی ہے اور اب اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر چینل تبدیل کریں تو پارلیمان کا حال بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے وہاں کبھی قائد حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا جا رہا تو کبھی قائد ایوان کو تقریر کرنے نہیں دی جا رہی۔ اس مایوسی سے نکلنے کے لیے چینل تبدیل کر کے کرکٹ ورلڈ کپ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہاں سے بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں مایوس کن خبریں آتی ہیں‘ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے حالات میں اگر کسی ادارے کی جانب سے اچھی خبریں آ رہی ہیں تو وہ صرف عدلیہ ہے۔
عدلیہ کی طرف سے ان اچھی خبروں کے بارے میں بتاتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں قائم کی جانے والی ’ماڈل عدالتیں‘ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھنے کے باوجود چیف جسٹس یہ ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ جب بھی کسی ملک میں ایک ادارے کے اندر خصوصی انتظام کرنے کی ضرورت محسوس کی جائے گی تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ یہ ادارہ مجموعی طور پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ ماڈل عدالتوں میں چند ہزار مقدموں کے فیصلوں کو کامیابی قرار دینے سے پہلے چیف جسٹس صاحب کو سوچنا چاہیے کہ ملک کی عام سول اور فوجداری عدالتیں کیوں اسی طرح فعال نہیں ہیں اور انصاف فراہم کرنے سے کیوں قاصر ہیں۔
اسی طرح چیف جسٹس کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے کہ کہ ملک میں عدالتی نظام کے ہوتے ہوئے ’انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں‘ قائم کی گئی تھیں۔ جن عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ ہفتوں اور مہینوں میں ہونا چاہیے تھا، وہاں معاملات سال ہا سال تک طوالت کا شکار ہونے لگے۔ اس کا حل نکالنے کے لئے اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک میں ’فوجی عدالتیں‘ قائم کی گئیں۔ لیکن ملک کے چیف جسٹس سمیت کسی ذمہ دار کو یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ پہلے عام عدالتی نظام پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالتیں قائم ہوئیں، پھر ان پر فوجی عدالتوں کو مسلط کر کے اس متوازی نظام کو بھی ناکارہ سمجھ لیا گیا۔
گویا اصلاح کی ضرورت محسوس کرنے کی بجائے انصاف کا متوازی نظام ہی مسئلہ کا حل سمجھا گیا ہے۔ اب ماڈل عدالتوں کے ذریعے فوری انصاف کا اہتمام کیا جارہا ہے اور جسٹس کھوسہ اسے ملک کے دیگر شعبوں کے لئے مثال قرار دے رہے ہیں کیوں کہ یہاں چند ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس بات کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ملک کا عام عدالتی نظام کیوں کام کرنے میں ناکام ہو رہا ہے اور اس کی اصلاح کا کام کیا صرف پارلیمنٹ کی طرف سے مناسب قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے رکا ہؤا ہے۔ یا ججوں اور عدالتی نظم کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ عدالتوں کو بھی اس حوالے سے کوئی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔
تحصیل اور ضلع کی بنیاد پر کام کرنے والی عدالتوں اور ان کے طریقہ کار پر نگاہ ڈالیں تو روزانہ کی بنیاد پر انسانی المیہ کی ہزاروں داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ روزانہ لاکھوں انسان اس ناقص اور بدعنوانی سے داغدار نظام میں خوار ہوتے ہیں اور انسانیت کی تذلیل معمول بن چکا ہے۔ کبھی وکیل ججوں کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں اور کبھی جج غریب سوالیوں کو دھتکار کر اپنی اتھارٹی اور شان واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی خوش قسمت کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی خبر سوشل میڈیا یا کسی حادثاتی ویڈیو کے ذریعے عام ہوجائے تو ملک کے سیاسی اور عدالتی لیڈر فوری طور سے اس طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ایسا عدالتی نظام ہے جس کی سربراہی کرتے ہوئے آصف سعید کھوسہ دوسرے شعبوں پر تبصرہ کرنے میں فخر محسوس کر سکیں؟
سپریم کورٹ سے لے کر احتساب عدالتیں تک اس وقت ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو بدعنوانی کے الزامات میں جیلوں میں بند کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ کیا چیف جسٹس صاحب اس بات کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں کہ یہ ادارے خود ہر قسم کی ترغیب، تحریص، بدانتظامی اور کرپشن سے پاک ہیں؟ قومی احتساب بیورو اس وقت ملک سے ان مافیا گروہوں کا خاتمہ کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے جن کا جزوی ذکر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس میں اپنے فیصلہ میں کیا تھا۔ لیکن جب نیب کے چئیرمین کی کے بارے میں کوئی ناگفتہ بہ خبر سامنے آتی ہے تو ملک کا عدالتی نظام منہ دوسری طرف موڑ لیتا ہے۔
ہائی کورٹ کا ایک جج اگر عدالتی نظام پر نادیدہ دباؤ کی بات کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل اسے ’مس کنڈکٹ‘ کا مجرم قرار دے کر معزول کرنے میں تاخیر نہیں کرتی۔ اور جب حکومت دو ججوں کی اصول پرستی اور خود مختاری سے ناراض و ہراساں ہوکر ان کے خلاف ریفرنس دائر کرتی ہے اور ان کا چرچا بھی کرتی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل کو اس میں کوئی بے قاعدگی نظر نہیں آتی۔ بلکہ فوری طور سے ان ججوں کے خلاف چارج شیٹ کی سماعت بھی شروع کر دی جاتی ہے۔
جب سوال کیا جاتا ہے کہ اس سے پہلے دائر کی جانے والی شکایتوں کا کیا ہؤا؟ تو سپریم جوڈیشل کونسل ’اخفائے راز‘ کی پالیسی کو بھلا کر پریس ریلیز بھی جاری کردیتی ہے۔ کہ جوڈیشل کونسل نے 398 معاملات نمٹا دیے ہیں۔ اب صدارتی ریفرنس سمیت صرف 28 شکایات زیر غور ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس پر کارروائی سے پہلے اس سے قبل سامنے آنے والی شکایات پر کیوں غور نہیں کیا؟ یا مکمل پردہ داری رہنے دیں اور اتنا سچ بتانے کی زحمت بھی نہ کریں جو آپ کی پوزیشن کو محفوظ کرتا ہے۔ یا پھر سارا سچ سامنے لائیں۔
ملک میں بدعنوانی ایک ’موضوعی اصطلاح‘ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ جس کا استعمال حسب ضرورت کیا جاتا ہے۔ ورنہ پی سی او سے لے کر آئین شکنی اور حلف کی خلاف ورزی کے متعدد معاملات میں نظریہ ضرورت کے تحت عدالتوں کی مصلحت پسندی، بدعنوانی اور عہد سے روگردانی کی بدنما مثالیں موجود ہیں۔ جب تک ملک کی عدلیہ اس کربناک ماضی سے نجات حاصل کرنے کا اقدام نہیں کرتی اور جب تک ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو عدالت عظمی ٰ انصاف کا قتل تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہے گی، اس وقت تک عدالتوں کی کارکردگی کو انصاف عام کرنے کا ذریعہ سمجھنا محال ہو گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker